ملک کی اقتصادی ترقی سے متعلق چند فاروقی اقدامات
علی محمد الصلابیاسلامی سکے کا اجراء:
نقود اور سکے سونے و چاندی جیسے قیمتی معاون دھاتوں کے ہوتے تھے یہ ہر عام و خاص کی معاشرتی زندگی کا ایک ضروری وسیلہ ہے۔ خاص طور سے بین الاقوامی تعلقات میں اس کی اہمیت نمایاں ہوتی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب کہ اسلامی سلطنت کا قیام وجود میں آ چکا ہو، مسلمانوں کے ساتھ دیگر اقوام بھی اس میں رہنے لگیں، وہ اقوام اور ممالک اس کے پڑوسی بنے، جن کے پاس اپنا نظام اور تمدن تھا تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ وغیرہ خلفائے راشدینؓ اور امرائے مسلمین کے ادوار میں اسلامی سلطنت کو ان اقوام اور ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی ضرورت پڑی۔ بہرحال اس موضوع سے متعلق مجھے صرف ایک گوشہ پر بحث کرنی ہے اور وہ یہ ہے کہ نقود اور سکّوں کے اجراء سے متعلق اندرون ملک یا بیرونی سطح پر جنگ کے دوران میں حضرت عمر فاروقؓ نے کون سی تنظیمی اور اداری پالیسیاں وضع کیں۔
(الإدارۃ الإسلامیۃ فی عہد عمر بن الخطاب: صفحہ 364)
چنانچہ تاریخی مصادر اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ آپؓ نے قبل از اسلام اور عہد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و عہد صدیقی میں رائج نقود اور سکوں کے متبادل کو اصلی شکل میں باقی رکھا، ان سکوں پر ہرقل کے دور کے نقوش ہوتے تھے، اور ان نقوش میں ’’بیت النار‘‘ آگ والے گھرکی تصویر بنا کر اس پر مسیحی یا کسروی مہر لگی ہوتی تھی آپؓ نے ان سکوں کے لیے عہد نبوی اور عہد صدیقی کے سرکاری معیار کو برقرار رکھا۔ صرف آپؓ نے ان پر ’’جائز‘‘ کا کلمہ لکھوا دیا تاکہ کھرے کھوٹے سکّوں کی تمیز ہو سکے۔
(الإدارۃ الإسلامیۃ فی عہد عمر بن الخطاب: صفحہ 366)
اس طرح گویا جس نے اسلام میں سب سے پہلے شرعی درہم کو رواج دیا اور بیرونی سطح پر درہم و دینار کو سکوں کی شکل میں نافذ کیا وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہیں۔ علامہ ماوردی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے اسلامی درہم کی مقدار کو متعین کیا۔‘‘
(الاحکام السلطانیۃ: صفحہ 147)
علامہ مقریزی لکھتے ہیں:
’’حضرت عمر بن خطابؓ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے 18ھ میں کسروی نقش پر مشتمل سکوں کو اسلام میں رائج کیا اور ان سکوں میں بعض پر کلمہ ’’الحمد للہ‘‘ اور بعض پر ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ اور کچھ سکوں پر خلیفہ وقت کے نام ’’عمر‘‘ کا اضافہ کردیا۔‘‘
(شذور العقود فی ذکر النقود: صفحہ 31، 33)
چنانچہ آپؓ کے اس اقدام کے پیش نظر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ آپؓ نے اپنے دورِ خلافت میں مسلمانوں اور دیگر تمام اقوام کی ضروریاتِ زندگی کے متعدد وسائل میں سے ایک اہم وسیلہ کو خاص شکل میں منظم کیا اور پھر تہذیب و تمدن کی ترقی کے ساتھ دوش بدوش چلتے ہوئے بعد کے خلفائے راشدینؓ اور دیگر مسلم حکمرانوں نے آپؓ کے طریقہ کار کی پیروی کی۔
(الإدارۃ العسکریۃ فی عہد عمر: صفحہ 367)