قاضی کے فرائض
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے خطوط میں قاضی کے لیے چند منصبی فرائض کو واضح کیا ہے کہ عدالتی کارروائی کے وقت ان کی رعایت لازمی ہے۔
1۔ اخلاص و للہیت:
چنانچہ آپؓ نے ابو موسیٰ اشعریؓ کے نام خط لکھا:
’’بے شک برحق فیصلہ اللہ کے نزدیک باعث اجر ہے، اور نیک نامی کا ذریعہ ہے۔ جس حاکم کی نیت خالص حق کی ہو گو فیصلہ اس کے خلاف ہو اللہ تعالیٰ رعایا کے ساتھ اس کے معاملات خود سلجھا دیتا ہے اور جو حاکم رعیت کے ساتھ ریا کاری سے پیش آتا ہے اللہ تعالیٰ اسے رسوا کر دیتا ہے، بے شک اللہ تعالیٰ بندے کے انہی اعمال کو پسند کرتا ہے جو خلوص و للہیت پر مبنی ہوں، جب وہ خلوص پر آخرت میں اجر دیتا ہے تو یہاں دنیا میں کیوں نہ دے گا، رزق رحمت کے خزانے یہاں بھی اللہ تعالیٰ مخلص لوگوں پر کھول دیتا ہے۔‘‘
(اعلام الموقعین: ابن القیم: جلد 1 صفحہ 85)
2۔ معاملہ کی مکمل تحقیق:
فیصلہ صادر کرنے سے پہلے در پیش قضیہ معاملہ کی ہر اعتبار سے مکمل تحقیق ضروری ہے اور کسی برحق نتیجہ پر پہنچنے سے قبل فیصلہ دینا جائز نہیں ہے۔ آپؓ نے ابو موسیٰ اشعریؓ کے نام لکھا تھا:
’’جب معاملہ قضیہ تمہارے پاس آئے تو اسے خوب اچھی طرح سمجھ لو اور اس پر غور کر لو۔‘‘
اور خود ابو موسیٰؓ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
’’قاضی کے لیے فیصلہ دینا اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ حق بات اس کے سامنے رات اور دن کی طرح واضح نہ ہو جائے۔‘‘
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو جب اس بات کی خبر پہنچی تو فرمایا:
’’ابو موسیٰ نے بالکل سچ کہا۔‘‘
(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: صفحہ 725)
3۔ اسلامی شریعت کا فیصلہ:
قاضی کے لیے ضروری ہے کہ اسلامی شریعت کی روشنی میں فیصلہ دے، فریقین خواہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم۔ چنانچہ زید بن اسلم سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہا: میرا بیٹا مر گیا ہے اور میرے ہم مذہب یہودی لوگ کہتے ہیں کہ میں اس کی میراث کی حق دار نہیں ہوں۔ آپؓ نے ان کو بلوایا اور کہا: تم لوگ اس کو اس کا حق کیوں نہیں دیتے؟ انہوں نے کہا: ہم اپنی کتاب میں اس کا حق نہیں پاتے۔ آپ نے دریافت کیا: کیا تورات میں؟ انہوں نے کہا: نہیں بلکہ ’’مشناۃ‘‘ میں۔ آپؓ نے پوچھا: ’’مشناۃ‘‘ کون سی کتاب ہے؟ انہوں نے بتایا: ہمارے علماء اور دانشوروں کی ایک جماعت نے اسے تصنیف کیا ہے۔ آپؓ نے ان کو برا بھلا کہا اور فرمایا: جاؤ اور اسے اس کا حق دو۔
(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: صفحہ 725)
4۔ پیچیدہ و مشکل معاملات میں مشورہ طلبی:
آپؓ نے اپنے ایک قاضی کو لکھا:
’’اپنے دینی معاملات میں ان لوگوں سے مشورہ لے لینا جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔‘‘
(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: صفحہ 725، سنن البیہقی: جلد 10 صفحہ 112)
اور قاضی شریح کے نام لکھا: ’’اگر مناسب سمجھو تو مجھ سے مشورہ لے لیا کرو، میرے خیال میں مجھ سے تمہارا مشورہ لے لینا تمہارے لیے مفید ثابت ہو گا۔‘‘
(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطابؓ صفحہ 725 ، سنن البیہقی: جلد 10 صفحہ 110)
