جمہور اہل حل و عقد کی مخالفت کے باوجود سیدنا حسین بن علی…

جمہور اہل حل و عقد کی مخالفت کے باوجود سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا اپنے اجتہاد پر اصرار

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 2 از 2

ان حالات کے تناظر میں آج امت سنت و جماعت ایک ایسی ہمہ گیر اور ہمہ جہت تہذیب و ثقافت کی ضرورت ہے جو ان سب دیکھے اَن دیکھے خطرات کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہو سکے اور اپنے ماضی اور حال میں ایک مضبوط ربط پیدا کر کے مستقل کا ایک ٹھوس لائحۂ عمل تیار کر سکے۔ جو نامراد طبقہ کل امت مسلمہ کے دو شہیدوں (سیدنا عثمان اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما) کے خونوں کے گناہوں کو اپنی گردن پر لاد کر لوٹا تھا، اگر آج کچھ لوگ ان کے ساتھ حسن ظن رکھتے ہیں، انہیں بنظر تحسین دیکھتے ہیں، ان کے عقیدۂ مظلومیت پر اشک بار ہو جاتے ہیں اور ان مکار قاتلوں کے ہم نوالہ و ہم پیالہ بن کر ان کے ساتھ نشست و برخاست رکھتے ہیں، وہ جان لیں اور گوشِ ہوش نیوش سے سن لیں کہ وہ بھی ان اشرار و فجار کے جریمۂ قتل اور اِفسادِ عقیدہ میں برابر کے شریک ہیں۔

جناب سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے سامنے اپنے خروج کے جواز اور اس جواز کے اجتہاد کے یہی دلائل تھے، جن کو ہم نے سطورِ بالا میں نقل کیا ہے۔ و اللہ اعلم۔ وگرنہ جناب حسین بن علی رضی اللہ عنہما جیسا ایک ذہین، لبیب، اریب، فطین اور دانا و بینا اور نبی کریم ﷺ کی سنت کو مضبوطی سے تھامنے والا کریم النفس انسان حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مخالفت کی جرأت بھی نہ کر سکتا تھا۔ آپ کا اعتقاد تھا کہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور دوسرے تمام اکابر، جنہوں نے آپ کو خروج سے روکا تھا کہ ان کے پاس وہ شرعی جوازات نہ تھے، جو آپ کے پاس تھے اور جیسا کہ آپ سمجھتے تھے، اپنے انصار و اعوان کے اسرار کو طشت از بام کرنے میں کوئی مصلحت بھی نہ تھی، لیکن جب آپ کو غدار و کذاب کوفیوں کے موقف کا علم ہوا اور آپ نے ان کی جفاکاری اور بے وفائی بھی آنکھوں سے دیکھ لی اور مطالبہ کے باوجود انہوں نے مدد و نصرت کرنے سے آپ کو ٹکا سا جواب دے دیا اور آپ نے دیکھ لیا کہ اب ان پر وعظ و نصیحت بے کار اور ان کا دین و دیانت پر آنا دُور ازکار ہے تو آپؓ نے ان کے سامنے تین باتوں کو پیش کیا، تاکہ ان پر حجت تمام ہو۔ لیکن افسوس کہ اہل کوفہ کی یہودیت کے خیمر میں گندھی رفض و سبائیت کی خُو نے انہیں ان تینوں باتوں کو ٹھکرا دینے پر مجبور کر دیا اور بالآخر پیغمبروں کے خونوں سے ہاتھ رنگنے والی یہودیت کے ان پیرو کاروں نے آل پیغمبرﷺ کے اُس خون سے ہاتھ رنگ لیے جو ان پر حرام تھا اور اپنے حقیقی آباء کی طرح یہ بھی اللہ اور اس کے رسولﷺ کے اور رب کے نیکو کار بندوں کے غضب کو لے کر لوٹے!!

ہائے افسوس کہ آج کی رات گزشتہ رات کے کس قدر مشابہ تھی!!!

ان کوفیوں نے اس گناہ کا ارتکاب کیا تھا، جس کا کوئی جواز ان کے دامن دلائل میں موجود نہ تھا۔ امت مسلمہ کو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے اس غم کو سہنا پڑا جو دنوں کو رات بنا دے، جوانوں کو بوڑھا کر دے اور کوہساروں کو ریگ زار بنا دے۔ جبکہ دوسری طرف ان اعدائے صحابہ کو فتنوں کو ہوا دینے اور ان کی جڑوں کو کذب و مکر سے سینچنے کا نیا سامان ہاتھ لگ گیا، جس میں ابن زیاد جیسے عقل و دیانت سے کورے احمق نے مرکزی پُل کا کردار ادا کیا اور رافضی کوفیوں کا شر شر مستطیر بن کر اُمت کے افق پر چھاتا چلا گیا۔ افسوس کہ احمق ابن زیاد نے رفض و سبائیت کا دست و بازو بنتے وقت یہ بھی نہ سوچا کہ جن کو آل رسولﷺ کا پاس لحاظ نہیں ان کے سامنے ابن زیاد کی کیا حیثیت ہو سکتی ہے؟ پھر بالآخر ابن زیاد بھی ان کے مکر و فریب کے جال میں بری طرح جکڑا گیا اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

ان کوفیوں نے ابن زیاد کے سامنے جناب حسین رضی اللہ عنہ کی صورت نہایت ہیبت ناک بنا کر پیش کی اور اسے آرام سے اپنے شیشے میں اتار لیا اور اسے اس بات پر تیار کیا کہ اگر تم نے جناب حسین رضی اللہ عنہ کی کسی بھی بات کو مان لیا تو اس کا منطقی انجام تمہارے ہی سامنے آ کر رہے گا۔ اس لیے خبردار! ابن رسولﷺ کو اللہ اور رسول کے حکم پر مت اتارنا بلکہ اسے اپنے حکم پر اتارنا اور قوت و شدت کے ساتھ ان کا نام و نشان مٹا دینا۔

بھلا اس سے بھی بڑھ کر حیرت و تعجب کی بات اور کیا ہو گی کہ ابن زیاد نے کوفیوں کی تاریخ سے ذرا سبق نہ سیکھا اور ان کا تیر بن کر رفض کی کمان سے چل گیا اور سیدھا ابن رسولﷺ کو جا نشانہ بنایا۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

لیکن ذرا ٹھہریے! آج ہم امت کے ساتھ ہونے والی ان غداریوں اور امت کو ملنے والے ان زخموں کو تو شمار کرتے اور خوب یاد کرتے ہیں، لیکن ان وسائل و ذرائع کو یکسر بھول جاتے ہیں اورانہیں ڈھونڈ نکالنے کی کوشش بھی نہیں کرتے، جن کی بدولت ان مغضوبین نے ان جرائم کا ارتکاب کیا اور افسوس کہ ان سے قرار واقعی قصاص بھی تو نہ لیا جا سکا، جو انہیں مٹا کر ختم کر دیتا۔ اس پر مستزاد یہ کہ امت سنت و جماعت ایک ایسی مشترکہ ثقافت تشکیل دینے میں بھی پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکی، جو اس روز افزوں شر کی راہ روکے اور کتاب و سنت کے ہتھیاروں سے مسلح ہو کر اس شر کو پیوند خاک کر دے۔ ان شاء اللہ وہ دن ضرور آئے گا۔


صفحہ 2 از 2