سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا کوفہ کی طرف خروج شیعی…

سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا کوفہ کی طرف خروج شیعی روایات کی روشنی میں

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 1 از 2

عباس قمی اور عبدالہادی صالح لکھتا ہے:

’’حسین بن علی (رضی اللہ عنہما) نے جب مکہ سے خروج کا ارادہ کیا تو پہلے طواف اور سعی کی، پھر بال کتروائے اور احرام کھول کر حلال ہوئے کیونکہ آپ کو مکہ میں اپنی گرفتاری یا قتل ہو جانے کے ڈر سے حج پورا کرنا ممکن نہ تھا۔ پھر 8ذی الحجہ کو آپ نے اپنے اصحاب کو جمع کر کے ان میں یہ خطبہ دیا:

’’سب تعریفیں اسی اللہ کی ہیں، وہی ہوتا ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ نیکی پر لانے کی قوت صرف اللہ کو ہے۔ اللہ کا درود و سلام ہو اس کے رسول پر۔ اللہ نے اولاد آدم کی موت کا خط کھینچ دیا ہوا ہے اور موت کا پھندا بندوں کے گلے میں ڈال دیا ہوا ہے اور میں اپنے اسلاف کی شہادتوں پر اس طرح غم زدہ نہیں جس طرح یعقوب (علیہ السلام)، یوسف (علیہ السلام) کے فراق میں غمگین و مشتاق تھے۔ کل قتل کے جس میدان سے میرا سابقہ پڑنے والا ہے، وہ میرے لیے بہتر ہے۔ گویا کل نواویس اور کربلا کے درمیان جنگلوں کے بھیڑیے مجھے چیر پھاڑ دیں گے۔ لیکن انہیں میرے خالی معدے اور خالی توشے کو دیکھ کر سخت ملال ہو گا (یعنی میں میدان کربلا میں بھوکا پیاسا مارا جاؤ ں گا)۔

تقدیر کے قلم نے موت کا جو دن لکھ دیا ہے اس سے فرار نہیں ۔ اے اہل بیت! اللہ ہماری رضا پر ہم سے راضی ہو گا، ہم اپنی مصیبت و بلا پر صبر کریں گے، اللہ ہمیں صابرین والا پورا پورا اجر دے گا۔‘‘ (منتہی الآمال: جلد، 1 صفحہ 453 خیر الاصحاب: صفحہ 33)

دکتور احمد راسم نفیس لکھتا ہے:

’’مشہور شاعر فرزدق کی حسینی قافلہ سے اثنائے طریق میں ملاقات ہو گئی۔ فرزدق نے حسین (رضی اللہ عنہ) کو سلام کیا اور عرض کیا: اے ابن رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان، حج مکمل کیے بغیر کس بات نے آپ کو اس قدر عجلت میں ڈال دیا؟ حسین (رضی اللہ عنہما) نے جواب دیا: اگر میں جلدی نہ نکل آتا، تو گرفتار کر لیا جاتا۔

پھر حسین بن علی (رضی اللہ عنہما) نے فرزدق سے لوگوں کے بارے میں پوچھا، تو اس نے جواب دیا: ان کے دل تو آپ کے ساتھ ہیں مگر ان کی تلواریں آپ کے خلاف ہیں۔‘‘ حسین (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: تم نے ٹھیک کہا ہے۔ امر اللہ ہی کا ہے اور ہر روز اس کی ایک نئی شان ہے۔ اگر تو معاملہ ہماری مرضی کے موافق پیش آیا تو رب تعالیٰ کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کریں گے، شکر ادا کرنے پر بھی اسی سے مدد درکار ہے، اور گر قضا ہماری امیدوں کی راہ میں حائل ہو گئی، تو جن کی نیت سچی اور باطن متقی ہوتا ہے ان کے ساتھ ایسے امر کا پیش آ جانا بعید نہیں۔‘‘ (علی خطی الحسین: صفحہ 99-100 الشیعۃ و عاشوراء: صفحہ 178 ذرا یہ بھی ملاحظہ کر لیجیے کہ احمد راسم اور عباس قمی کی باتوں میں کس قدر تضاد ہے۔ احمد راسم سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا یہ قول لکھتا ہے کہ ’’اگر تو تقدیر ہماری مرضی کے موافق آ گئی‘‘ جبکہ عباس قمی لکھتا ہے: ’’میں دیکھ رہا ہوں کہ نواویس اور کربلا کے درمیان جنگل کے بھیڑیے مجھے چیر پھاڑ دیں گے۔‘‘)

علی بن موسیٰ بن جعفر بن طاؤ وس حسینی لکھتا ہے:

’’راوی کہتا ہے: حسین (رضی اللہ عنہما) چل کر کوفہ سے دو مراحل تک جا پہنچے۔ وہاں حر بن یزید ایک ہزار گھڑ سواروں کے ساتھ موجود تھا۔ حسین علیہ السلام نے پوچھا: ’’ہماری مدد کو آئے ہو یا ہمارے خلاف آئے ہو؟‘‘ حر نے جواب دیا: نہیں بلکہ اے ابو عبداللہ! میں آپ کے خلاف آیا ہوں۔‘‘ حسین بن علی (رضی اللہ عنہما) نے جواب دیا: ’’لا حول و لا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔‘‘ پھر دونوں میں گفتگو ہوتی رہی، حتیٰ کہ حسین علیہ السلام نے اسے کہا: ’’اگر تو تم میرے پاس آنے والے خطوط اور قاصدوں کے خلاف چل رہے ہو تو میں ادھر ہی لوٹ جاتا ہوں جہاں سے آیا تھا۔‘‘ لیکن حر اور اس کے ساتھیوں نے حسین علیہ السلام کو ایسا نہ کرنے دیا اور کہا: ’’آپ واپس تو نہیں جا سکتے، البتہ کسی ایسے راستے پر چل پڑیے جو نہ مدینہ جاتا ہو اور نہ کوفہ پہنچتا ہو تاکہ میں ابن زیاد کے سامنے یہ عذر کرنے کے قابل تو ہو سکوں کہ آپ کسی اور راستے سے آ رہے تھے، میرا اور آپ کا سامنا ہی نہیں ہوا، اس لیے میں آپ کو گرفتار نہیں کر سکا۔‘‘ اس پر حسین علیہ السلام نے داہنا راستہ لیا اور ’’عذیب الہجانات‘‘ جا پہنچے۔ (اللہوف لابن طاؤوس: 67 المجالس الفاخرۃ: 87)

آیت اللہ محمد تقی آل بحر العلوم لکھتا ہے:

’’حسین (رضی اللہ عنہ) ایک چادر، ایک تہبند اور جوتیوں کے ایک جوڑے کے ساتھ نکلے، آپ نے تلوار کی نیام پر سہارا لیا ہوا تھا۔ قوم نے استقبال کیا۔ آپ نے حمد و ثنا کے بعد فرمایا: ’’اب میرا معاملہ اللہ اور تمہارے حوالے ہے جب تک تمہارے خطوط میرے پاس نہیں آئے اور تمہارے قاصد میرے پاس نہیں پہنچے، جنہوں نے تم لوگوں کی طرف سے پیغام دیا کہ ہمارے پاس چلے آئیے کیونکہ اس وقت ہمارا کوئی امام نہیں شاید اللہ آپ کی وجہ سے ہمیں حق پر جمع کر دے، میں تمہارے پاس نہیں آیا۔ پس اگر تو تم اپنی بات پر قائم ہو، تو لو میں تو آ چکا، اب مجھے عہد و میثاق دو تاکہ میں مطمئن ہو جاؤں اور اگر میرا آنا تم لوگوں کو ناگوار ہے، تو ادھر لوٹ جاتا ہوں جدھر سے آیا تھا۔‘‘ یہ سن کر سب نے دم سادھ لیے اور خاموش ہو گئے۔ اتنے میں حجاج بن مسروق جعفی نے ظہر کی نماز کی اذان دے دی۔

حسین (رضی اللہ عنہما) نے حر سے پوچھا: ’’کیا تم اپنے ساتھیوں کو (علیحدہ) نماز پڑھاؤ گے؟‘‘ حر نے جواب دیا: نہیں بلکہ ہم آپ کے پیچھے اکٹھے نماز پڑھیں گے۔ پس حسین (رضی اللہ عنہما) نے ان سب کو نماز پڑھائی۔ نماز کے بعد لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور حمد و صلوٰۃ کے بعد یہ ارشاد فرمایا: اے لوگ! اگر تم اللہ سے ڈرو اور اہل حق کا حق پہچانو تو یہ بات رب تعالیٰ کو بے حد راضی کرنے والی ہے۔ ہم محمدﷺ کے اہل بیت اس امر کے ان لوگوں سے زیادہ مستحق ہیں، جو اس امر کے دعوے دار ہیں، حالانکہ وہ اس کے اہل نہیں اور وہ ظلم و جور کے خوگر بھی ہیں اور اگر تم لوگ ہم سے کراہت کرتے ہو اور ہمارے حق سے جہالت برتتے ہو اور اب تمہاری وہ رائے نہیں، جس کا اظہار تم لوگوں نے اپنے بھیجے جانے والے خطوط میں کیا تھا تو میں لوٹ جاتا ہوں۔‘‘

صفحہ 1 از 2