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ بذاتِ خود اصحاب بصیرت سے کافی مشورہ لیتے تھے، یہاں تک کہ شعبی کا بیان ہے ’’جو شخص قضاء سے متعلق مستند دستاویز کا خواہاں ہو اسے حضرت عمرؓ کے فیصلوں کو دیکھنا چاہیے، اس لیے کہ وہ ہر فیصلہ میں مشورہ لیتے تھے۔‘‘
(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: صفحہ 725، سنن البیہقی: جلد 10 صفحہ 109)
5۔ فریقین کے ساتھ یکساں برتاؤ:
چنانچہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کے نام خط لکھا:
’’مخاطب ہونے، قریب بٹھانے اور انصاف کرنے میں لوگوں مدعی و مدعا علیہ کے ساتھ یکساں برتاؤ کرو تاکہ با اثر آدمی یہ توقع نہ کرے کہ تم اس کے ساتھ رعایت کرو گے اور کمزور تمہارے انصاف سے مایوس نہ ہو۔‘‘
اور ایک مرتبہ لکھا:
’’لوگوں کے درمیان برحق فیصلہ کرو، قریبی ہوں یا دور کے ہوں، سب اس حکم میں یکساں ہیں۔‘‘
اور ایک مرتبہ جب حضرت ابی بن کعبؓ نے ایک باغ کے بارے میں حضرت عمرؓ کے خلاف دعویٰ پیش کیا تو آپؓ اس کے بارے میں صحیح فیصلہ نہ سمجھ سکے، تو حضرت زید بن ثابتؓ کو اپنا ثالثی مقرر کیا، اور دونوں حضرات زید بن ثابتؓ کے گھر آئے، سیدنا عمرؓ نے فرمایا: ’’ہم آپ کے پاس فیصلہ لینے آئے ہیں‘‘اس وقت ان کے گھر ہی میں مقدمات کی سماعت ہوتی تھی، حضرت زید بن ثابتؓ اپنے بستر سے اٹھ گئے اور سیدنا عمرؓ کو اس پر بٹھانا چاہا اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت زیدؓ نے تکیہ نکال کر حضرت عمرؓ کے سامنے پیش کیا تاکہ ٹیک لگا کر بیٹھ جائیں اور کہا: امیر المؤمنین! آپ یہاں تشریف لائیں، حضرت عمرؓ نے فرمایا: اے زید! تم نے اپنے فیصلہ کے آغاز ہی میں غلطی کر دی، مجھے میرے فریق کے ساتھ بٹھاؤ، پھر وہ دونوں حضرت زیدؓ کے سامنے بیٹھ گئے۔
(صحیح التوثیق فی سیرۃ وحیاۃ الفاروق: صفحہ 259)
6۔کمزور کی ہمت افزائی:
یہ اس لیے ضروری ہے تاکہ اس کے دل سے گھبراہٹ دور ہو جائے اور بے خوف ہو کر اپنی بات کر سکے، آپؓ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے نام خط لکھا: ’’کمزور و غریب کو قریب رکھو تاکہ اس کی ہمت بندھے اور اپنی بات کہہ سکے۔‘‘
(مجموعۃ الوثائق السیاسیۃ: صفحہ 438)
7۔ پردیسی کے دعویٰ پر فوری عدالتی کارروائی یا اس کے قیام و طعام کا انتظام کرنا:
چنانچہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے نام لکھا:
’’پردیسی کا خاص خیال رکھو، کیونکہ اگر اس کو دیر تک رکنا پڑے گا، یعنی اپنا فیصلہ لینے کے لیے بال بچوں سے کافی دنوں تک دور رہے گا، تو اپنا حق چھوڑ کر اپنے وطن اہل و عیال میں چلا جائے گا اور اس کی حق تلفی کا ذمہ دار وہ شخص ہو گا یعنی حاکم جس نے تاخیر کی۔‘‘
(مجموعۃ الوثائق السیاسیۃ: صفحہ 438)
8۔ کشادہ دل اور متحمل مزاج ہونا:
آپؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کے نام لکھا:
’’اہل مقدمہ کو ڈانٹنے اور جھڑکنے، اس سے غصے ہونے، چڑچڑانے اور تکلیف دینے سے خود کو بچاؤ، اگر قاضی کو احساس ہو جائے کہ مجھے اِن میں سے کوئی عارضہ لاحق ہے تو جب تک یہ شکایت دور نہ ہو جائے وہ قطعاً فیصلہ نہ دے، کہ مبادا کسی نفسیاتی اثر کی بنا پر فیصلہ صادر ہو جائے۔‘‘
سیدنا عمرؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ ہی کے نام لکھا: ’’ایسی حالت میں فیصلہ نہ کرو جب غصہ سے ہو۔‘‘
(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: ص 726)
