Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا کوفہ کی طرف خروج شیعی روایات کی روشنی میں

  حامد محمد خلیفہ عمان

عباس قمی اور عبدالہادی صالح لکھتا ہے:

’’حسین بن علی (رضی اللہ عنہما) نے جب مکہ سے خروج کا ارادہ کیا تو پہلے طواف اور سعی کی، پھر بال کتروائے اور احرام کھول کر حلال ہوئے کیونکہ آپ کو مکہ میں اپنی گرفتاری یا قتل ہو جانے کے ڈر سے حج پورا کرنا ممکن نہ تھا۔ پھر 8ذی الحجہ کو آپ نے اپنے اصحاب کو جمع کر کے ان میں یہ خطبہ دیا:

’’سب تعریفیں اسی اللہ کی ہیں، وہی ہوتا ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ نیکی پر لانے کی قوت صرف اللہ کو ہے۔ اللہ کا درود و سلام ہو اس کے رسول پر۔ اللہ نے اولاد آدم کی موت کا خط کھینچ دیا ہوا ہے اور موت کا پھندا بندوں کے گلے میں ڈال دیا ہوا ہے اور میں اپنے اسلاف کی شہادتوں پر اس طرح غم زدہ نہیں جس طرح یعقوب (علیہ السلام)، یوسف (علیہ السلام) کے فراق میں غمگین و مشتاق تھے۔ کل قتل کے جس میدان سے میرا سابقہ پڑنے والا ہے، وہ میرے لیے بہتر ہے۔ گویا کل نواویس اور کربلا کے درمیان جنگلوں کے بھیڑیے مجھے چیر پھاڑ دیں گے۔ لیکن انہیں میرے خالی معدے اور خالی توشے کو دیکھ کر سخت ملال ہو گا (یعنی میں میدان کربلا میں بھوکا پیاسا مارا جاؤ ں گا)۔

تقدیر کے قلم نے موت کا جو دن لکھ دیا ہے اس سے فرار نہیں ۔ اے اہل بیت! اللہ ہماری رضا پر ہم سے راضی ہو گا، ہم اپنی مصیبت و بلا پر صبر کریں گے، اللہ ہمیں صابرین والا پورا پورا اجر دے گا۔‘‘ (منتہی الآمال: جلد، 1 صفحہ 453 خیر الاصحاب: صفحہ 33)

دکتور احمد راسم نفیس لکھتا ہے:

’’مشہور شاعر فرزدق کی حسینی قافلہ سے اثنائے طریق میں ملاقات ہو گئی۔ فرزدق نے حسین (رضی اللہ عنہ) کو سلام کیا اور عرض کیا: اے ابن رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان، حج مکمل کیے بغیر کس بات نے آپ کو اس قدر عجلت میں ڈال دیا؟ حسین (رضی اللہ عنہما) نے جواب دیا: اگر میں جلدی نہ نکل آتا، تو گرفتار کر لیا جاتا۔

پھر حسین بن علی (رضی اللہ عنہما) نے فرزدق سے لوگوں کے بارے میں پوچھا، تو اس نے جواب دیا: ان کے دل تو آپ کے ساتھ ہیں مگر ان کی تلواریں آپ کے خلاف ہیں۔‘‘ حسین (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: تم نے ٹھیک کہا ہے۔ امر اللہ ہی کا ہے اور ہر روز اس کی ایک نئی شان ہے۔ اگر تو معاملہ ہماری مرضی کے موافق پیش آیا تو رب تعالیٰ کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کریں گے، شکر ادا کرنے پر بھی اسی سے مدد درکار ہے، اور گر قضا ہماری امیدوں کی راہ میں حائل ہو گئی، تو جن کی نیت سچی اور باطن متقی ہوتا ہے ان کے ساتھ ایسے امر کا پیش آ جانا بعید نہیں۔‘‘ (علی خطی الحسین: صفحہ 99-100 الشیعۃ و عاشوراء: صفحہ 178 ذرا یہ بھی ملاحظہ کر لیجیے کہ احمد راسم اور عباس قمی کی باتوں میں کس قدر تضاد ہے۔ احمد راسم سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا یہ قول لکھتا ہے کہ ’’اگر تو تقدیر ہماری مرضی کے موافق آ گئی‘‘ جبکہ عباس قمی لکھتا ہے: ’’میں دیکھ رہا ہوں کہ نواویس اور کربلا کے درمیان جنگل کے بھیڑیے مجھے چیر پھاڑ دیں گے۔‘‘)

