قاضیوں کی تقرری ان کی تنخواہیں اور عدالتی دائرہ کار
علی محمد الصلابی1۔ قاضیوں کی تقرری:
بنیادی طور پر قاضی کی تقرری کا اختیار خلیفہ کو ہوتا ہے جیسے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے شریح کو کوفہ کا قاضی مقرر کیا تھا، یا والی ریاست قاضی کی تقرری کرتا ہے بشرطیکہ خلیفہ نے اسے اختیار دیا ہو جیسے کہ والی مصر عمرو بن عاصؓ نے عثمان بن قیس بن ابو العاصؓ کو مصر کا قاضی مقرر کیا تھا، بہرحال قاضی کی تعیین کا حق خلیفہ ہی کو ہے خواہ بذات خود مقرر کرے یا اپنے گورنر کو یہ اختیار سونپ دے۔ قاضیوں کی تقرری خلیفہ کے حق میں اس بات سے مانع نہیں ہے کہ خلیفہ خود اس منصب کے حقوق کو ادا نہیں کر سکتا، کیونکہ منصفی اس کے اختیار میں ہے اور وہ دوسرے کو اپنی صواب دید پر اس کا ذمہ دار بناتا ہے، پس منصفی کا پہلا حق اسی کو ہے، اور دوسرا کوئی بھی شخص اس وقت تک قاضی اور منصف نہیں کہا جاسکتا جب تک کہ خلیفہ خود یا اپنے گورنر کے ذریعہ سے اس کو منصب قضاء پر فائز نہ کر دے۔
(النظام القضائی: مناع القطان: صفحہ 72، 73 )
خلیفہ کے لیے یہ جائز ہے کہ قاضی و منصف کو معقول اسباب کی بنا پر اس کے عہدہ سے معزول کر دے، مثلاً قاضی کے اندر درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت ختم ہو جائے یا اس کے خلاف ایسے ثبوت فراہم ہو جائیں جو اس کی عدالتی کار گزاریوں پر سوالیہ نشان لگاتے ہوں۔ بہرحال اگر کوئی معقول وجہ نہ ہو تو خلیفہ کو چاہیے کہ اسے معزول نہ کرے اس لیے کہ قاضی کا تعین مسلمانوں کے مفاد و مصلحت کے لیے ہوتا ہے، لہٰذا جب تک ان مفادات کا حصول ہو رہا ہو اسے منصب قضاء پر باقی رکھنے ہی میں بھلائی ہے۔
(مغنی المحتاج: جلد 4 صفحہ 382، النظام القضائی: صفحہ 77)
بہرحال سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی صواب دید پر بعض قاضیوں منصفوں کو معزول کر کے دوسروں کو ان کی جگہ پر مقرر کیا۔
( النظام القضائی: صفحہ 77)
مثلاً ابو مریم حنفی میں کچھ کمزوریاں اور کوتاہیاں دیکھیں تو انہیں معزول کر دیا۔
2۔ قاضیوں کی تنخواہیں:
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے گورنروں کو نصیحت کرتے تھے کہ منصب قضاء کے لیے صالح افراد کا انتخاب کریں، اور ان کی ضرورت بھر ان کو تنخواہیں دیں۔
(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 143)
چنانچہ ابو عبیدہ اور معاذ رضی اللہ عنہما کے نام آپؓ نے خط لکھا:
’’نیک لوگوں پر نگاہ رکھو، انہیں منصب قضاء پر فائز کرو اور ان کی تنخواہیں دو۔‘‘
(النظام القضائی: صفحہ 76 )
ڈاکٹر اکرم ضیاء العمری نے عہد فاروقی کے چند قاضیوں کی تنخواہوں کو اس طرح ذکر کیا ہے:
’’آپؓ نے سلمان بن ربیعہ الباہلی رضی اللہ عنہ بصرہ کی تنخواہ پانچ سو 500 درہم ماہانہ اور قاضی شریح کوفہ کی سو 100 درہم ماہانہ جب کہ عبداللہ بن مسعود ہذلی رضی اللہ عنہ کوفہ کی سو 100 درہم ماہانہ مزید 4/1 حصہ بکری کا گوشت روزانہ مقرر کیا تھا اور مصر کے قاضیوں میں عثمان بن قیس بن ابوالعاص رضہ اللہ عنھما کی تنخواہ دو سو 200 دینار، نیز قیس بن ابوالعاص سہمی کے لیے برائے ضیافت و مہمان نوازی دو سو 200 دینار ماہانہ مقرر کیا۔‘‘
(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 159)
3۔ قاضیوں کا عدالتی دائرہ کار:
خلافت راشدہ کے دور میں قاضی تمام تر نزاعی معاملات میں فیصلہ کرتا تھا، خواہ اس کی کوئی بھی نوعیت ہو۔ مالی جھگڑے ہوں، خاندانی معاملات ہوں، حدود اور قصاص کے مسائل ہوں یا اور بھی اختلاف و نزاع کی کوئی شکل ہو۔ سائب بن یزید بن اخت نمر کے واقعہ کو چھوڑ کر تاریخی مراجع و مصادر میں کوئی ایسا ثبوت نہیں ملتا کہ جس سے پتہ چلے کہ قاضی کے ذمہ مخصوص معاملات سے متعلق مخصوص دائرہ اختیار ہے، صرف سائب سے آپؓ نے ایک بار کہا تھا کہ ’’ایک درہم اور دو درہم کا جھگڑا لے کر لوگوں کو میرے پاس نہ آنے دو۔‘‘
(النطام القضائی: صفحہ 74، عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 144)
چنانچہ خلیفہ کو یہ اختیار ہے کہ قاضی کو صرف کسی خاص نوعیت کے معاملات میں فیصلہ کرنے کا اختیار دے اور اس کا دائرہ اختصاص رہی ہو۔
بہرحال خلافت راشدہ کے قاضی حضرات شہری حقوق اور شخصی قوانین پرسنل لاء کے فیصل ہوا کرتے تھے اور قصاص وحدود کے بارے میں خلفاء اور امراء ریاست فیصلہ کرتے تھے۔ لہٰذا ان دونوں معاملات میں فیصلہ کرتے وقت خلیفہ اور گورنر کی موافقت ضروری ہوتی تھی پھر بعد کے ادوار میں حد قتل کی تنفیذ کے لیے صرف خلیفہ کی موافقت ضروری قرار پائی اور قتل کے علاوہ قصاص کے دیگر احکام و معاملات میں گورنروں کو یہ اختیار حاصل رہا کہ اس سلسلے میں خلیفہ وقت سے منظوری لیں۔ واضح رہے کہ اس دور میں فیصلہ کے لیے کوئی خاص جگہ کورٹ نہیں ہوتی تھی، بلکہ قاضی اپنے گھر اور مسجد میں فیصلہ کرتا تھا، ویسے عموماً ان کی عدالتی مجالس مسجد ہی ہوا کرتی تھیں۔
(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 145)
اسی طرح چونکہ نزاعی معاملات بہت کم ہوتے تھے اور ان کا یاد کر لینا آسان ہوتا تھا اس لیے انہیں رجسٹر وغیرہ میں درج نہیں کیا جاتا تھا اور قاضی کو اختیار ہوتا تھا کہ مجرم کو سزا دینے اور مظلوم کا حق دلانے کی خاطر اسے قید میں ڈال دے، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم نے اپنے اپنے دور میں ایسا کیا ہے۔ اس طرح حکومت بڑے بڑے شہروں میں مرکزی مقامات پر قید خانے تیار کراتی تھی اور قصاص کا نفاذ مساجد کے باہر کیا جاتا تھا۔
(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 145)