محکمۂ عدل
علی محمد الصلابیسیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت میں جب اسلام دور دور تک پھیل گیا، اسلامی سلطنت کا دائرہ کافی وسیع ہو گیا اور دیگر اقوام سے مسلمانوں کے تعلقات و مراسم پیدا ہو گئے تو جدید تمدنی احوال و ظروف اس بات کے متقاضی ہوئے کہ محکمۂ عدل کو ترقی دی جائے۔ چونکہ خلیفہ کی مشغولیات میں کثرت، ریاستی سطح پر سرکاری حکام و گورنران کے کاموں میں تنوع اور عوام کے باہمی نزاع و اختلافات میں اضافہ ہو چکا تھا، اس لیے حضرت عمرؓ نے مناسب سمجھا کہ ریاستوں اور ان سے متعلق محکموں کو ایک دوسرے سے جدا کر کے عدل و قضاء کے لیے مستقل ایک محکمہ قائم کریں، تاکہ گورنر حضرات اپنی ریاستی ذمہ داریوں کو بخوبی ادا کر سکیں۔ چنانچہ پھر محکمۂ عدل کا قیام ہوا، اور اس کے لیے مستقل قاضی و جج حضرات مقرر کیے گئے، ان کا ریاست کے دیگر حکومتی و اداری امور سے کوئی تعلق نہ ہوتا تھا اس طرح حضرت عمرؓ کو محکمۂ عدل کے قیام میں اولیت حاصل ہوئی۔ کوفہ، بصرہ، شام، اور مصر جیسے بڑے بڑے اسلامی شہروں میں قاضیوں کی تعیین ہوئی، خواہ منصب قضاء پر قاضی کی تعیین براہِ راست خلیفہ کی طرف سے ہوئی ہو یا صوبائی گورنر نے آپ کی نیابت کرتے ہوئے اسے مقرر کیا ہو اور پھر محکمۂ عدل حکومت اسلامیہ سے براہِ راست تعلق رکھنے والا ایک ذیلی محکمہ قرار دیا گیا۔
بہرحال سیدنا عمرؓ کا یہ عمل اس بات کی دلیل ہے کہ اسلامی قیادت کے تمام تر جواہر آپؓ کی شخصیت میں موجود تھے اور ملک، ملکی دائرہ اقتدار و ملکی معاملات کی تنظیم و ترتیب نیز ان کے لیے اصول سازی و ضابطہ بندی سے آپؓ کی شخصیت عاجز نہ تھی۔
یورپ نے اٹھارویں صدی عیسوی میں ملکی و بین الاقوامی حکومتوں کے لیے ایک نظری نظامِ عدل و انصاف پیش کر کے یہ سمجھ لیا کہ حکومتوں کی تنظیم اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ میں اسے تمام شریعتوں اور حکومتوں پر سبقت حاصل ہے، جیسے کہ یورپی یونین مونٹسکو نے متعدد مذاہب کے نظام عدل و انصاف پر تبصرہ کرتے ہوئے اس کا اظہار کیا تھا، لیکن یورپ کے اس نظری نظام عدل کو مکمل ایک صدی گزر جانے کے بعد انیسویں صدی کے آغاز میں یعنی انقلاب فرانس کے بعد عملی جامہ پہنایا گیا۔
جب کہ اسلام نے آج سے چودہ سو سال پہلے اس نظام قضاء و محکمہ عدل کو عملاً نافذ کیا اور اسے اپنے نظامِ حکومت کا ایک بنیادی باب قرار دیا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کا مبلغ و داعی بنا کر بھیجا تو آپﷺ نے ان سے پوچھا: بِمَ تَقْضِیْ یَا مَعَاذُ؟ یعنی اے معاذ تم کیسے فیصلہ کرو گے؟ حضرت معاذؓ نے جواب میں عرض کیا: اللہ کی کتاب سے، اگر اس میں نہ ملا تو سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے، اور اگر اس میں بھی نہ ملا تو اپنے اجتہاد و صواب دید سے، اور اس میں کوئی جھجک محسوس نہیں کریں گے۔ نبی کریمﷺ نے یہ سن کر حضرت معاذؓ کو اجازت دے دی۔
(نطام الحکم فی الشریعۃ الإسلامیۃ والتاریخ الإسلامی: جلد 2 صفحہ 53۔ لیکن یہ روایت ضعیف ہے۔)
خلاصہ کلام یہ کہ سیدنا عمر فاروقؓ نے محکمۂ عدل اور اس کے لوازمات کو ترقی دی اور آپؓ کے دورِ حکومت میں دیگر حکومتی اداروں سے محکمۂ عدل کو الگ کر لینے اور اسے مستقل ادارہ تسلیم کر لینے سے لوگوں کی زندگی میں اس کا واضح اثر نظر آنے لگا۔ ملحوظ رہے کہ آپؓ نے محکمۂ عدل کو مستقل حکومتی ادارہ تسلیم تو ضرور کیا لیکن ایسا نہیں ہوا کہ اس کے ذمہ داروں سے بعض معاملات میں تفصیل نہ طلب کی ہو۔ بلکہ اپنے بعض گورنروں کو انتظامی اختیارات دینے کے ساتھ ساتھ انہیں منصب قضاء پر بھی فائز رکھا اور عدالتی معاملات میں ان سے خط و کتابت کرتے رہے۔ چنانچہ مغیرہ بن شعبہؓ کے بصرہ، پھر کوفہ پر گورنر ہوتے ہوئے ان سے قضاء کے بارے میں خط و کتابت کی، اور شام پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے گورنر ہوتے ہوئے ان سے قضا کے چند نزاعی معاملات میں مراسلت کی اسی طرح ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے بھی بعض عدالتی معاملات میں خط و کتابت کی مرکزی حکومت کی طرف سے جو شخص ریاست کا قاضی مقرر کیا جاتا تھا وہ پوری ریاست کا قاضی ہوتا تھا، خواہ اسے خلیفہ نے بذات خود مقرر کیا ہو یا خلیفہ کے حکم سے ریاستی گورنر نے مقرر کیا ہو۔ اس قاضی کا مرکزی دفتر ریاست کی راجدھانی میں ہوا کرتا تھا اور تمام نزاعی معاملات و عدالتی اختیارات اس کے ہاتھوں میں ہوتے تھے۔