علی بن موسیٰ بن جعفر بن طاؤ وس حسینی لکھتا ہے:

’’راوی کہتا ہے: حسین (رضی اللہ عنہما) چل کر کوفہ سے دو مراحل تک جا پہنچے۔ وہاں حر بن یزید ایک ہزار گھڑ سواروں کے ساتھ موجود تھا۔ حسین علیہ السلام نے پوچھا: ’’ہماری مدد کو آئے ہو یا ہمارے خلاف آئے ہو؟‘‘ حر نے جواب دیا: نہیں بلکہ اے ابو عبداللہ! میں آپ کے خلاف آیا ہوں۔‘‘ حسین بن علی (رضی اللہ عنہما) نے جواب دیا: ’’لا حول و لا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔‘‘ پھر دونوں میں گفتگو ہوتی رہی، حتیٰ کہ حسین علیہ السلام نے اسے کہا: ’’اگر تو تم میرے پاس آنے والے خطوط اور قاصدوں کے خلاف چل رہے ہو تو میں ادھر ہی لوٹ جاتا ہوں جہاں سے آیا تھا۔‘‘ لیکن حر اور اس کے ساتھیوں نے حسین علیہ السلام کو ایسا نہ کرنے دیا اور کہا: ’’آپ واپس تو نہیں جا سکتے، البتہ کسی ایسے راستے پر چل پڑیے جو نہ مدینہ جاتا ہو اور نہ کوفہ پہنچتا ہو تاکہ میں ابن زیاد کے سامنے یہ عذر کرنے کے قابل تو ہو سکوں کہ آپ کسی اور راستے سے آ رہے تھے، میرا اور آپ کا سامنا ہی نہیں ہوا، اس لیے میں آپ کو گرفتار نہیں کر سکا۔‘‘ اس پر حسین علیہ السلام نے داہنا راستہ لیا اور ’’عذیب الہجانات‘‘ جا پہنچے۔ (اللہوف لابن طاؤوس: 67 المجالس الفاخرۃ: 87)

آیت اللہ محمد تقی آل بحر العلوم لکھتا ہے:

’’حسین (رضی اللہ عنہ) ایک چادر، ایک تہبند اور جوتیوں کے ایک جوڑے کے ساتھ نکلے، آپ نے تلوار کی نیام پر سہارا لیا ہوا تھا۔ قوم نے استقبال کیا۔ آپ نے حمد و ثنا کے بعد فرمایا: ’’اب میرا معاملہ اللہ اور تمہارے حوالے ہے جب تک تمہارے خطوط میرے پاس نہیں آئے اور تمہارے قاصد میرے پاس نہیں پہنچے، جنہوں نے تم لوگوں کی طرف سے پیغام دیا کہ ہمارے پاس چلے آئیے کیونکہ اس وقت ہمارا کوئی امام نہیں شاید اللہ آپ کی وجہ سے ہمیں حق پر جمع کر دے، میں تمہارے پاس نہیں آیا۔ پس اگر تو تم اپنی بات پر قائم ہو، تو لو میں تو آ چکا، اب مجھے عہد و میثاق دو تاکہ میں مطمئن ہو جاؤں اور اگر میرا آنا تم لوگوں کو ناگوار ہے، تو ادھر لوٹ جاتا ہوں جدھر سے آیا تھا۔‘‘ یہ سن کر سب نے دم سادھ لیے اور خاموش ہو گئے۔ اتنے میں حجاج بن مسروق جعفی نے ظہر کی نماز کی اذان دے دی۔

حسین (رضی اللہ عنہما) نے حر سے پوچھا: ’’کیا تم اپنے ساتھیوں کو (علیحدہ) نماز پڑھاؤ گے؟‘‘ حر نے جواب دیا: نہیں بلکہ ہم آپ کے پیچھے اکٹھے نماز پڑھیں گے۔ پس حسین (رضی اللہ عنہما) نے ان سب کو نماز پڑھائی۔ نماز کے بعد لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور حمد و صلوٰۃ کے بعد یہ ارشاد فرمایا: اے لوگ! اگر تم اللہ سے ڈرو اور اہل حق کا حق پہچانو تو یہ بات رب تعالیٰ کو بے حد راضی کرنے والی ہے۔ ہم محمدﷺ کے اہل بیت اس امر کے ان لوگوں سے زیادہ مستحق ہیں، جو اس امر کے دعوے دار ہیں، حالانکہ وہ اس کے اہل نہیں اور وہ ظلم و جور کے خوگر بھی ہیں اور اگر تم لوگ ہم سے کراہت کرتے ہو اور ہمارے حق سے جہالت برتتے ہو اور اب تمہاری وہ رائے نہیں، جس کا اظہار تم لوگوں نے اپنے بھیجے جانے والے خطوط میں کیا تھا تو میں لوٹ جاتا ہوں۔‘‘

