Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ان لوگوں کا ذکر جنہوں نے خطوط لکھ کر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو خروج کرنے سے منع کیا

  حامد محمد خلیفہ عمان

٭حضرت عمرہ بنت عبدالرحمن رضی اللہ عنہا نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو خط میں یہ لکھا:

’’جو آپ چاہتے ہیں، وہ بہت بڑی بات ہے۔‘‘ اور اس خط میں آپ کو اطاعت کرنے اور جماعت کولازم پکڑنے کا حکم دیا اور آپ کو اس بات کی خبر دی کہ آپ اپنی جائے قتل کی طرف لے جائے جا رہے ہیں۔ حضرت عمرہؒ نے قسم کھا کر کہا کہ مجھے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے یہ بیان کیا ہے کہ انہوں نے نبی کریمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے کہ ’’حضرت حسین رضی اللہ عنہما کو سرزمین بابل میں قتل کیا جائے گا۔‘‘ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے جب یہ خط پڑھا، تو فرمایا: تب تو میرا وہاں جانا ناگزیر ہے اور سفر کو جاری رکھا۔

(مختصر تاریخ دمشق، باب جوامع حدیث مقتل الحسین: جلد، 2 صفحہ 441)

٭ حضرت عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ:

حضرت عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بھی خط لکھ کر آپ کو اہل کوفہ سے ڈرایا اور آپ کو اللہ کا واسطہ دیا کہ آپ ان کی طرف نہ جائیں۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے انہیں جواب میں یہ خط لکھا کہ: ’’میں نے ایک خواب دیکھا ہے، جس میں میں نے نبی کریمﷺ کی زیارت کی ہے۔ آپﷺ نے مجھے ایک بات کا حکم دیا ہے، جو میں کرنے جا رہا ہوں اور جب تک میں وہ کام کر نہ لوں، میں کسی کو اس کے بارے میں خبر نہ دوں گا۔‘‘ (بغیۃ الطلب فی تاریخ حلب: جلد، 3 صفحہ 28)

٭ حضرت عمرو بن سعید بن العاص رحمۃ اللہ نے آپ کو خط میں یہ لکھا:

’’میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ کو آپ کے سیدھے امر کی ہدایت دے اور آپ کو اس بات سے پھیر دے، جو آپ کو ہلاک کر ڈالے گی۔ مجھے اس بات کی خبر ملی ہے کہ آپ عراق جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ میں آپ کو شقاق و افتراق میں پڑنے سے اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں۔ اگر آپ کو کسی قسم کا ڈر ہے، تو میرے پاس چلے آئیے۔ میں آپ کو امان بھی دوں گا اور آپ کے ساتھ نیکی و صلہ رحمی بھی کروں گا۔‘‘

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے عمرو بن سعیدؒ کو یہ جواب لکھ بھیجا:

’’ اگر تم نے خط لکھ کر میرے ساتھ نیکی اور صلہ رحمی کرنے کا ارادہ کیا، تو اللہ تمہیں اس کی دنیا و آخرت میں جزا دے اور جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک عمل کرے اور یہ کہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں، وہ شقاق و افتراق کرنے والا نہیں ہوتا اور سب سے بہتر امان اللہ کی امان ہے اور جو دنیا میں اللہ سے نہیں ڈرتا، وہ اللہ پر ایمان نہیں رکھتا۔ ہم اللہ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں دنیا میں اپنا ڈر نصیب کرے کہ یہ ڈر ہمیں آخرت میں اللہ کے ہاں امان دے گا۔‘‘

 (مختصر تاریخ دمشق: جلد، 2 صفحہ 442)