Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ انسانوں کا قاتل اور جہنھی ہے۔

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

سمرہ بن جندبؓ انسانوں کا قاتل اور جہنھی ہے۔ 

(البدایہ والنہایہ)

 الجواب اہلسنّت

مذکورہ عبارت ہے:

 و قتل سمره بشرا کثیرا

سمرہ رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ نے بہت سارے انسانوں کو قتل کیا۔ 

اس کے ساتھ بلا فاصلہ یہ الفاظ بھی ہیں...

*و قد ضعف بیهقی عامة ھذه الروايات الخ* 

بیہقی نے اس طرح کی بہت ساری روایات کو ضعیف قرار دیا ہے۔ 

اس لیے کہ یا تو وہ منقطع ہیں یا مرسل وغیرہ۔ اور فرمایا کہ اس طرح کی روایات ثابت نہیں۔ 

محترم قارئین کرام ! کیا خوب دیانت داری کے چراغ روشن ہو گئے ہیں۔ جس روایت کو کتاب والا نقل کر کے فرما رہا ہے کہ یہ روایت ضعیف اور قابلِ اعتماد نہیں۔ رافضی شیعہ قلمکار اسی کو الزام بنا کے پیش کر رہا ہے کہ دیکھو تمہاری کتاب میں لِکھا ہوا ہے سمرہ ایسا تھا۔

حالانکہ اسی روایت کو کتاب والا رد کر رہا ہے کہ یہ روایت جو بیان کی جاتی ہے صحیح نہیں ہے۔

2۔ یہ کہنا کہ اور "جہنمی ہے" دُنیا کا بے مثال جھوٹ ہے۔ کتاب کے پورے صفحہ میں یہ کہیں نہیں لکھا ہوا نہ کِسی لفظ سے اشارہ ہی پایا جاتا ہے مگر داد دی جائے رافضی شیعہ گامن سچیار کو جو حد درجہ کے دجل و فریب کا مظاہرہ کر کے اپنی عاقبت برباد کر رہا ہے۔ ہاں البتہ حدیث پاک کی روشنی میں ایک اہم بات اِس موقع کے بیان سے معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ یہاں لکھا ہوا ہے کہ ان کی دُنیاوی موت کا باعث آگ پر گرم کیا ہوا پانی تھا۔ اگر رافضی شیعہ نے دُنیا کی آگ کو جہنم کہا ہے کہ وہ ان کی موت کا باعث ہوئی تو حدیث پاک کی رو سے مؤمن آدمی کے لیے دُنیا ہے ہی قید خانہ اور جہنم اور کافروں کے لیے تو جنت ہے البتہ آخرت میں اُن لوگوں کے لیے جنت ہے جو دُنیا میں قیدیوں کی طرح گزر گئے۔ لہٰذا اگر اسی سبب سے یہ سرخی قائم کی گئی ہے تو جان لینا چاہیے کہ دینِ حق کی آبیاری کے لیے یہ قربانی اِن نفوسِ قدسیہ کا عُمده مشغلہ تھا۔ یہ صحابہ کرام رضوان اللّٰه علیھم اجمعین کے لیے عار کی نہیں عزت و توقیر کی بات ہے۔