Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

قاضی کن دلائل پر اعتماد کرے گا

  علی محمد الصلابی

قاضی اپنا فیصلہ صادر کرنے میں جن دلائل پر اعتماد کرے گا ان کی تفصیل یہ ہے:

1۔ اقرار

تحریر و کتابت کے ذریعہ سے اعتراف جرم کرنا بھی اقرار کی ایک معتبر شکل ہے۔

2۔ گواہی

قاضی کے لیے ضروری ہے کہ گواہی دینے والے گواہوں کی صلاحیت و درستی کی تحقیق کر لے، آیا کہ وہ گواہی دینے کے قابل ہیں یا نہیں، اگر وہ گواہوں کو نہ پہچانتا ہو تو ان گواہوں سے ایسے لوگوں کو لانے کا مطالبہ کرے جو اِن کی تصدیق کریں۔ ایک آدمی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس ایک معاملہ میں گواہی دینے آیا تو آپؓ نے اس سے کہا: میں تمہیں نہیں پہچانتا، اور میرا تمہیں نہ پہچاننا تمہارے لیے کوئی نقصان دہ نہیں ہے، کسی ایسے شخص کو لے آؤ جو تمہاری تصدیق کر دے۔ چنانچہ ایک آدمی نے کہا: میں اسے پہچانتا ہوں، آپؓ نے اس آدمی سے پوچھا: کس چیز میں تم اس کو پہچانتے ہو؟اس نے کہا: فضل و عدالت میں، حضرت عمرؓ نے فرمایا: کیا یہ تمہارا قریبی پڑوسی ہے کہ جس کے رات، دن اور آمدورفت سے تم واقف ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپؓ نے پوچھا: کیا تم نے اس کے ساتھ درہم و دینار کے لین دین کا کوئی معاملہ کیا ہے کہ جس کے ذریعہ سے ورع و تقویٰ کا اندازہ لگایا جاتا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپؓ نے پوچھا: کیا یہ تمہارا رفیق سفر رہا ہے کہ جس میں اخلاق کی بلندیاں ظاہر ہوتی ہیں؟ اس نے کہا:نہیں۔ آپؓ نے فرمایا: تب تم اسے نہیں پہچانتے ہو۔ 

(سنن البیہقی: جلد 10 صفحہ 125۔ موسوعۃ فقہ عمر: صفحہ 731)

اور گواہی، قسم پر مقدم ہو گی، خواہ مدعی مدعا علیہ کے قسم کھانے سے پہلے اسے پیش کرے یا قسم کھانے کے بعد۔ چنانچہ اگر مدعی نے مدعا علیہ سے اس دعویٰ پر قسم کھانے کا مطالبہ کیا اور قاضی نے مدعا علیہ سے قسم لے لی، پھر مدعی اسی دعویٰ پر بینہ گواہی پیش کر دے تو اس کی گواہی معتبر ہو گی اور قسم کا اعتبار نہیں ہو گا، حضرت عمرؓ نے اسی چیز کو اس طرح کہا تھا:

’’معتبر و سچی گواہی کی موجودگی میں جھوٹی قسم تردید کر دیے جانے کی زیادہ مستحق ہے۔‘‘ 

(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: صفحہ 731 )

گواہی لانے کا مطالبہ مدعی ہی سے کیا جائے گا۔ حضرت عمرؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کے نام اپنے خط میں لکھا تھا:

’’مدعی کو گواہ پیش کرنا ہے اور مدعا علیہ کے لیے قسم کھانا ہے۔‘‘ 

(سنن البیہقی: جلد 10 صفحہ 150، 153)

اگر اتفاق سے مدعی کے پاس ایک ہی گواہ ہو تو اس کی ایک گواہی معتبر ہو گی البتہ مدعی اس کے ساتھ اپنی صداقت کے لیے قسم کھائے گا مالی معاملات میں حضرت عمرؓ ایک گواہ کی موجودگی میں ایک قسم کا اعتبار کرتے تھے۔ 

(المغنی: جلد 9 صفحہ 15، موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: صفحہ 732)

3۔ قسم:

قاضی مدعا علیہ سے اس وقت تک قسم نہیں طلب کرے گا جب تک کہ مدعی گواہ دینے سے اپنی عاجزی کا اعتراف نہ کر لے اور مدعا علیہ سے قسم کھانے کا مطالبہ نہ کر لے، اگر مدعی، مدعا علیہ سے قسم کھانے کا مطالبہ کر لیتا ہے اور مدعی علیہ قسم کھا لیتا ہے تو اس کی قسم پر فیصلہ کر دیا جائے گا۔ چنانچہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ’’وداعہ‘‘(یمن کا ایک قبیلہ ہے) سے قسم لے کر معاملہ کا تصفیہ کیا، مدعا علیہ فریق نے قسم کھا لی اور آپ نے انہیں خون قتل سے بری کر دیا۔ 

