عدالتی احکامات کے مصادر
علی محمد الصلابیخلفائے راشدینؓ کے عہد میں قاضیوں نے بھی اپنے فیصلہ کے لیے انہی مصادر و اصولوں کو بنیاد بنایا، جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپؓ کے قاضیوں نے بنیاد بنایا تھا۔ وہ مصادر تھے: قرآن، سنت، اور اجتہاد۔ البتہ خلفائے راشدینؓ کے عہد میں مزید دو چیزوں کا ظہور ہوا:
الف۔ اجتہاد کے مفہوم اور اس پر عمل کرنے میں وسعت پیدا ہوئی اور اس کے نتیجہ میں مقدمات، وسائل اور مقاصد میں ترقی ہوئی، چنانچہ مشاورت، اجماع، رائے اور قیاس کا ظہور ہوا جو عہد نبوی میں اس شکل میں موجود نہ تھے۔
ب۔ صحابہؓ کے وہ عدالتی فیصلے جو خلفاء کے دور میں صادر ہوئے، اسی طرح خلفائے راشدینؓ کے عہد میں قرآن، سنت، اجتہاد، اجماع، قیاس اور سابقہ عدالتی فیصلے عدالتی کارروائی کے لیے بنیادی مصادر قرار پائے، نیز دینی مسائل، معاملات اور احکامات میں مذکورہ مصادر کے ساتھ ساتھ مشاورت کو ایک مصدر کی حیثیت حاصل رہی۔ بہرحال بے شمار نصوص اور متعدد روایات ہیں جن سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ مذکورہ مصادر قضاء کے باب میں معتبر ہوتے تھے، ان میں سے چند ایک کی طرف اشارہ کرتا ہوں:
(تاریخ القضاء فی الإسلام: دیکھئے محمد الزحیلی، صفحہ 118)
1۔ امام شعبیؒ نے قاضی شریح سے روایت کیا ہے کہ مجھ سے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’کتابِ الہٰی کی روشنی میں جو تمہیں حق معلوم ہو وہی فیصلہ کرو، اگر مکمل کتابِ الہٰی کو نہ جان سکے تو رسول اللہﷺ کا جو فیصلہ تمہارے سامنے ہو اس کی روشنی میں فیصلہ کرو، اور اگر تم رسول اللہﷺ کے تمام فیصلوں کا احاطہ نہ کر سکو تو تمہیں ائمہ ہدیٰ ممتاز علماء صحابہؓ کے قول و عمل کی روشنی میں جو حق معلوم ہو اس سے فیصلہ کرو اور اگر اس کا بھی استیعاب نہیں کر سکتے تو اجتہاد کر کے اپنی صوابدید سے فیصلہ کرو اور علماء و پرہیز گاروں سے مشورہ لے لو۔‘‘
(اعلام الموقعین: جلد 1 صفحہ 224۔ تاریخ القضاء فی الإسلام: صفحہ 119)
2۔ ابن شہاب زہریؒ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ نے ایک مرتبہ منبر پر کہا:
’’اے لوگو! رسول اللہﷺ کی رائے درست و برحق ہوا کرتی تھی، آپؓ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوتا تھا، ہماری رائیں تو گمان و تکلف پر مبنی ہیں۔‘‘
(إعلام الموقعین: جلد 1 صفحہ 57۔ تاریخ القضاء فی الإسلام، صفحہ 120)
نیز آپؓ سے مروی ہے کہ آپؓ فرماتے تھے:’’یہ عمر کی رائے ہے اگر صحیح ہے تو اللہ کی طرف سے اور اگر غلط ہے تو عمر کی طرف سے۔‘‘
(اعلام الموقعین: جلد 1 صفحہ 57، تاریخ القضاء فی الإسلام: صفحہ 120)
3۔ علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’جب سیدنا عمرؓ خلیفہ بنائے گئے تو کہنے لگے: ’’مجھے اللہ سے شرم آتی ہے کہ کسی صدیقی فیصلہ کو رد کردوں۔‘‘
(إعلام الموقعین: جلد 1 صفحہ 224)