اور قاضی شریح کا بیان ہے کہ جب سیدنا عمر فاروقؓ نے مجھے منصب قضاء پر فائز کیا تو شرط لگائی کہ میں غصہ کی حالت میں فیصلہ نہیں کروں گا۔
(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: صفحہ 726، لمغنی: جلد 9 صفحہ 79 )
چوں کہ سخت بھوک و پیاس بعض معاملات میں جلد از جلد فیصلہ دینے اور چڑچڑے پن کا سبب بن جاتے ہیں اس لیے سیدنا عمرؓ نے شرط لگا دی تھی کہ ’’کوئی قاضی اس وقت تک فیصلہ نہ کرے جب تک کہ کھا پی کر آسودہ نہ ہو۔‘‘
(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: صفحہ 726، سنن البیہقی: جلد 10 صفحہ 106)
9۔ ہر اس چیز سے اجتناب جو قاضی کی حق گوئی پر اثر انداز ہو:
مثلاً رشوت خوری اور خرید و فروخت میں تاجروں کی طرف سے ملنے والی خصوصی رعایت اور ہدیہ وغیرہ قبول کرنا، چنانچہ اسی اندیشہ کے پیش نظر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے قاضیوں کو تجارت کرنے، بازار میں خود سامان خریدنے، اور ہدیہ و رشوت قبول کرنے سے منع کر دیا تھا اور اس سلسلے میں حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کے نام خط لکھا کہ تم نہ کوئی سامان فروخت کرو اور نہ خریدو، نہ تجارت میں شرکت کرو اور نہ فیصلہ کرنے کے لیے رشوت لو اور قاضی شریح کا بیان ہے کہ جب حضرت عمرؓ نے مجھے منصب قضا پر فائز کیا تو شرط لگائی کہ میں خود نہ کچھ فروخت کروں گا نہ خریدوں گا، اور نہ رشوت لوں گا۔‘‘ اور فرمایا: ’’رشوت لینے سے بچو، اور خواہشاتِ نفس کے مطابق فیصلہ کرنے سے دور رہو۔
(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: صفحہ 727)
10۔ ظاہری دلائل و قرائن کا اعتبار:
فریقین کی نیتوں سے قطع نظر ان کے ظاہری دلائل پر اعتبار کیا جائے، چنانچہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ خطبہ دیتے ہوئے لوگوں سے فرمایا:
’’ہم تم کو پہچانتے تھے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم میں موجود تھے، وحی نازل ہوتی تھی اور تمہاری باتیں نیتیں ہمیں معلوم ہو جاتی تھیں، لیکن آج ہم تم کو صرف تمہاری باتوں سے پہچان سکتے ہیں، جس نے ہمارے سامنے خیر و بھلائی کا مظاہرہ کیا ہم اسے اچھا سمجھیں گے، اور جس نے برائی کا مظاہرہ کیا اسے برا جانیں گے اور اس کی وجہ سے اس سے نفرت کریں گے، اور تمہاری نیتوں کا معاملہ اللہ کے حوالہ ہے۔‘‘
(صحیح البخاری: حدیث 2641، سنن البیہقی: جلد 10 صفحہ 125، 150)
11۔ طرفین میں مصالحت کی کوشش:
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
’’مدعی و مدعا علیہ کو واپس کر دیا کرو تاکہ باہم صلح کر لیں، کیونکہ عدالت کا قطعی فیصلہ لوگوں میں کینہ و کدورت ڈالنے کا سبب بنتا ہے اگر وہ باہم ایسی صلح کر کے لوٹیں جو شریعت الہٰی کے موافق ہو تو قاضی کو چاہیے کہ اسے نافذ کر دے، اور اگر وہ شریعتِ الہٰی کے خلاف ہو تو قاضی کو چاہیے کہ اس صلح کو توڑ دے۔‘‘
آپؓ نے فرمایا:
’’صلح و مصالحت مسلمانوں کے درمیان جائز ہے مگر ایسی صلح جائز نہیں جو حرام کو حلال اور حلال کو حرام کر دے۔‘‘
(تاریخ المدینۃ: جلد 2 صفحہ 769۔ موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: 727 )
قاضی کو چاہیے کہ خاص کر ایسے وقت صلح کرانے کی زیادہ کوشش کرے جب اس کے سامنے کوئی صحیح فیصلہ سمجھ میں نہ آ سکے، کیونکہ حضرت عمرؓ نے حضرت معاویہؓ کے نام خط لکھا:
’’جب صحیح فیصلہ تمہاری سمجھ میں نہ آ سکے تو مدعی و مدعا علیہ میں صلح کرانے کی بھرپور کوشش کرو اور اسی طرح اگر دونوں فریق قریبی رشتہ دار ہوں تب بھی صلح کے لیے زیادہ کوشش کرو کیونکہ فیصلہ ان میں باہمی کدورت ڈال دے گا۔‘‘
(إعلام الموقعین: جلد 1 صفحہ 108)
12۔ حق کی طرف پلٹنا:
جب قاضی کسی معاملہ میں کوئی فیصلہ کر دے، پھر اس جیسے دوسرے مسئلہ میں دوبارہ اجتہاد کی بنا پر اس کی سمجھ میں دوسرا فیصلہ برحق معلوم ہو تو اس کے لیے یہ درست نہیں ہے کہ اجتہاد جدید کی بنا پر پہلے فیصلے کو کالعدم قرار دے دے، کیوں کہ پہلا فیصلہ پہلے اجتہاد کی روشنی میں تھا اور دوسرا فیصلہ دوسرے اجتہاد کی بنا پر ہے۔ اسی طرح اس کے بعد آنے والے دوسرے قاضی کے لیے بھی فیصلہ کو کالعدم قرار دینا جائز نہیں ہے۔ چنانچہ سالم بن ابوالجعد سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنی زندگی میں کبھی حضرت عمرؓ پر اعتراض کرنے والے ہوتے تو اس موقع پر ضرور اعتراض کرتے جب ان کے پاس نجران کے نصاریٰ اپنا قضیہ لے کر آئے تھے، اور حضرت علیؓ نے ہی نجرانیوں اور نبی کریمﷺ کے درمیان معاہدہ لکھا تھا۔ لیکن آپؓ نے ایسا نہیں کیا، چنانچہ سیدنا عمر فاروقؓ کے عہد میں نجران کے نصاریٰ کی آبادی بڑھ گئی تو آپؓ کو ان لوگوں کے بارے میں خطرہ محسوس ہوا اور ان میں باہم اختلاف بھی پیدا ہو گیا، چنانچہ یہ لوگ خود حضرت عمرؓ کے پاس آئے اور معاہدہ میں تبدیلی کا مطالبہ کیا، آپ نے بات مان لی اور تبدیلی کر دی، لیکن پھر یہ لوگ شرمندہ ہوئے اور انہوں نے کچھ دوسرا سوچا، پھر حضرت عمرؓ کے پاس آئے اور کہا کہ پہلا حکم ہی بحال کر دیں، آپؓ نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر جب حضرت علیؓ کے ہاتھ میں حکومت آئی تو انہوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپؓ نے ماضی میں سفارش کی تھی اور تب آپؓ ہی نے اس معاہدہ کو تحریر کیا تھا، لہٰذا اسی پرانے معاہدے کو بحال کر دیں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا: تمہارا برا ہو، حضرت عمرؓ بالکل صحیح فیصلے پر تھے۔
(سنن البیہقی: جلد 10 صفحہ 120، موسوعۃ فقہ عمر: صفحہ 729 )
اس واقعہ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حضرت عمرؓ نے اپنے ماضی کے فیصلہ کو توڑنے سے انکار کر دیا اور ان کے بعد حضرت علیؓ نے حضرت عمرؓ کے فیصلہ کو توڑنے سے انکار کر دیا۔
(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: صفحہ 728)
صرف یہی نہیں بہت سارے معاملات میں حضرت عمرؓ کے اجتہاد میں تبدیلیاں واقع ہوتی رہیں، مثلاً مسئلہ میراث میں بھائیوں کی موجودگی میں دادا کو حصہ دیتے ہیں اور حقیقی بھائیوں کو وراثت میں اخیافی بھائیوں کے ساتھ ایک تہائی 3/1 میں شریک کرتے ہیں، لیکن جب آپؓ کے اجتہاد میں تبدیلی واقع ہوتی ہے تو اس سے پہلے والے حکم کو باطل نہیں کرتے، بلکہ آئندہ پیش آنے والے واقعات میں دوسرے اجتہاد کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں۔ گویا حق واضح ہو جانے کے بعد آپ اسی پر عمل کرتے ہیں اور اپنے پہلے فیصلہ کو باطل قرار نہیں دیتے۔ چناںچہ آپؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کے نام خط لکھا:
