محمد بن ابی بکرؓ گستاخ، عبد الرّحمٰن بن عدلیسؓ اور عمر بن الحمقؓ دونوں بدمعاش تھے(العیاذ باللّٰہ)۔
مولانا ابوالحسن ہزارویمحمد بن ابی بکرؓ گستاخ، عبد الرّحمٰن بن عدلیسؓ اور عمر بن الحمقؓ دونوں بدمعاش تھے(العیاذ باللّٰہ)۔
(سیف اِسلام از مہر محمد میانوالی)
الجواب اہلِ سُنَّت
1- حضرت عُثمان رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کی شہادت میں جِن لوگوں نے حصہ لیا اس کتاب میں ان کی نشاندہی کی گئی ہے اگرچہ ان لوگوں کو سیاسی ٹولہ نے ایسے ایسے جھوٹے اور پرفریب پروپیگنڈہ میں گُمراہ کر دیا تھا اور یہ اپنا کام اس سیاسی پروپیگنڈہ سے متاثر ہو کر کر رہے تھے مگر یہ جرم کوئی معمولی نہ تھا سخت درجہ کا قصور ہوا جِس پر صاحبِ کتاب لکھتے ہیں۔ "پہلی گُستاخی تو محمد بن ابوبکرؓ نے کی مگر وہ باپ کا حوالہ سُن کر شرمایا اور پیچھے ہٹا پھر بدمعاشوں کا ایک گروہ اندر آیا۔ الخ۔
2۔ اِس عبارت میں صاف لِکھا ہوا ہے کہ محمد بن ابی بکرؓ نے اگرچہ اول گستاخی کی مگر بالآخر وہ شرمندہ ہو کر ہٹ گیا اور اپنے اس جرم و قصور پر نادم ہوا غلطی کرنے کے بعد اگر کوئی شخص توبہ کر لیتا ہے تو اس توبہ پر معافی مل جاتی ہے ایسے گزشتہ قصور پر الزام دینا کِسی طرح سے درست نہیں ہوا کرتا۔ کتاب والے نے تو یہ الفاظ نشاندہی کے لیے لکھے ہیں کہ وہ شرمندہ ہو کر اپنے جرم سے باز آ گیا تھا مگر ظالم قلم کاروں نے الٹی گنگا بہانے کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے جو ہر بات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