غیر مسلم لیڈروں کے لئے ایصالِ ثواب اور استغفار کرنا
سوال: کئی عرصہ سے ٹی وی پر دیکھا جا رہا ہے کہ ہر بڑے غیر مسلم لیڈر کی برسی کے موقع پر دیگر قوموں کے مذہبی پیشواؤں کی طرح ہمارے علمائے دین بھی ان کے ایصالِ ثواب کے لئے غیر اسلامی ماحول میں ناپاک مقام پر قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں۔ کیا یہ عمل شرعی اعتبار سے جائز ہے؟
جواب: غیر مسلم لوگوں کے لئے قرآن مجید کی تلاوت یا کسی اور طریقہ پر ایصالِ ثواب کرنا جائز نہیں ۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
مَا كَانَ لِلنَّبِىِّ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡاۤ اَنۡ يَّسۡتَغۡفِرُوۡا لِلۡمُشۡرِكِيۡنَ وَ لَوۡ كَانُوۡۤا اُولِىۡ قُرۡبٰى مِنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمۡ اَنَّهُمۡ اَصۡحٰبُ الۡجَحِيۡمِ ۞ (سورة التوبہ آیت 113)
ترجمہ: یہ بات نہ تو نبیﷺ کو زیب دیتی ہے اور نہ دوسرے مؤمنوں کو کہ وہ مشرکین کے لئے مغفرت کی دعا کریں، چاہے وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں، جبکہ ان پر یہ بات پوری طرح واضح ہو چکی ہے کہ وہ دوزخی لوگ ہیں۔
اس لئے ماحول کے اسلامی اور غیر اسلامی ہونے اور جگہ کے پاک یا ناپاک ہونے سے قطع نظر بذاتِ خود غیر مسلموں کے لئے استغفار اور ایصالِ ثواب جائز نہیں۔ ایسا کرنے والے لوگ گناہ کا ارتکاب کر رہے ہیں، اور قرآن مجید کے حکم کی نافرمانی کا عذاب اپنے اوپر لے رہے ہیں۔
(کتاب الفتاویٰ آٹھواں حصہ، صفحہ 295)