Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت طلحہ و زبیر رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہما نے مقامِ حواب پر جھوٹی گواہی دلائی۔

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

 حضرت طلحہ و زبیر رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہما نے مقامِ حواب پر جھوٹی گواہی دلائی۔ 

(انسان العیون) 

 الجواب اہلسنّت

اتنی بات تو درست ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہا جب مسلمان ملت میں صلح کے ارادہ سے مکہ سے بصرہ کی طرف تشریف لے چلیں اور راستہ میں اس جگہ پہنچیں تو پوچھنے پر کسی نے کہا یہ مقامِ حواب ہے اس پر سیدہ عائشہ صدیقه رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہا نے پرزور طریقہ سے اصرار فرمایا ردونی ردونی ردرونی کہ مجھے واپس لوٹاؤ۔ مجھے واپس لوٹاؤ۔ مجھے واپس لوٹاؤ۔ تو وہاں کے باشندگان نے کہا کہ یہ مقامِ حواب نہیں اور اس پر 50 آدمی اور بعض تاریخوں میں 80 آدمی (تحفہ اثنا عشریہ صفحہ 687) اس علاقہ کے کسان اور وہاں کے باسیوں نے گواہی دی کہ اس پانی کا نام حواب نہیں ہے۔ ان کثیر تعداد میں گواہی دینے والوں پر اعتماد کر کے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہا آگے کو روانہ ہو گئیں۔ مگر گواہی دینے والے جھوٹے تھے، یہ کس نے مؤرخ کو بتا دیا اور دعویٰ کی کیا دلیل ہے؟؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ بات مؤرخ کی اپنی ہے جو دعویٰ بلا دلیل ہے اور بلا دلیل دعویٰ کا قبول کرنا (جبکہ وہ دعویٰ سخت متنازعہ بلکہ جھوٹا ہو) حماقت اور نا سمجھی ہے۔ روافض شیعہ کو اس کا کچھ نفع نہیں ملنا۔ 

 بالفرض شیعہ لوگوں کی بات مان ہی لی جائے کہ تمہاری کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ یہ گواہی دینے والے سارے جھوٹے تھے۔ تو بھی ان کے لیے کُچھ نفع نہیں۔ اس لیے کہ شریعت کا قانون مجرم کو سزا دینے کا ہے نہ کہ جرم کرتے وقت موجود ان لوگوں کو سزا دینے کا جو اس جرم کی حقیقت سے ناواقف ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جرم تو جھوٹی گواہی دینے والوں کا ہے اس میں طلحہ رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ و زبیر رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ و صحابہ کرام رضوان اللّٰه علیھم پر طعن کرنے کا جواز کہاں سے نکل آیا؟؟ پنجابی کی مثال اس رافضی شیعہ کرشمہ پر پوری طرح صادق آتی ہے۔ 

"ڈھڈھ پیڑ کھوتی نوں تے ڈم دیوو کمہار نوں۔"

(پیٹ کا درد گدھی کو ہے اور ڈم (ایک علاج) کمہار کو دیا جا رہا ہے۔) 

قصور کِسی کا اور سزا کِسی کو یہ عجیب تماشہ ہے جو عجيب دماغوں کی پیداوار ہے۔