Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

قاضیوں کے نام سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے چند اہم خطوط

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عدلیہ و نظام قضاء کے لیے نہایت اعلیٰ و صاف دستور بنایا، فقہ اسلامی پر گہری نظر رکھنے والے بہت سارے مشاہیر نے اس دستور کی توضیح و تشریح کی ہے۔ عدلیہ سے متعلق فاروقی دستور ہمیں حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کے نام بھیجے گئے آپ کے خط میں صاف نظر آتا ہے۔ وہ خط یہ تھا:

 بسم اللہ الرحمن الرحیم 

عبداللہ عمر بن خطاب امیر المؤمنین کی طرف سے عبداللہ بن قیس ابوموسیٰ اشعری کے نام!

سلام علیک

 اما بعد:

واضح ہو کہ مقدمات کا فیصلہ ایک فریضہ ہے، اور ایک سنت ہے جس کی پیروی ہوتی رہی ہے جب کوئی مقدمہ تمہارے پاس آئے تو اس کے تمام پہلوؤں کو اچھی طرح سمجھو، اور جب صحیح فیصلہ پر پہنچ جاؤ تو اسے نافذ بھی کرو کیونکہ زبانی فیصلہ بے سود ہے، جب تک اسے نافذ نہ کیا جائے۔ مدعی اور مدعا علیہ کے ساتھ ایک سا برتاؤ کرو کسی فریق سے پاس بٹھانے، التفات دکھانے، یا انصاف کرنے میں کوئی امتیاز نہ برتو، تاکہ بااثر آدمی یہ توقع نہ کرے کہ تم اس کے ساتھ رعایت کرو گے، اور غریب کو یہ اندیشہ نہ ہو کہ اس کے ساتھ بے انصافی سے پیش آؤ گے۔ مدعی سے گواہ مانگے جائیں اور مدعا علیہ سے قسم لی جائے۔ مسلمانوں کے درمیان صلح جائز ہے بشرطیکہ اس سے قرآن کا کوئی قانون نہ ٹوٹے، اگر آج تم کوئی فیصلہ کرو اور بعد میں غور و خوض کر کے صحیح فیصلہ تمہاری سمجھ میں آ جائے تو پہلا فیصلہ حق کو قبول کرنے سے مانع نہ ہو، اس لیے کہ حق ازلی ہے اور اس کی طرف رجوع کرنا غلطی پر اڑے رہنے سے بہتر ہے، جو معاملہ قضیہ تمہارے دل میں خلش پیدا کیے ہوئے ہو اور کتاب و سنت میں اس کا حل نہ ملے، اس پر خوب خوب غور و فکر کرو، اشباہ و نظائر کو تلاش کرو اور اس جیسے مسائل کو قیاس کرو اور جس کے بارے میں تم سمجھو کہ انصاف سے قریب تر ہے اور اللہ کو سب سے زیادہ پسند بھی، اسے اختیار کر لو۔ کوئی شخص اگر اپنا دعویٰ ثابت کرنے یا گواہ فراہم کرنے کے لیے مہلت مانگے تو اسے مہلت دے دو اور اگر میعاد مقررہ میں وہ گواہ پیش کر دے تو اس کا حق دلوا دو، ورنہ اس کے خلاف فیصلہ کرو، یہ بہترین طریقہ کار ہے جس سے فریقین کی نظر میں نہ تو تمہاری غیر جانبداری مشتبہ ہو گی اور نہ انہیں تمہارے فیصلہ پر اعتراض کا موقع رہے گا۔ ہر مسلمان کو گواہی دینے کا حق ہے، الا یہ کہ کسی سنگین جرم میں کوڑوں کی سزا بھگت چکا ہو، یا جھوٹی شہادت کے لیے بدنام ہو، اگر آزاد کردہ غلام ہے تو اس پر غلط آقا کی طرف خود کو منسوب کرنے یا آزاد ہے تو غلط حسب نسب بتانے کا الزام ہو۔ تمہاری چھپی بد اعمالیوں کی سزا کا معاملہ اللہ کے ہاتھ ہے، دنیا میں قانونی سزا سے بچنے کے لیے اس نے گواہی اور حلف قسم کو ضروری قرار دیا ہے۔ خبردار! انصاف انعام الہٰی اور اچھی شہرت کا مؤجب ہے، تمہارے دل میں اہل مقدمہ سے اکتاہٹ، خفگی یا چڑچڑاپن پیدا نہ ہو، اور نہ برحق فیصلہ کرنے میں کہ جس سے اجر ملتا ہے اور ناموری حاصل ہوتی ہے، فریقین کے ساتھ بدمزاجی سے پیش آؤ، کیونکہ جو شخص اپنے معاملات میں سچا اور مخلص ہوتا ہے اللہ لوگوں سے اس کے معاملات کے لیے کافی ہوتا ہے اور جو لوگوں کے سامنے ریا کرتا ہے اللہ اسے ذلیل و رسوا کر دیتا ہے، جب وہ خلوص پر آخرت میں اجر دیتا ہے تو یہاں دنیا میں کیوں نہ دے گا، رزق و رحمت کے خزانے یہاں بھی اللہ مخلص لوگوں پر کھول دیتا ہے۔ والسلام‘‘

