سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا کوفہ کی طرف خروج شیعی…

سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا کوفہ کی طرف خروج شیعی روایات کی روشنی میں

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 2 از 2

یہ سن کر حر بولا: جانے آپ کن خطوط کا ذکر کر رہے ہیں؟ مجھے تو یاد نہیں۔ اس پر حسین (رضی اللہ عنہما) نے عقبہ بن عامر کو حکم دیا تو اس نے دو خورجیاں نکالیں، جو اہل کوفہ کے بھیجے گئے خطوط سے بھری تھیں۔ حر بولا: میں ان لوگوں میں سے نہیں جنہوں نے خطوط لکھے تھے۔ مجھے تو بس یہ حکم ملا ہے کہ جب میری آپ سے ملاقات ہو تو جب تک میں کوفہ میں آپ کو ابن زیاد کے سامنے پیش نہ کر دوں، اس وقت تک آپ کے ساتھ ساتھ رہوں اور آپ سے جدا نہ ہوں۔ حسین علیہ السلام نے کہا: موت تیرے اس بات سے زیادہ قریب ہے اور اپنے اصحاب کو سوار ہونے کا حکم دے دیا۔ آپ کے ساتھ اہل بیت کی خواتین بھی سواریوں پر سوار ہو گئیں اور مدینہ کی طرف رخ کر لیا۔ یہ دیکھ کر حر نے اپنی فوج لے کر مدینہ کے راستے کو روک لیا۔ حسین (رضی اللہ عنہما) نے کہا: تیری ماں تجھے گم کرے، تو ہم سے کیا چاہتا ہے؟ حر نے یہ سن کر کہا: اگر آپ کے علاوہ کوئی عرب میرے سامنے ایسے حال میں ہوتا اور مجھے یہ بات کرتا، تو میں بھی اس کی ماں کو یہی بات کہتا چاہے خواہ وہ کوئی بھی ہوتا۔ اللہ کی قسم! ہم آپ کی والدہ کو کچھ بھی نہیں کہہ سکتے ہاں بہتر سے بہتر جو بات ہم کر سکتے ہیں، وہی کہہ سکتے ہیں۔ بس اب ایسا راستہ لے لیجیے، جو نہ کوفہ جاتا ہو اور نہ مدینہ تاکہ میں ابن زیاد کو اپنا عذر لکھ کر بھیج سکوں، تاکہ اللہ ہمیں عافیت بخشے اور آپ کی بات کسی آزمائش میں مبتلا نہ کرے۔ (واقعۃ الطف لبحر العلوم: صفحہ 191-192)

یہ واقعہ اور بھی متعدد معتبر و مشہور شیعہ مؤلفین نے لکھا ہے، جس میں اس بات کا ذکر ہے کہ جب کوفہ کے شیعہ نے سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا ساتھ چھوڑ دیا اور آپ سے غداری کا ارتکاب کیا، تو سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے مدینہ واپس جانے کی کوشش کی۔ چنانچہ یہ واقعہ عباس قمی، (منتہی الآمال: صفحہ 464) عبدالرزاق موسوی، (مقتل الحسین: صفحہ 183) باقر شریف قرشی، (فی حیاۃ الامام الحسین: جلد، 3 صفحہ 75) احمد راسم نفیس، (علی خطی الحسسین: صفحہ 11) فاضل عباس حیاوی، (مقتل الحسین: صفحہ 11) شریف جواہری، (مثیر الاحزان: صفحہ 43) اسد حیدر، (مع الحسین فی نہضتہ: صفحہ 165) اروی قصیر قلیط، (خطب المسیرۃ الکربلائیۃ: صفحہ 49) محسن حسینی (الامام الحسین بصیرۃ و حضارۃ: صفحہ 82) عبدالہادی صالح، (جریدۃ الانباء الکوتیۃ یوم: 97/5/17) عبدالحسین شرف الدین (المجالس الفاخرۃ: صفحہ 87) اور رضی القزوینی (تظم الزہراء: صفحہ 174 و ما بعدہا) وغیرہ نے بھی نقل کیا ہے۔

عباس قمی لکھتا ہے:

’’حسین (رضی اللہ عنہ) چلے حتیٰ کہ قصر بنی مقاتل جا اترے۔ کیا دیکھا کہ وہاں ایک خیمہ نصب ہے، جبکہ ایک نیزہ بھی گڑا ہے اور سامنے ایک گھوڑا ہے۔ حسین (رضی اللہ عنہما) نے پوچھا: یہ کس کا خیمہ ہے؟ لوگوں نے بتلایا: یہ عبیداللہ بن حر جعفی کا خیمہ ہے۔ حسین (رضی اللہ عنہما) نے حجاج بن مسروق جعفی نامی اپنا ایک ساتھی اس کے پاس بھیجا۔ اس نے جا کر عبیداللہ جعفی کو سلام کیا۔ ابن حر نے سلام کا جواب دیا، پھر پوچھا: تیرے پیچھے کیا ہے؟ حجاج نے کہا: اے ابن حر! میرے پیچھے وہ عزت و کرامت ہے جو اللہ نے تیری طرف بھیجی ہے، اگر تم وہ عزت و کرامت قبول کرو تو خوب! ابن حر نے پوچھا: وہ عزت و کرامت کیا ہے؟ حجاج نے جواب دیا: یہ رہے حسین بن علی (رضی اللہ عنہما) جو تمہیں اپنی نصرت کی طرف بلا رہے ہیں۔ اگر تم ان کی طرف سے لڑو گے، تو ماجور ہو گے اور اگر تم ان کے سامنے مارے جاؤ گے، تو شہید کہلائے جاؤ گے۔

ابن حر نے اس کا جواب یہ دیا: اے حجاج! اللہ کی قسم میں کوفہ سے صرف اس ڈر سے نکلا ہوں کہ حسین (رضی اللہ عنہ) کوفہ داخل ہوں اور میں ان کی مدد کرنے سے محروم رہوں (اس لیے میں نے کوفہ ہی چھوڑ دیا ہے) کیونکہ کوفہ کے شیعہ اور انصار اب دنیا کی طرف مائل ہو چکے ہیں، ہاں جسے اللہ نے محفوظ رکھا۔ پس تم حسین (رضی اللہ عنہ) کے پاس جاؤ اور انہیں کوفہ، اہل کوفہ اور میرے حال کی خبر کر دو۔ حجاج جعفی نے جا کر سارا حال سنا دیا، تو جناب حسین (رضی اللہ عنہ) نے جلدی سے جوتا پہنا اور اپنے بھائیوں اور اہل بیت کی ایک جماعت لے کر ابن حر کے پاس جا پہنچے۔ حسین (رضی اللہ عنہ) نے داخل ہو کر سلام کیا۔ ابن حر صدر مجلس سے لپک کر اٹھا اور اس نے حسین (رضی اللہ عنہ) کے ہاتھوں اور پیروں کو بوسہ دیا۔ حسین (رضی اللہ عنہ) مجلس میں بیٹھ گئے، پھر رب تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ’’اے ابن حر! تمہارے شہر کے لوگوں نے مجھے خطوط لکھے ہیں اور بتلایا کہ وہ میری مدد و نصرت پر جمع ہیں۔ ان لوگوں نے مجھ سے کوفہ چلے آنے کا مطالبہ کیا ہے، اس لیے میں چلا آیا۔ لیکن بات اس سے مختلف نظر آئی ہے۔ میں تمہیں اپنے اہل بیت کی نصرت کی طرف بلاتا ہوں۔ پس اگر تو ہمیں ہمارا حق ملا گیا تو ہم اللہ کی حمد بیان کریں گے اور اسے قبول کریں گے اور اگر ہمارے حق کو روکا گیا تو تم میری مدد کرنا۔‘‘ ابن حر نے کہا: اے رسول اللہﷺ اور ان کی آل کے بیٹے! اگر کوفہ میں آپ کے شیعہ اور انصار ہیں، جو آپ کے ساتھ ہو کر لڑیں گے تو میں ان سب سے بڑھ کر آپ کا مددگار ہوں گا، لیکن بات یہ ہے کہ میں نے کوفہ میں آپ کے شیعوں کو بنی امیہ کی تلواروں کے ڈر سے گھروں سے بھاگ جاتے دیکھا ہے۔ غرض ابن حر نے حسین (رضی اللہ عنہ) کی مدد سے انکار کر دیا، جس پر حسین (رضی اللہ عنہ) اپنے اصحاب اور اہل بیت کو لے کر آگے چل دئیے۔‘‘ (منتہی الآمال للقمی: جلد، 1 صفحہ 466)


صفحہ 2 از 2