آپؓ نے اس بات کی مزید تاکید اس خط میں کی ہے جسے آپؓ نے قاضی شریح کے نام تحریر کیا تھا کہ:
’’ قرآن سے فیصلہ کرو، اگر اس میں نہ ملے تو سنت رسول اللہﷺ سے، اگر اس میں بھی نہ ملے تو صحابہ کرامؓ کے فیصلوں کی روشنی میں فیصلہ کیا کرو۔
(تاریخ القضاء فی الإسلام: صفحہ 120)
4۔ اجماع: اگر در پیش معاملہ کے بارے میں قاضی قرآن و سنت کی کوئی نص نہ پاتے تو علماء کی طرف رجوع کرتے، صحابہ و فقہاء رحمہم اللہ سے مشورہ طلب کرتے، ان کے سامنے مسئلہ پیش کرتے اور سب لوگ اس کے بارے میں تحقیق اور اجتہاد کرتے۔ اگر سب لوگ کسی ایک رائے پر متفق ہو جاتے تو اسی کو اجماع کہا جاتا ہے۔ گویا امت محمدیہ کے کسی ایک دور کے مجتہدین کا کسی شرعی حکم پر متفق ہو جانا اصطلاح میں اجماع کہلاتا ہے۔ تمام علماء کا اتفاق ہے کہ اسلامی شریعت کا یہ تیسرا مصدر ہے، اور سب سے پہلے اس کا ظہور خلفائے راشدینؓ کے عہد میں ہوا۔ فقہ، اصول فقہ اور تاریخ فقہ میں اس سلسلہ میں طول طویل بحثیں ہیں، لیکن جن معاملات و مسائل میں امت کا اجماع ثابت ہے وہ بہت کم ہیں۔ اس کے امکانات خلافت اسلامیہ کے دارالحکومت، صحابہ کرامؓ، علماء اور فقہاء کے مجمع مدینہ نبویہ تک محدود تھے، دیگر ممالک و شہروں میں اس کا وجود بالکل شاذ ونادر تھا۔
(تاریخ القضاء فی الإسلام: صفحہ 122)
اجماع کے حجت ہونے کی دلیل یہ واقعہ ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا: آپؓ کی قوم کی زبان میں اخوان دو بھائی کا اطلاق اِخوۃ یعنی جمع دو سے زیادہ برادران پر نہیں ہوتا، پھر آپ اللہ کے فرمان:
كَانَ لَهٗۤ اِخۡوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ۞ (سورۃ النساء: آیت 11)
ترجمہ: ’’اگر مرنے والے کے بھائی ہوں تو ماں کو وراثت میں ایک تہائی ملے گا‘‘
کی وجہ سے ماں کو ثلث تہائی کی جگہ سدس چھٹا حصہ کیوں دیتے ہیں؟ تو آپؓ نے فرمایا: مجھ سے پہلے جس فتوے پر شہروں میں عمل ہوتا چلا آ رہا ہے اور لوگ اسی کے مطابق وراثت لیتے دیتے ہیں میں اس کو نہیں توڑ سکتا۔ گویا ابن عباسؓ کی مخالفت سے پہلے ہی اس پر اجماع ہو چکا تھا، اس لیے ان کی مخالفت کا کوئی اعتبار نہیں کیا گیا۔ دراصل اجماع کے تین بنیادی ارکان ہوتے ہیں:
مشورہ، اجتہاد پھر اتفاق۔ اگر ان تینوں ارکان میں سے کسی ایک رکن کی بھی کمی ہو تو قاضی ایک اور مصدر کی طرف رجوع کرے گا اور وہ ہے فیصلوں کے سابقہ دستاویز اور نمونے۔
5۔ فیصلوں کے سابقہ دستاویز اور نمونے: یعنی جن فیصلوں کو خلفاء، صالحین اور ممتاز صحابہ رضی اللہ عنہم نے نافذ کیا ہو اس چیز کو حضرت عمرؓ نے سیدنا ابوبکرؓ کے صدیقی فیصلوں اور آپؓ کے قاضیوں کے احکامات کے بارے میں صراحتاً ذکر کیا ہے جیسا کہ اس کی طرف اشارہ گزر چکا ہے۔
(تاریخ القضاء فی الإسلام: صفحہ 122، 123)
اور اسی چیز کو علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے اس عنوان کے تحت واضح طور سے لکھا ہے کہ صحابہؓ کی رائے ہماری اپنی رائے سے زیادہ بہتر ہے۔ آپ لکھتے ہیں:
’’جن ہستیوں کے آراء و مشورے اتنے بلند مقام تک پہنچے ہوئے ہوں وہ اس لائق ہیں کہ ہمارے لیے ان کی آراء ہماری باتوں سے زیادہ بہتر ہوں اور کیوں نہ ہوں، وہ ایسی آراء ہوتی ہیں، جو نور، ایمان، علم اور اللہ اور اس کے رسولﷺ کی معرفت سے لبریز دلوں سے صادر ہوتی ہیں، امت کی خیر خواہی پر مبنی ہوتی ہیں۔ ان کے دل ان کے نبیﷺ کے دل کے مشابہ ہوتے ہیں، ان کے اور آپﷺ کے درمیان کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ چراغ نبوت سے براہِ راست اور اصلی شکل میں ایمان و عمل کی شمعیں جلاتے ہیں اس میں اختلاف و اشکال کا ادنیٰ بھی شائبہ نہیں ہوتا، کوئی بھی اختلاف اسے گدلا نہیں کر سکتا، لہٰذا دوسروں کے آراء و اقوال کو ان برگزیدہ ہستیوں کے آراء و اقوال سے قیاس و موازنہ کرنا نہایت غلط و فاسد قیاس ہے۔‘‘
(تاریخ القضاء فی الإسلام: صفحہ 122، 123، إعلام الموقعین: جلد 1 صفحہ 87)
6۔ قیاس: چونکہ صحابہؓ کے فیصلوں کے سابقہ نمونے اور دستاویز بھی کم ہیں، اس لیے قاضی اگر کوئی نص، اجماع، یا سابقہ نمونے نہ پائے تو اجتہاد پر اعتماد کرے، جیسے کہ حضرت معاذؓ کی حدیث سے ثابت ہے۔
(یہ حدیث ضعیف ہے۔مترجم)
اور اجتہاد کا سب سے پہلا مرحلہ یہ ہے کہ جس مسئلہ میں کوئی نص وارد نہیں ہے اسے اس مسئلہ پر قیاس کرے جو اس سے ملتا جلتا ہو اور اس کے بارے میں نص وارد ہو۔ چنانچہ قیاس اسلامی شریعت اور اسلامی فقہ و احکامات کا چوتھا مصدر ہے۔ اس چیز کو حضرت عمرؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کے نام بھیجے جانے والے خط میں تحریر کیا تھا:
’’پھر تم معاملات کو قیاس کرو اور ملتے جلتے مسائل کو ڈھونڈو، پھر ان میں سے جسے تم حق سے قریب تر اور اللہ کی رضامندی کا باعث سمجھو اس کے مطابق فیصلہ دو۔‘‘
(تاریخ القضاء فی الإسلام: صفحہ 124)
7۔ رائے: اگر درپیش قضیہ کے لیے کوئی ایسی نص نہ ملے جس پر قیاس کیا جا سکے تو قاضی حق عدل و انصاف اور اسلامی شریعت کے قواعد و مقاصد سے قریب ترین اپنی رائے کی بنا پر فیصلہ دے۔ شریح وغیرہ کو حضرت عمرؓ نے جو خطوط لکھے ان میں اس بات کو آپؓ نے بار بار ذکر کیا ہے۔
(إعلام الموقعین: جلد 1 صفحہ 70)
خلافت راشدہ کے دور میں مشاورت کا شمار بھی ان اہم وسائل میں ہوتا تھا، جن سے قاضی حضرات مدد لیتے تھے، جیسے کہ سابقہ روایات، خطوط اور ہدایات فاروقی میں یہ چیز وارد ہے۔ آپؓ نے قولاً و عملاً شورائیت پر بہت زور دیا، اس لیے کہ اپنی دینی بصیرت کے باوجود اہل شوریٰ سے آپؓ کافی لگاؤ رکھتے تھے، بہت کم ایسا ہوتا تھا کہ آپؓ کسی کام کو انجام دیں اور ممتاز علماء صحابہ سے اس کے بارے میں مشورہ نہ لیں۔
(تاریخ القضاۃ: صفحہ 125)
چنانچہ شعبی کا بیان ہے کہ قضیہ حضرت عمرؓ کے سامنے پیش کیا جاتا تھا اور کبھی کبھار آپؓ ایک ایک مہینہ اس کے بارے میں غور کرتے رہتے اور صحابہؓ سے مشورہ لیتے رہتے۔
(تاریخ القضاۃ: صفحہ 125)