(القضاء فی الإسلام: عطیہ مصطفیٰ: صفحہ 77، اس ادارہ کو موجودہ دور کی اصطلاح میں ہائی کورٹ کہا جاتا ہے)
اسلامی دارالحکومت کے علاوہ کوفہ و مصر جیسی دیگر بڑی بڑی اسلامی ریاستوں میں بھی عموماً عدل و انصاف کے محکمہ کو دیگر حکومتی اداروں سے الگ کر دیا گیا تھا، جب کہ بعض ریاستوں میں ان کے حکام کو دیگر ملکی اداروں کے ساتھ محکمۂ عدل کو بھی دیکھنا پڑتا تھا، لیکن یہ اس حالت میں تھا کہ جب منصب قضاء ریاست کے دیگر امور کی انجام دہی میں اس کے لیے مانع نہ ہوتا تھا، محکمۂ عدل و قضاء سے متعلق گورنروں سے آپؓ کی جو مراسلت تھی وہ اسی نوعیت کی تھی بسا اوقات مدینۃ النبیﷺ میں آپؓ کے مقرر کردہ قاضی موجود ہوتے لیکن آپؓ خود ہی فیصلہ دیتے اور قاضی کا کام کرتے۔
(النظام القضائی فی العہد النبوی والخلافۃ الراشدۃ: القطان: صفحہ 47)
آپؓ نے اپنے عہد خلافت میں جن لوگوں کو محکمۂ عدل میں صرف منصب قضا کے لیے خاص کیا تھا ان کے نام یہ ہیں: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ: آپؓ نے انہیں کوفہ کا قاضی مقرر کیا تھا۔ قتادہ رحمہ اللہ ابومجلز سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کو کوفہ والوں کا امام مقرر کیا وہ انہیں نماز پڑھاتے تھے اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو بیت المال کا نگران اور محکمۂ عدل کا قاضی مقرر کیا تھا۔
(أخبار القضاء: وکیع: جلد 2 صفحہ 188 )
حضرت سلمان بن ربیعہ رضی اللہ عنہ: آپؓ نے ان کو بصرہ اور پھر قادسیہ کا قاضی مقرر کیا تھا۔
قیس بن ابو العاص القرشی رضی اللہ عنہ: آپؓ کے دور میں یہ مصر کے منصب قضاء پر فائز کیے گئے
اور وہ لوگ جنہیں ریاست کی گورنری کے ساتھ منصب قضاء بھی سنبھالنا تھا ان کے نام یہ ہیں:
حضرت نافع الخزاعی رضی اللہ عنہ: مکہ مکرمہ کے گورنر حافظ ابن عبد البرؒ نے لکھا ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ نے ان کو مکہ کا گورنر مقرر کیا تھا، اس وقت مکہ میں قریش کے اکابرین موجود تھے۔ پھر ان کو معزول کر کے حضرت خالد بن عاص بن ہشام بن مغیرہ مخزومی رضی اللہ عنہ کو وہاں کا امیر مقرر کر دیا۔
(النظام القضائی فی العہد النبوی: صفحہ 49)
حضرت یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ: صنعاء کے گورنر تھے۔
حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ: طائف کے گورنر تھے۔
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ: کوفہ کے گورنر تھے۔
حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہما: شام کے گورنر تھے۔
حضرت عثمان بن ابو العاص ثقفی رضی اللہ عنہ: بحرین و عمان کے گورنر تھے۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ: بصرہ کے گورنر تھے۔
حضرت عمیر بن سعد رضی اللہ عنہ: حمص کے گورنر تھے۔
مذکورہ افراد میں سے کچھ کو آپ نے ریاست کی گورنری کے ساتھ منصب قضاء پر برقرار رکھا، جیسے کہ سیدنا معاویہؓ کے ساتھ آپؓ نے کیا، اور کچھ لوگوں کے اختیارات کو صرف گورنری تک محدود رکھا اور محکمہ قضاء سے ان کو دور رکھا، جیسے کہ مغویہ اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کے ساتھ کیا۔
مدینہ نبویہ میں آپؓ کی طرف سے جن لوگوں کو منصب قضاء پر فائز کیا گیا تھا وہ ہیں:
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ۔ چنانچہ نافع روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے زید بن ثابتؓ کو ’’قضاء‘‘ کے منصب پر فائز کیا اور ان کی تنخواہ مقر رکی۔
(أخبار القضاء: وکیع: جلد 1 صفحہ 108)
اور تیسرے فرد ہیں: حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ
(وقائع ندوۃ النظم الإسلامیۃ فی أبی ظبی: جلد 1 صفحہ 375)