عمرو بن العاصؓ احمق اور گھریلو گدھے سے بھی گمراہ تر تھا۔ (الطاعون)
مولانا ابوالحسن ہزارویعمرو بن العاصؓ احمق اور گھریلو گدھے سے بھی گمراہ تر تھا۔ (الطاعون)
الجواب اہلسنّت
محترم حضرات اسی کتاب الطاعون کے عکسی صفحہ 42 کے سطر نمبر 17 ذرا آنکھیں کھول کر پڑھ لیں اور جان لیں کہ دیانت و امانت کا خون کرنے والے عاقبت نا اندیشوں کی آخرت کیسی خراب ہو گی۔
وایضاً اقوال و افعال صحابہ کے اگر بدرجہ صحت پہنچیں تب بھی معارضہ کلام ربانی و کلام محبوب سبحانی کا نہیں کر سکتے لہٰذا صاحب نووی نے بعد نقل روایاتِ ضعیفہ کے کہا *الصحیح ما قدمناہ* (عکسی صفحہ) یعنی صاحب کتاب نے اوپر ایسی روایات ذکر کی ہیں جو ضعیف موضوع اور من گھڑت ہیں پھر اُن کو نقل کر کے ان کا رد کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ تو ضعیف روایات اور اقوال صحابہ وغیرہ ہیں۔ اگر سند صحیح کے ساتھ بھی منقول ہوتے تو وہ کتاب اللّٰه اور سنت رسول کے مقابل ہونے کی وجہ سے قابلِ قبول نا ہوتے۔ حالانکہ یہاں پر منقول اقوال ضعیف ہیں۔ اب آپ ہی غور فرمائیں کتاب والا جس چیز کی نفی کر رہا ہے اور جن روایات کو نقل کر کے ان کا ضعیف ہونا واضح کر رہا ہے شیعہ لوگ اسی کو ثابت قرار دے کر الزام دے رہے ہیں۔
محترم حضرات ! یہ ہے دیانتداری اور تلاشِ حق کا طریقہ ! جو آپ حضرات نے ملاحظہ فرما لیا۔ ایک کم علم طالب علم بھی اس بات کو اچھی طرح سے سمجھ سکتا ہے کہ ان روایات کو نقل کرنے کا مقصد ان کا موضوع اور ضعیف ہونا ظاہر کرنا ہے اور یہ سب وضاحت ایک ہی صفحہ پر لکھی ہوئی موجود ہے مگر جان بوجھ کر اور سمجھ بوجھ حاصل ہوجانے کے بعد پھر بھی حق بات کو جھوٹ اور جھوٹ کو حق بات بنا کر پیش کرنے کی جسارت کرتے ہیں۔ غلط فہمی سے کوئی بات کہہ دینا قابلِ عذر ہو سکتا ہے مگر جو جان بوجھ کر حق بات سے منہ موڑے اور جھوٹی باتوں کو کسی کے مذہب کی طرف منسوب کرے وہ اُن ہی لوگوں کا وارث ہے جِن کے بارے میں اللّٰه تعالٰی فرماتا ہے:
*یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْؕ-* (البقرہ آیت 146)
کہ وہ اہلِ کتاب آپ کو (بحیثیت نبی) ایسے پہچانتے ہیں۔
جیسے کہ وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ یعنی ان اہلِ کتاب کا حق سے منہ موڑ لینا اس وجہ سے نہیں کہ وہ آپ کو جانتے پہچانتے نہیں اور حق بات اُن کے سامنے واضح نہیں ہوئی بلکہ سب کُچھ ان کے سامنے بالکل واضح ہے مگر وہ جان بوجھ کر حسد کے مرض میں مبتلا ہونے کی وجہ سے حق بات نہیں مانتے، ان حقائق کو دیکھ کر بالکل وہی نقشہ ذہن میں تازہ ہو جاتا ہے کہ ان مریضانِ حسد تحقیقی دستاویز والوں کا مذہب حق سے منہ موڑنا اِس وجہ سے نہیں کہ انہیں یہ پتہ نہیں چلا کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے کیونکہ تاریخی دستاویز کی ضرب کاری نے آدھ موا کر دیا۔ اب بےچارے یہ تو نہ کر سکے کہ وہ اس کا جواب دیتے یا الزام کو قبول کر لیتے ہاں البتہ یہ شاطرانہ طریقہ اختیار کر ڈالا کہ یہ گندے عقیدے تو تمہاری کتابوں میں بھی ہیں پھر عکسی صفحات جو پیش کیے تو وہ اعتراض اور الزام اہلسنت پر لوٹے جِس کو وہ نقل کر کے رد کر رہے تھے۔ اب مذکورہ صفحہ کو ہی دیکھ لیجیے۔ کتاب والا تو وہ روایات جو شیعہ، خارجی اور دہریہ لوگوں نے گھڑ گھڑ کے تاریخ و غیر تاریخی کتابوں میں داخل کر دی تھیں انہیں نقل کر کے رد کر رہا ہے کہ یہ قرآن و حدیث کا مقابلہ نہیں کر سکتیں لہٰذا مردود ہیں لیکن انہی روایات کو جن کو وہ مردود بتا رہے تھے نقل کر کے الزام تھوپ دیا کہ دیکھو تمہاری کتاب میں بھی یہ گندا عقیدہ لکھا ہوا موجود ہے۔ ہم جواباً عرض کرتے ہیں یہ ایسے ہی لکھا ہوا ہے جیسے قرآن پاک میں فرعون، ہامان، قارون، ابولہب وغیرہ کا نام لِکھا ہوا ہے۔ جب ان کے نام قرآن میں ہونے کے باوجود حق پر نہیں اسی طرح یہ جھوٹی روایات جِن کے رد کرنے کے لیے انہیں نقل کیا گیا ہے وہ سنیوں کی کتابوں میں ہونے کے باوجود مردود اور ناقابلِ اعتبار ہیں۔