’’اگر آج تم کوئی فیصلہ کرو اور بعد میں غور و خوض کر کے اس سے بہتر فیصلہ تمہاری سمجھ میں آ جائے تو یہ پہلا فیصلہ حق کو قبول کرنے سے مانع نہ ہو، کیونکہ حق ازلی ہے، اسے کوئی چیز باطل نہیں کر سکتی۔ حق کی طرف رجوع کرنا غلطی پر اڑے رہنے سے بہتر ہے۔‘‘
(إعلام الموقعین: جلد 1 صفحہ 85)
اسی نقطۂ نظر سے حضرت عمرؓ نے دادا کی وراثت کے بارے میں مختلف مرتبہ مختلف فیصلے دیے اور ایک عورت جس کی وفات ہو گئی اس نے اپنے پیچھے ترکہ، خاوند، دو حقیقی بھائی اور اخیافی بھائی چھوڑے، تو آپؓ نے ثلث مال میں سب بھائیوں کو یکساں شریک کرنے کا حکم دیا۔ یہ فیصلہ سن کر ایک آدمی نے کہا کہ فلاں فلاں سالوں میں تو آپؓ نے ایسا فیصلہ نہیں دیا تھا، تو آپؓ نے فرمایا: وہ فیصلہ اسی وقت کا تھا، آج کا فیصلہ آج کے لیے ہے۔
(إعلام الموقعین: جلد 1 صفحہ 111، موسوعۃ فقہ عمر: صفحہ 729)
13۔ فرد جرم ثابت ہونے تک متہم کی تہمت سے برأت:
سیدنا عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں ایک قافلہ کے ساتھ سفر پر نکلا، جب ہم ’’ذی المروۃ‘‘ پہنچے تو میرے کپڑوں کا صندوقچہ غائب ہو گیا، ہمارے ساتھ ایک متہم آدمی بھی تھا، اس سے میرے ساتھیوں نے کہا: اے فلاں ان کا صندوقچہ انہیں واپس کر دے، اس نے کہا: میں نے نہیں لیا، میں لوٹ کر سیدنا عمر بن خطابؓ کے پاس گیا اور واقعہ کی اطلاع دی۔ آپؓ نے پوچھا: تمہارے ساتھ کون لوگ تھے؟ میں نے سب کو بتایا۔ آپؓ نے بھی اسی فرد متہم کے بارے میں اندیشہ ظاہر کیا میں نے کہا: امیر المؤمنین! اگر آپؓ چاہیں تو میں اس کو باندھ کر لے آؤں۔ آپؓ نے فرمایا: کیا بغیر کسی ثبوت کے تم اسے باندھ کر لاؤ گے۔
(موسوعۃ فقہ عمر: صفحہ 729، المحلی: جلد 1 صفحہ 132)
14۔ نص شرعی کے مقابلے میں اجتہاد کا عدم جواز:
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’جب ایسا قضیہ پیش آئے جس کا فیصلہ قرآن و سنت میں نہ ہو تو اس میں خوب خوب غور کرو، پھر معاملات کو ایک دوسرے پر قیاس کرو۔‘‘
(إعلام الموقعین: جلد 1 صفحہ 85، مجلۃ البحوث العلمیۃ: جلد 7 صفحہ 287)
یہ چند اہم چیزیں ہیں جن کا ہر قاضی کو بہرحال التزام کرنا ہے۔
15۔ قاضیوں کا خود کو قضاء کے فیصلے کے تابع کرنا:
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ وہ پہلے باکمال انسان ہیں کہ اپنی خلافت کے دور شباب میں قاضی کے فیصلہ کے سامنے پوری رضامندی سے جھک جاتے ہیں اور فیصلہ سننے کے لیے پوری خوشی سے قاضی کے سامنے متوجہ ہوتے ہیں اور قاضی کی برحق تعریف کرتے ہیں، گو کہ فیصلہ آپؓ کے خلاف صادر ہو۔
(شہید المحراب: صفحہ 211)
اس کی ایک مثال یہ واقعہ ہے:
’’آپؓ نے ایک بدوی سے ایک گھوڑے کے بارے میں بھاؤ کیا، اسے آزمانے کے لیے اس پر سوار ہوئے، لیکن سوار ہوتے ہی گھوڑا عاجز ہو کر بیٹھ گیا، حضرت عمرؓ نے فرمایا: اپنا گھوڑا واپس لو، اس بدوی نے کہا: اب واپس نہیں لوں گا، آپؓ نے فرمایا: میرے اور اپنے درمیان کسی کو فیصل بنا لو۔ اس آدمی نے کہا: شریح کو بناتا ہوں۔ چنانچہ دونوں معاملہ لے کر وہاں پہنچے، جب قاضی شریح نے معاملہ سن لیا تو کہا: اے امیر المؤمنین! آپؓ نے جو خریدا ہے اسے لے لیں، یا جتنا آپؓ نے اسے استعمال کیا اس کا عوض دیں۔ حضرت عمرؓ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: فیصلہ اسی طرح دیا جاتا ہے، اور پھر ان کو کوفہ کا قاضی بنا کر بھیج دیا۔‘‘
(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 147، شہید المحراب، صفحہ 21)