اسی طرح کھجور کے ایک درخت کے بارے میں عمر اور حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہما اپنا جھگڑا لے کر حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، مدعی ابی بن کعبؓ تھے، چنانچہ حضرت عمرؓ سے قسم کھانے کو کہا گیا تو حضرت زید بن ثابتؓ نے کہا: اے امیر المؤمنین! چھوٹی چیز ہے جانے دیجیے، سیدنا عمرؓ نے کہا: امیر المؤمنین کیوں اسے جانے دے؟ میں جب تک حق سمجھوں گا اپنی قسم کے ذریعہ سے اسے ضرور لوں گا ورنہ چھوڑ دوں گا، قسم ہے اس ذات کی جس کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، کھجور کا درخت بلا شبہ میرا ہی ہے، اس میں اُبی کا کوئی حق نہیں۔ پھر جب وہ دونوں وہاں سے نکلے تو آپؓ نے وہ درخت ابی رضی اللہ عنہ کو مفت میں دے دیا۔ آپؓ سے پوچھا گیا: اے امیر المؤمنین! قسم کھانے سے پہلے آپؓ نے اسے کیوں نہیں دے دیا؟ تو آپؓ نے فرمایا: میں ڈرا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں قسم نہ کھاؤں تو میرے بعد اپنا حق لینے کے لیے اور لوگ بھی قسم نہ کھائیں اور پھر یہی سنت چل پڑے۔

(تاریخ المدینۃ المنورۃ: جلد 2 صفحہ 755، موسوعۃ فقہ عمر: صفحہ 732۔)

 لہٰذا جس پر قسم کھانا واجب ہوتا ہے اس کے لیے یہ ہرگز جائز نہیں کہ ورع و تقویٰ کے پیش نظر وہ قسم نہ کھائے۔

ہم نے مذکورہ واقعہ دیکھ لیا کہ حضرت عمرؓ نے کس طرح قسم کھائی اور جب حق لے لیا تو اس سے تنازل کر لیا۔

حضرت عمرؓ بعض فریقین سے قسم لینے میں سختی کرتے تھے، مثلاً انہیں ان مقامات پر قسم کھانے کا حکم دیتے کہ جہاں دروغ گوئی کرنے سے ان کے دل کانپ اٹھیں اور وہ جھوٹی قسمیں نہ کھائیں۔ چنانچہ ایک مرتبہ کچھ لوگوں سے ’’حجر‘‘ حطیم میں قسم لی اور کچھ لوگوں سے حجر اسود اور مقام ابراہیم کے پاس قسم لی۔ 

(موسوعۃ فقہ عمر: صفحہ 733)

4۔ اثبات نسب کے جھگڑے میں قیافہ شناسی:

قیافہ شناسی ان قوی قرائن میں سے ایک ہے جن کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے۔ رسول اللہﷺ کی سنت، خلفائے راشدین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل سے اس کی دلیل موجود ہے۔ قیافہ شناسی کا اعتبار کرتے ہوئے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ نے فیصلہ دیا ہے۔ 

(النظام القضائی: مناع القطان: صفحہ 81، 82)

5۔ قرائن:

قرائن کا دائرہ کافی وسیع ہے قرائن کے استنباط و فہم میں قاضیوں کو مختلف زاویوں سے غور کرنا چاہیے، مثلاً مضبوط قرائن میں سے ایک قرینہ یہ ہے کہ غیر شادی شدہ عورت حاملہ ہو جائے، پس ایسی حالت میں اس کا حاملہ ہونا اس کے زانیہ ہونے کی دلیل ہے۔ اسی طرح مدت حمل سے کم مدت میں ولادت ہونا بھی اس کے زانیہ ہونے کی دلیل ہے اور قرائن کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ دو مردہ لاشیں ایک دوسرے کے اوپر ہوں، پس ان کا ایک دوسرے کے اوپر ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ جس کی موت پہلے ہوئی ہے وہ نیچے ہے اور جس کی موت بعد میں ہوئی ہے وہ اوپر ہے، چنانچہ اسی قرینہ کا اعتبار کرتے ہوئے طاعون عمواس میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے دو شہدائے طاعون میں سے جس کے ہاتھ یا پیر کو دوسرے کے اوپر دیکھا تو اوپر والے کو نیچے والے کا وارث قرار دیا، نیچے والے کو اوپر والے کا وارث نہیں بنایا۔ نیز شراب نوشی کے قوی قرائن میں سے یہ بات ہے کہ اگر آدمی قے کرے تو اس میں شراب پائی جائے، سیدنا عمرؓ نے ایسے آدمی پر شراب نوشی کی حد جاری کی جس کی قے میں شراب پائی گئی۔ 

