Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت ضرار بن الازور رضی اللہ عنہ نے شراب نوشی کی۔ (اسد الغابہ)

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

 حضرت ضرار بن الازورؓ نے شراب نوشی کی۔ (اسد الغابہ)

 الجواب اہلسنّت

مطلوبہ عبارت کا حاصل یہ ہے کہ حضرت ضرارؓ سے یہ قصور واقع ہو گیا تو حضرت ابوعبیدہ رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ نے امیر المؤمنین حضرت عُمَر فاروق رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کو لِکھا کہ یہ واقعہ پیش آیا ہے۔ امیر المؤمنین نے جواب ارشاد فرمایا کہ ضرار سے معلوم کرو اگر انہوں نے یہ قصور حلال جان کر کیا ہے (یعنی جو کُچھ انہوں نے کیا وہ ان کے لیے حلال ہے) تو اُن کو قتل کر دو اور اگر انہوں نے حرام جان کر کیا ہے تو حد لگاؤ۔ جب ضرار رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ سے معلوم کیا گیا تو انہوں نے فرمایا میں نے حرام جان کر ہی یہ قصور کیا ہے۔ لہٰذا ان پر حد جاری کی گئی۔

محترم حضرات ! اِنسان سے غلطی کا ہو جانا بعید نہیں البتہ غلطی کا ازالہ نہ کرنا اور اسی پر جم جانا ہی قصور ہے۔ موصوف نے اعتراف کیا کہ ایک حرام کام کا مجھ سے ارتکاب ہو گیا ہے اس پر حد لگا دی گئی، یہ واقعہ عدل و انصاف کی عدیم المثال نشانی ہے کہ اِسلامی فوج کا نامور سپہ سالار بھی جرم کر بیٹھتا ہے تو وہ بھی عدلِ فاروقی کے سامنے بےبس سزا بھگتتا اور شرعی قانون کا سامنا کرتا ہے، مگر یہ رافضی شیعہ دماغ کا فساد اور خرابی ہے جو اسے دوسرا رنگ دے کر پیش کر رہا ہے۔ سنی کتابوں میں یہ واقعہ اِسلامی عدل کی مثال کے طور پر مرقوم ہے اہانتِ صحابہ کرامؓ کے طور پر نہیں۔