(أعلام الموقعین: ابن القیم: جلد 1 صفحہ 85)

آپؓ کا یہ مثالی و حیرت انگیز خط قضاء کے آداب اور فیصلہ کے زرّیں اصولوں کو سمیٹے ہوئے ہے اور کئی صدیاں گزر جانے کے بعد بھی آج تک علمائے کرام ان عدالتی اصولوں کی تشریح و تعلیق میں لگے ہوئے ہیں۔ ہر وہ شخص جو اس فاروقی دستور عدل کو پڑھتا ہے اس کے لیے اب بھی یہ چیز نہایت حیرت انگیز اور فکری وجود کو جھنجھوڑنے والی ثابت ہوتی ہے۔ اس خط کے علاوہ اگر آپ کے دیگر حکیمانہ اقوال و نقوش نہ بھی ہوتے تو آپؓ کا شمار دنیا کے عظیم ترین مفکرین اور قانون دانوں میں ہوتا۔ اگر آج کے اس دور میں جب کہ فیصلہ و عدلیہ کے اصول و ضوابط عام ہو چکے ہیں اور اسکولوں و کالجوں میں طلبہ اسے پڑھتے اور یاد کرتے ہیں، صدر مملکت یا وزیراعظم اگر اس طرح کا کوئی ضابطہ تحریر کرے تو وہ سب سے بڑا قانون دان شمار ہونے لگے گا، پھر بھلا اس حضرت عمرؓ کی قانون دانی کا کیا کہنا، جس نے آج سے چودہ صدیاں پیشتر نظام عدل میں تحریر کیا۔ انہوں نے اسے کسی کتاب سے نقل نہیں کیا تھا اور نہ کسی استاد سے پڑھا تھا بلکہ یہ خود آپؓ کے اجتہاد اور ذہنی کاوش کا نتیجہ تھا اور یہ دستور کیا تھا کہ دراصل دار ارقم میں نبی کریمﷺ کے سامنے کلمہ توحید یعنی اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ۔ کا آپ نے جو برملا اقرار کیا اور دست نبویﷺ سے جس بابرکت درخت اسلام کی آپؓ کے دل میں شجر کاری ہوئی تھی اس کے ہزاروں پھلوں میں سے ایک حیات بخش پھل تھا۔ 

(أخبار عمر: صفحہ 174)

نظامِ قضاء میں آپؓ کے اس خط کی بھی کافی اہمیت ہے جسے آپؓ نے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے نام تحریر کیا تھا، وہ یہ تھا:

اما بعد!

میں تمہیں یہ خط لکھ رہا ہوں، اس میں اپنی اور تمہاری بھلائی کی میں نے حتیٰ الامکان کوشش کی ہے۔ پانچ اصولوں پر کاربند رہو، تمہارا دین سلامت رہے گا اور بہترین خوش نصیبی حاصل کرو گے۔ جب دو آدمی اپنا قضیہ لے کر آئیں تو مدعی سے گواہ عادل طلب کرو، اور مدعا علیہ سے قطعی حلف لو، غریب کے ساتھ ہمدردی سے پیش آؤ، تاکہ اس کی زبان کھلے اور ہمت بڑھے، پردیسی کا خیال رکھو، کیونکہ اگر بہت دنوں تک اسے رکنا پڑا تو وہ اپنا حق چھوڑ کر وطن لوٹ جائے گا، اور اس کی حق تلفی کی ذمہ داری اس شخص پر ہوگی یعنی تم پر جو اس کے ساتھ بے اعتنائی سے پیش آیا۔ مدعا اور مدعی علیہ کو ایک نظر سے دیکھو، جب تک تمہیں صحیح فیصلہ نہ سوجھے فریقین میں سمجھوتہ کرانے کی ہر ممکن کوشش کرو۔‘‘ 

