سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا اجتہاد اور اس کی شرعی حیثیت
حامد محمد خلیفہ عماناس مقام پر یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ جب معاملہ اسی نہج پر تھا تو پھر سبط رسولﷺ، جگر گوشہ بتول رضی اللہ عنہا سیدنا حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما نے امت مسلمہ کے مسلمہ اکابر اور جلیل القدر علماء و زعماء کی آراء سے اتفاق کیوں نہ کیا؟ اور خود اپنے اس برادرِ اکبر سیدنا حسن بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کے اجتہاد سے اختلاف کیوں کیا؟ جن کی مصلحت اندیشی اور مصالحت کوشی کی تعریف خود نبی کریمﷺ نے کی تھی کہ وہ امت میں اصلاح ذات البین کا اور اس کی وحدت کا باعث بن کر مصلحین کے اجر و ثواب سے سرفراز ہوں گے۔
پھر اگرچہ حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما دونوں کے اجتہادات کے جوازات میں عظیم فرق بھی تھا، پھر بھی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ شرعی بیعت تھی۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی بیعت اس اکثر عوام نے کی تھی، جنہوں نے خود اس سے قبل امیر المومنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی بیعت کی تھی اور تقریباً نصف یا اس سے زیادہ امت پوری قوت و استحکام کے ساتھ جناب حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھی۔ لیکن اس سب کے باوجود سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے خلافت سے دست بردار ہو کر امت مسلمہ کی وحدت کو مستحکم کرنے کو ترجیح دی اور اپنی بیعت کرنے والوں کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لینے کی اجازت دے دی۔
جبکہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ ظاہری موافقت و رائے، ظاہری بیعت اور عدد و قوت میں سے کچھ بھی تو نہ تھا۔ لیکن اس سب کے باوجود آپ اپنی اس بات پر مصر رہے، جس سے اہل حل و عقد میں سے کوئی بھی موافق نہ تھا!!! تو پھر بالآخر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اپنے اس موقف پر اس قدر مضبوطی کے ساتھ کیونکر قائم رہے؟ انہوں نے جمہور علماء و فضلاء کی مخالفت کیوں کی؟
ان سب سوالات کے جوابات ازحد ضروری ہیں، تاکہ شکوک و شبہات کی گرد ہٹے اور اتہام و ارتیاب کی کہر چھٹے۔