Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے خروج کے بارے میں حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا موقف

  حامد محمد خلیفہ عمان

حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فتنوں سے سب سے زیادہ دُور رہنے والے اور امن و سلامتی اور عافیت کے سب سے زیادہ حریص تھے۔ لیکن جب یہ لوگ کسی مخالف شرع بات کو دیکھتے تھے، تو ہرگز بھی خاموش نہ رہتے تھے۔ جب کوفہ کے غداروں اور مکاروں نے سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو بیعت کرنے کے خطوط لکھے اور انہیں حضرات خلفائے راشدین کے طرز پر احیائے سنت اور عمل جہاد کی دعوت دی، تو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے ان کی دعوت کو قبول کر لینا لازم سمجھا۔ ان کا یہ اعتقاد تھا کہ اب ان کے پاس جہاد فی سبیل اللہ سے بیٹھ رہنے کا کوئی عذر نہیں۔ بالخصوص سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے جی میں دینی غیرت و حمیت بے حد شدید تھی۔ بیان کیا جاتا ہے کہ جناب حسن رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ جناب حسین رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے میرے بھائی! اللہ کی قسم! میری تمنا ہے کہ آپ کے دل کی کچھ شدت مجھے مل جائے۔ تو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے جواب میں یہ فرمایا: ’’اور اللہ کی قسم! میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کی زبان کی تھوڑی سی نرمی مجھے مل جاتی۔‘‘ (تاریخ الاسلام للذہبی: جلد، 2 صفحہ 83)

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی اسی دینی غیرت اور اس کی شدت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، کوفیوں نے آپ کو ظلم کی داستانیں لکھ بھیجیں اور زور دیا کہ ان گمبھیر حالات میں ہمیں آپ کی نصرت و حمایت کی شدید ضرورت ہے۔ چنانچہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کمزور کی نصرت اور اقامت حق کی نیت سے کوفہ روانہ ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔ لیکن آپ کے دل میں یہ بات نہ آئی کہ یہی لوگ شہید مظلوم امیر المومنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے قاتل ہیں۔ ان لوگوں نے مظلومیت کا جھوٹا ڈھونگ رچایا اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے نیکو کار اور مخلص والیوں کی طرف ظلم و عدوان کو منسوب کیا۔ حالانکہ یہ لوگ پرلے درجے کے ظالم و فاجر اور فتنہ پرور تھے، جنہوں نے امام شہید سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دَور خلافت میں امت کو ظلم و بے انصافی کے چرچوں میں مشغول رکھا اور رقعہ اسلام کو افواہوں سے بھر دیا تھا۔

حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان دشمنانِ صحابہ سے بخوبی واقف تھے، جنہوں نے امیر المومنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو دھوکے سے قتل کر دیا۔ پھر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ بھی ان کی قاتلانہ ریشہ دوانیوں سے محفوظ نہ رہ سکے اور انہیں ایک بدبخت کے ہاتھوں کدال کا گہرا وار سہنا پڑا۔ کوفیوں کے اسی سابقہ کردار کو دیکھتے ہوئے، آل بیت کے اکابر اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے بھی سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے اس ارادے کو درست قرار نہ دیا اور نہ آپ کے کوفہ جانے کی تائید کی۔ بالخصوص جبکہ اس وقت جماعت قائم تھی، امت میں وحدت تھی، جملہ اقالیم اور بلاد و امصار پر امراء تعینات تھے اور حدود و ثغور مامون و محفوظ تھیں۔ ان جملہ حالات اور کوفیوں کے سابقہ کردار کی وجہ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کوکوفہ کے غدر و خیانت پر ذرا بھی بھروسہ نہ تھا، انہیں اس بات کا بے حد اندیشہ تھا کہ کہیں سید آل بیت سیّدنا و سید العالمین حضرت محمد مصطفی و احمد مجتبیٰﷺ کے یہ چشم و چراغ ان کوفیوں کے دامِ ہم رنگ زمین میں نہ جا پھنسیں جو امت مسلمہ کی وحدت کو دیکھ کر کبھی چین کی نیند نہ سوتے تھے اور ہر وقت افتراق و انتشار کے تانے بانے بننے میں مصروفِ عمل رہتے تھے۔ اس لیے معمولی سے ظلم کو بہانہ بنانا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا، بات کا بتنگڑ اور حبہ کو قبہ بنانا ان کا شعار تھا اور لوگوں کو فتنوں کے بھنور میں پھنسانا ان کا نصب العین تھا۔

کوفیوں کے اس نہایت شرم ناک کردار اور سیاہ تاریخ کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کرنا ذرا بھی مشکل نہیں کہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے قاتل کون تھے؟ جی ہاں ! خانوادۂ رسولﷺ کے اس چراغ کو اپنی زہریلی پھونکیں مار کر بجھانے والے یہی روافض تھے، جن کے دل عداوت صحابہ رضی اللہ عنہم سے آج بھی لتھڑے ہوئے ہیں۔ ان لوگوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو فتنوں کے جال میں جکڑنے کے لیے ہر ممکن زور لگا دیا تھا۔ چنانچہ جب انہوں نے دیکھا کہ اب ان کی سازش تیار ہے تو کربلا کا میدان سجا دیا اور آل بیت رسولﷺ کے خون کو خاک میں ملانے لگے۔

آئیے پڑھتے ہیں کہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو کن کن اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم نے کوفہ جانے سے روکا تھا۔