Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

قاضی کے اوصاف

  علی محمد الصلابی

قاضی کے اوصاف:

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سیرت کو سامنے رکھتے ہوئے علمائے کرام نے قاضی کے لیے چند اہم اوصاف واجب قرار دیے ہیں:

شرعی احکام کا علم:

اس لیے کہ شرعی احکام کا جب اسے علم ہو گا تو جدید پیش آمدہ مسائل پر اسے نافذ کرے گا، ان سے لا علمی کی حالت میں انہیں نافذ کرنا محال و ناممکن ہے۔

تقویٰ:

چنانچہ حضرت معاذ بن جبل اور ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہما کے نام سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ خط لکھا تھا کہ اپنے یہاں نیک افراد پر نگاہ رکھو اور انہیں منصب قضاء کے لیے مقرر کرو۔

(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: صفحہ 723 المغنی: جلد 9 صفحہ 37)

لوگوں کی دولت سے بے رغبتی:

چنانچہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’اللہ کے حکم کو وہی نافذ کر سکتا ہے جو رشوت نہ لیتا ہو اور ریا کاری نہ کرتا ہو اور طمع و لالچ سے پاک ہو۔‘‘ 

(النطام القضائی: صفحہ 74۔ عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 144)

ذہانت و دور اندیشی:

قاضی کا ذہین و دور اندیش ہونا ضروری ہے تاکہ معاملات کی حقیقت سے واقف ہو سکے۔ چنانچہ امام شعبیؒ سے روایت ہے کہ کعب بن سوار عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپؓ کے پاس ایک عورت آئی اور کہا: اے امیر المؤمنین! میں نے اپنے شوہر سے بہتر آدمی کبھی کسی کو نہیں دیکھا، اللہ کی قسم! وہ پوری رات نمازوں میں گزارتا ہے اور پورا دن روزہ سے رہتا ہے، سخت گرمی میں بھی روزہ نہیں توڑتا، آپ نے اس عورت کے لیے دعائے مغفرت کی اور اس کی تعریف کرتے ہوئے کہا: تمہی جیسی عورتیں ذکر خیر میں باقی رہتی ہیں۔ راوی کا بیان ہے کہ پھر وہ عورت قدرے شرمندہ ہوئی اور واپس جانے لگی تو کعب نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ نے عورت کو اس کے شوہر سے اس کا حق نہیں دلوایا۔ آپؓ نے کہا: کیا اس نے شکایت کی ہے؟ کعب نے کہا: اپنے خاوند کی زبردست شکایت کی ہے۔ آپؓ نے کہا: کیا یقیناً وہ شکایت ہی کرنا چاہتی تھی؟ کعب نے کہا: جی ہاں، آپؓ نے فرمایا: عورت کو میرے پاس بلاؤ، جب وہ واپس آئی تو آپؓ نے کہا: حق بات کہنے سے تم مت جھجکو، ان کعب کا کہنا ہے کہ تم اپنے شوہر کی شکایت کرنا چاہتی ہو کہ وہ تمہارے پاس نہیں آتا؟ عورت نے جواب دیا: جی ہاں، میں ایک نوجوان عورت ہوں مجھے بھی وہ خواہش ہوتی ہے جو دیگر عورتوں کی ہوتی ہے۔ آپؓ نے اس کے شوہر کو بلوایا، جب وہ آ گیا تو آپؓ نے کعب سے کہا: ان دونوں میں فیصلہ کرو۔ کعب نے کہا: امیر المؤمنین ان دونوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے زیادہ حق دار ہیں۔ آپؓ نے فرمایا: میں نے عزم کر لیا ہے کہ تم ہی ان دونوں کا فیصلہ کرو کیونکہ تم نے ان دونوں کے معاملہ کو جس طرح سمجھ لیا، میں نہیں سمجھ سکا۔ کعب نے کہا: میں فرض کر لیتا ہوں اس عورت کی تین اور سوکنیں ہیں، اور یہ اس آدمی کی چوتھی بیوی ہے، لہٰذا میرا فیصلہ یہ ہے کہ یہ تین دن اور راتیں اپنی عبادت میں گزارے اور اس عورت کے پاس ایک دن اور رات رہ کر اس کے حقوق ادا کرے۔ فیصلہ سن کر حضرت عمرؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم! پہلے فیصلہ کے مقابلے میں تمہارا دوسرا فیصلہ مجھے زیادہ ہی پسند ہے، جاؤ آج سے تم بصرہ کے قاضی ہو۔ 

(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: صفحہ 723۔)

معتدل سختی و متعدل نرمی:

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ منصب قضا صرف اسی آدمی کے لیے موزوں ہے جس میں چار خوبیاں ہوں: نرمی ہو لیکن اتنی نہیں کہ اس میں کمزوری ہو، سختی ہو لیکن اتنی نہیں کہ اس میں ٹیڑھا پن ہو، کفایت شعار ہو لیکن اتنا نہیں کہ بخیلی کرے، روادار ہو لیکن اتنا نہیں کہ اس میں حد سے تجاوز کر جائے۔ 

(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: صفحہ 724 )

اور ایک مرتبہ فرمایا: اللہ کے حکم کو صرف وہی آدمی نافذ کر سکتا ہے کہ وہ اپنی زبان سے نادر اور غریب سمجھ میں نہ آنے والے الفاظ نہ نکالے اور اس کی سخت مزاجی کی وجہ سے حق سے ناامید نہ ہو جائے۔ 

(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: صفحہ: 724)

شخصی قوت و دبدبہ:

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں ابو مریم کو منصب قضاء سے معزول کر دوں گا اور ایسے شخص کو یہ عہدہ سونپوں گا کہ اگر اسے فاسق و فاجر آدمی دیکھے تو گھبرا جائے، پھر آپؓ نے ابو مریم کو بصرہ کے منصب قضاء سے معزول کر دیا اوران کی جگہ کعب بن سوار کو مقرر کیا۔ 

(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: صفحہ 724)

صاحب ثروت اور اعلیٰ حسب و نسب والا ہونا:

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے بعض گورنروں کو لکھا کہ تم ایسے قاضی کو مقرر کرنا جو صاحب ثروت اور اعلیٰ حسب و نسب کا ہو کیونکہ صاحب ثروت آدمی لوگوں کے اموال سے بے رغبت ہو گا اور اعلیٰ حسب و نسب کا آدمی لوگوں کی ملامت سے بے خطر ہوتا ہے۔ 

(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: صفحہ 724)