ولید بن عقبہؓ نے شراب پی کر صبح کی نماز چار رکعت پڑھا دی۔
مولانا ابوالحسن ہزارویولید بن عقبہؓ نے شراب پی کر صبح کی نماز چار رکعت پڑھا دی۔
(تاریخ الخلفاء)
(تہذیب الاسماء و اللغات، الفتاح الکبری، خلافت و ملوکیت، مجموع فتاویٰ لابن تیمیہ، شرح عقیدہ الطحاویہ، مدارج النبوّت، شرح فقہ اکبر، الاصابہ فی تمیز الصحابه)
الجواب اہلسنّت
1۔ تاریخ خلفاء اصل کتاب کی بجائے مترجم کتاب کا صفحہ 197 بیان الامراء۔ پیش کیا ہے مذکورہ مقام کی اصل عبارت اور ترجمہ ملا کر ملاحظہ فرمائیں اور ترجمہ کرنے والے حکیم شبیر احمد انصاری کے کمال بدیانتی کی داد دیں۔ اصل الفاظ ہیں۔
*"حُکي ان الوليد صلٰى بهم الصبح اربعاً و هو سكراناً۔"*
جِس کا ترجمہ بنتا ہے کہ (حکایت کی گئی ہے کہ ولید نے ان (لوگوں) کو صبح کی نماز چار رکعت پڑھا دی اس حال میں کہ وہ نشے میں تھے).
اور حکیم انصاری صاحب نے جو ترجمہ کیا وہ بھی ملاحظہ کریں۔
"ولیدؓ شرابی آدمی تھے ایک روز صبح کی نماز نشہ میں پڑھائی تو چار رکعت پڑھ کر سلام پھیرا اور مقتدیوں سے کہنے لگا کہو تو اور زیاده پڑھا دوں۔"
(عکسی صفحہ)
ملاحظہ فرمائیں مترجم صاحب نے کِس کمال سے ترجمہ کیا کہ عربی خواں تو دنگ ہی رہ گئے۔ رافضی شیعہ کرم فرماؤں کو بھی ایسے ہی دیانت داروں کی بڑی ضرورت ہے، پنجابی کی مثال ہے:
"گوہ نوں ملی گوہ جہی اوہ تے جہی او۔"
(گوہ کو ملی گوہ جیسی یہ ویسی وہ)۔
اندازہ لگائیے اصل کتاب بھی تو آخر اُن کے پاس تھی خاص طور پر اس انصاری صاحب کا ہی ترجمہ تلاش کر کے اس کا عکس دینا اور اس کتاب کا عکس نہ دینا اسی بددیانتی کا مظاہرہ ہے جس بددیانتی کا مظاہرہ مترجم نے مذکورہ مقام پر کیا۔
2_ یہ واقعہ پیش آیا تو حضرت عُثمان رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ نے انہیں معزول کر دیا اور شرعی حد اُن پر جاری فرمائی، اور شرعیت کا قانون ہے کہ جب کِسی جرم کی مقرر کردہ سزا دے دی جائے تو اسے ملامت کرنا درست نہیں رہتا۔ اگر انہوں نے قصور کیا تو اس کی سزا بھی پائی اور اپنے منصب سے بھی علیحدہ کر دیے گئے۔ اس پر الزام دینے کا کیا جواز ہے..؟
3۔ اگرچہ صحابہ کرام رضوان اللّٰه علیھم اجمعین معصوم نہیں مگر محفوظ ضرور ہیں جِس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کبھی بشری کمزوری کی بنا پر کمی کوتاہی ہو جائے تو دُنیا ہی میں اس کی تلافی کر دی جاتی ہے، مذکورہ کتابوں کے عکسی صفحات میں موصوف کے اوصاف و فضائل بھی بیان کیے گئے ہیں۔ اِن اوصاف کو بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ قصور ان سے سرزد ہو گیا تھا اللّٰه سبحانہ و تعالٰی کے محبوب صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:
کل بني آدم خطاء و خير الخطائين التوابون
(مشکوٰۃ)
(ہر بنی آدم خطا کار ہے اور بہترین خطاء کار وہ شخص ہے جو اپنی خطاؤں سے توبہ کرے۔)
چنانچہ منصب سے علیحدگی اور شرعی سزا کا جاری کیا جانا ان کے پاک ہو جانے کی کافی دلیل ہے۔