یہ سن کر حر بولا: جانے آپ کن خطوط کا ذکر کر رہے ہیں؟ مجھے تو یاد نہیں۔ اس پر حسین (رضی اللہ عنہما) نے عقبہ بن عامر کو حکم دیا تو اس نے دو خورجیاں نکالیں، جو اہل کوفہ کے بھیجے گئے خطوط سے بھری تھیں۔ حر بولا: میں ان لوگوں میں سے نہیں جنہوں نے خطوط لکھے تھے۔ مجھے تو بس یہ حکم ملا ہے کہ جب میری آپ سے ملاقات ہو تو جب تک میں کوفہ میں آپ کو ابن زیاد کے سامنے پیش نہ کر دوں، اس وقت تک آپ کے ساتھ ساتھ رہوں اور آپ سے جدا نہ ہوں۔ حسین علیہ السلام نے کہا: موت تیرے اس بات سے زیادہ قریب ہے اور اپنے اصحاب کو سوار ہونے کا حکم دے دیا۔ آپ کے ساتھ اہل بیت کی خواتین بھی سواریوں پر سوار ہو گئیں اور مدینہ کی طرف رخ کر لیا۔ یہ دیکھ کر حر نے اپنی فوج لے کر مدینہ کے راستے کو روک لیا۔ حسین (رضی اللہ عنہما) نے کہا: تیری ماں تجھے گم کرے، تو ہم سے کیا چاہتا ہے؟ حر نے یہ سن کر کہا: اگر آپ کے علاوہ کوئی عرب میرے سامنے ایسے حال میں ہوتا اور مجھے یہ بات کرتا، تو میں بھی اس کی ماں کو یہی بات کہتا چاہے خواہ وہ کوئی بھی ہوتا۔ اللہ کی قسم! ہم آپ کی والدہ کو کچھ بھی نہیں کہہ سکتے ہاں بہتر سے بہتر جو بات ہم کر سکتے ہیں، وہی کہہ سکتے ہیں۔ بس اب ایسا راستہ لے لیجیے، جو نہ کوفہ جاتا ہو اور نہ مدینہ تاکہ میں ابن زیاد کو اپنا عذر لکھ کر بھیج سکوں، تاکہ اللہ ہمیں عافیت بخشے اور آپ کی بات کسی آزمائش میں مبتلا نہ کرے۔ (واقعۃ الطف لبحر العلوم: صفحہ 191-192)

یہ واقعہ اور بھی متعدد معتبر و مشہور شیعہ مؤلفین نے لکھا ہے، جس میں اس بات کا ذکر ہے کہ جب کوفہ کے شیعہ نے سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا ساتھ چھوڑ دیا اور آپ سے غداری کا ارتکاب کیا، تو سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے مدینہ واپس جانے کی کوشش کی۔ چنانچہ یہ واقعہ عباس قمی، (منتہی الآمال: صفحہ 464) عبدالرزاق موسوی، (مقتل الحسین: صفحہ 183) باقر شریف قرشی، (فی حیاۃ الامام الحسین: جلد، 3 صفحہ 75) احمد راسم نفیس، (علی خطی الحسسین: صفحہ 11) فاضل عباس حیاوی، (مقتل الحسین: صفحہ 11) شریف جواہری، (مثیر الاحزان: صفحہ 43) اسد حیدر، (مع الحسین فی نہضتہ: صفحہ 165) اروی قصیر قلیط، (خطب المسیرۃ الکربلائیۃ: صفحہ 49) محسن حسینی (الامام الحسین بصیرۃ و حضارۃ: صفحہ 82) عبدالہادی صالح، (جریدۃ الانباء الکوتیۃ یوم: 97/5/17) عبدالحسین شرف الدین (المجالس الفاخرۃ: صفحہ 87) اور رضی القزوینی (تظم الزہراء: صفحہ 174 و ما بعدہا) وغیرہ نے بھی نقل کیا ہے۔

عباس قمی لکھتا ہے:

’’حسین (رضی اللہ عنہ) چلے حتیٰ کہ قصر بنی مقاتل جا اترے۔ کیا دیکھا کہ وہاں ایک خیمہ نصب ہے، جبکہ ایک نیزہ بھی گڑا ہے اور سامنے ایک گھوڑا ہے۔ حسین (رضی اللہ عنہما) نے پوچھا: یہ کس کا خیمہ ہے؟ لوگوں نے بتلایا: یہ عبیداللہ بن حر جعفی کا خیمہ ہے۔ حسین (رضی اللہ عنہما) نے حجاج بن مسروق جعفی نامی اپنا ایک ساتھی اس کے پاس بھیجا۔ اس نے جا کر عبیداللہ جعفی کو سلام کیا۔ ابن حر نے سلام کا جواب دیا، پھر پوچھا: تیرے پیچھے کیا ہے؟ حجاج نے کہا: اے ابن حر! میرے پیچھے وہ عزت و کرامت ہے جو اللہ نے تیری طرف بھیجی ہے، اگر تم وہ عزت و کرامت قبول کرو تو خوب! ابن حر نے پوچھا: وہ عزت و کرامت کیا ہے؟ حجاج نے جواب دیا: یہ رہے حسین بن علی (رضی اللہ عنہما) جو تمہیں اپنی نصرت کی طرف بلا رہے ہیں۔ اگر تم ان کی طرف سے لڑو گے، تو ماجور ہو گے اور اگر تم ان کے سامنے مارے جاؤ گے، تو شہید کہلائے جاؤ گے۔

ابن حر نے اس کا جواب یہ دیا: اے حجاج! اللہ کی قسم میں کوفہ سے صرف اس ڈر سے نکلا ہوں کہ حسین (رضی اللہ عنہ) کوفہ داخل ہوں اور میں ان کی مدد کرنے سے محروم رہوں (اس لیے میں نے کوفہ ہی چھوڑ دیا ہے) کیونکہ کوفہ کے شیعہ اور انصار اب دنیا کی طرف مائل ہو چکے ہیں، ہاں جسے اللہ نے محفوظ رکھا۔ پس تم حسین (رضی اللہ عنہ) کے پاس جاؤ اور انہیں کوفہ، اہل کوفہ اور میرے حال کی خبر کر دو۔ حجاج جعفی نے جا کر سارا حال سنا دیا، تو جناب حسین (رضی اللہ عنہ) نے جلدی سے جوتا پہنا اور اپنے بھائیوں اور اہل بیت کی ایک جماعت لے کر ابن حر کے پاس جا پہنچے۔ حسین (رضی اللہ عنہ) نے داخل ہو کر سلام کیا۔ ابن حر صدر مجلس سے لپک کر اٹھا اور اس نے حسین (رضی اللہ عنہ) کے ہاتھوں اور پیروں کو بوسہ دیا۔ حسین (رضی اللہ عنہ) مجلس میں بیٹھ گئے، پھر رب تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ’’اے ابن حر! تمہارے شہر کے لوگوں نے مجھے خطوط لکھے ہیں اور بتلایا کہ وہ میری مدد و نصرت پر جمع ہیں۔ ان لوگوں نے مجھ سے کوفہ چلے آنے کا مطالبہ کیا ہے، اس لیے میں چلا آیا۔ لیکن بات اس سے مختلف نظر آئی ہے۔ میں تمہیں اپنے اہل بیت کی نصرت کی طرف بلاتا ہوں۔ پس اگر تو ہمیں ہمارا حق ملا گیا تو ہم اللہ کی حمد بیان کریں گے اور اسے قبول کریں گے اور اگر ہمارے حق کو روکا گیا تو تم میری مدد کرنا۔‘‘ ابن حر نے کہا: اے رسول اللہﷺ اور ان کی آل کے بیٹے! اگر کوفہ میں آپ کے شیعہ اور انصار ہیں، جو آپ کے ساتھ ہو کر لڑیں گے تو میں ان سب سے بڑھ کر آپ کا مددگار ہوں گا، لیکن بات یہ ہے کہ میں نے کوفہ میں آپ کے شیعوں کو بنی امیہ کی تلواروں کے ڈر سے گھروں سے بھاگ جاتے دیکھا ہے۔ غرض ابن حر نے حسین (رضی اللہ عنہ) کی مدد سے انکار کر دیا، جس پر حسین (رضی اللہ عنہ) اپنے اصحاب اور اہل بیت کو لے کر آگے چل دئیے۔‘‘ (منتہی الآمال للقمی: جلد، 1 صفحہ 466)