(مجموعۃ الوثائق السیاسیۃ: صفحہ 438، نیز دیکھئے: الخراج: أبو یوسف: صفحہ 117 م: 1913ء مصر)

نیز الفاظ میں معمولی اختلاف کے ساتھ بالکل ایسا ہی خط معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے نام لکھا:

’’اما بعد! فیصلہ سے متعلق میں تمہیں یہ خط لکھ رہا ہوں، اس میں اپنی اور تمہاری بھلائی کی میں نے پوری کوشش کی ہے، پانچ اصولوں پر کاربند رہو، تمہارا دین سلامت رہے گا اور اس میں تمہیں خوش نصیبی بھی حاصل ہو گی، جب تمہارے پاس جھگڑے کے دونوں فریق آئیں تو مدعی سے مبنی برصداقت دلیل، اور مدعا علیہ سے قطعی حلف لو، اور کمزور کے ساتھ ہمدردی سے پیش آؤ تاکہ اس کی ہمت بندھے اور زبان کھلے، پردیسی کا خاص خیال رکھو ورنہ وہ اپنا حق چھوڑ کر اپنے وطن چلا جائے گا پھر اس کا حق مارنے والا وہی ہو گا جس نے اس سے بے اعتنائی کی، مدعی و مدعا علیہ کو ایک نظر سے دیکھو، اور دونوں کے ساتھ یکساں سلوک کرو، اور جب تک تمہیں صحیح فیصلہ نہ سوجھے فریقین میں صلح کرانے کی ہر ممکن کوشش کرو۔‘‘ 

(البیان و التبیین: جلد 2 صفحہ 150)

اور قاضی شریح کے نام اجتہاد کے بارے میں لکھا:

’’جب تمہارے پاس کوئی قضیہ آئے تو کتاب الہٰی کے مطابق اس کا فیصلہ کرو، پس اگر ایسا معاملہ ہو جس کا فیصلہ کتاب الہٰی میں نہ ہو تو سنت رسول اللہﷺ سے اس کا فیصلہ کرو اور اگر ایسا معاملہ آ جائے جو ان دونوں میں نہ ملے اور نہ کسی صحابی نے اس میں کوئی بات کہی ہو تو دو باتوں میں سے جو مناسب سمجھو کرو۔‘‘

دوسری روایت میں ہے کہ:

’’اگر تم مناسب سمجھو تو اجتہاد کر کے اپنی صواب دید پر عمل کرو اور اگر فیصلہ مؤخر کر سکتے ہو تو مؤخر کرو، مؤخر کرنے ہی کو میں تمہارے لیے بہتر سمجھتا ہوں۔‘‘ 

(جامع بیان العلم و فضلہ: جلد 2 صفحہ 70)

سیدنا عمرؓ کے عہد خلافت کی سیاسی و اجتہادی زندگی اور آپؓ کے سرکاری خطوط سے محکمۂ عدل و قضاء سے متعلق یہ نتیجہ اخذ کرنا چنداں مشکل نہیں کہ قاضیوں کی تنخواہ کا معیار کیا ہو؟ کن وجوہات کی بنا پر ان کو معزول کیا جائے؟ ان کی کتنی قسمیں ہوتی ہیں؟ ان کے اوصاف و فرائض کیا ہیں؟ وہ کن مصادر اور اصولوں کو بنیاد بنا کر فیصلہ دیں گے؟ نیز یہ کہ عدلیہ سے متعلق فیصلہ کے علاوہ دیگر معاملات میں خلیفۂ وقت پر ضروری ہے کہ قاضی کے فیصلہ کو تسلیم کرے۔