(موسوعۃ فقہ عمر: صفحہ 735)

6۔ قاضی کا علم:

حدود و قصاص کے معاملات میں قاضی کی معلومات اس بات کی دلیل نہیں بن سکتیں کہ وہ انہی بنیادوں پر فرد متہم کے خلاف فیصلہ صادر کر دے۔ چنانچہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کے نام تحریر کیا تھا کہ ’’حاکم اپنی معلومات، گمان اور شبہ کی بنیاد پر فیصلہ نہ کرے۔‘‘ 

(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: صفحہ 735، مصنف عبدالرزاق: جلد 8 صفحہ 342)

اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ سے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہو گا اگر میں یہ کہوں کہ فلاں آدمی نے قتل کیا ہے، چوری کی ہے، یا زنا کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: تمام مسلمانوں کی طرح آپؓ کو بھی ایک گواہ شمار کروں گا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: تم نے بالکل صحیح کہا۔

(سنن البیہقی: جلد 10 صفحہ 44، موسوعۃ فقہ عمر، صفحہ 735)

البتہ حدود و قصاص کے علاوہ دیگر معاملات میں کیا قاضی کی اپنی معلومات اس کے فیصلہ کے لیے ان حالات میں دلیل بن سکتی ہیں، جب کہ کوئی اور دلیل نہ ہو؟ تو اس سلسلے میں حضرت عمرؓ سے مختلف روایات وارد ہیں۔

(موسوعۃ فقہ عمر: صفحہ 735)

معاملات میں اس قدر تحقیق و جستجو کے باوجود حضرت عمرؓ لوگوں کو ان کی غلطیوں کے اعتراف پر شاباشی دینے سے گریزاں اور اس بات کے لیے کوشاں رہتے تھے کہ وہ اپنے گناہوں کو چھپائے رکھیں اور اللہ سے توبہ کریں۔ چنانچہ شرحبیل بن سمط الکندی جب مدائن میں سرحدی افواج میں سے ایک گروہ کے ذمہ دار تھے تو خطبہ دیتے ہوئے کہا: ’’اے لوگو! تم ایسی زمین میں ہو جس میں شراب نوشی عام ہے اور عورتوں کی کثرت ہے۔ یعنی شراب و شباب کا چلن ہے، لہٰذا تم میں سے جو حد نافذ کرنے والا جرم کر گزرے وہ ہمارے پاس آ جایا کرے، تاکہ ہم اس پر حد قائم کر دیں، اس میں اس کے لیے پاکی ہے۔‘‘ جب حضرت عمرؓ کو اس خطبہ کی خبر ملی تو آپؓ نے ان کو لکھا: ’’تمہارے لیے یہ جائز نہیں کہ لوگوں کو اللہ کی ردائے پردہ داری کو پھاڑنے کا حکم دو، جس سے اللہ نے ان کی پردہ پوشی کی ہے۔‘‘ 

(القضاء فی خلافۃ عمر: ناصر الطریفی: جلد 2 صفحہ 862)

ہاں ضرور ہے کہ اگر لوگ اس کے جرم کو دیکھ لیں اور محکمہ قضاء تک وہ معاملہ پہنچا دیں تو بغیر کسی رواداری و مروّت کے اسلامی حکومت اس پر حد نافذ کرے گی۔ 

(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 146)

آپؓ جب فریقین مدعی و مدعا علیہ کے درمیان فیصلہ کرنے کا ارادہ کرتے تو یہ دعا کرتے تھے:

’’اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ فیصلہ لینے کے لیے جب میرے سامنے فریقین ہوں گے تو میں کسی ایک کی طرف داری کروں گا، خواہ وہ میرا قریبی ہو یا کوئی دوسرا ہو، تو پلک جھپکنے تک کی مجھ کو مہلت نہ دے۔‘‘ 

(الحلیۃ: أبی نعیم: جلد 6 صفحہ 120، الطبقات: جلد 3 صفحہ 29۔ اس کی سند صحیح ہے)