Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا میدان کربلا میں کوفیوں کے سامنے تین باتیں پیش کرنا

  حامد محمد خلیفہ عمان

غرض سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما چلتے چلتے کوفہ کے قریب پہنچ گئے۔ آپ کو اس بات کی خبریں لگاتار ملتی رہیں کہ کوفہ کے والی عبیداللہ بن زیاد نے آپ کو روکنے کی زبردست تیاریاں کر رکھی ہیں اور کوفہ تک جانے کے راستوں پر کڑا پہرا بٹھا دیا ہے۔ ابن زیاد نے اپنے لوگوں کو یہ حکم دے دیا کہ شام اور بصرہ کے درمیان واقصہ کے راستے پر سخت پہرا لگا دو، کوفہ میں نہ تو کسی نووارد کو داخل ہونے دو اور نہ کسی کو باہر ہی نکل جانے دو۔ ادھر سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو کسی بات کی بھی خبر نہ تھی کہ بالآخر ابن زیاد کے ارادے ہیں کیا۔ جب آپ نے اعرابیوں سے پوچھا کہ لوگوں کا حال کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم! ہم اس کے سوا اور کچھ نہیں جانتے کہ آپ کوفہ میں نہ تو داخل ہو سکتے ہیں اور نہ وہاں سے نکل سکتے ہیں۔ اس پر آپ نے یزید بن معاویہ کی طرف جانے کے لیے اپنا رخ شام کی طرف موڑ لیا، لیکن میدان کربلا میں ابن زیاد کے گھڑ سواروں نے آپ کا راستہ روک لیا۔ (تاریخ الطبری: جلد، 8 صفحہ 170)

یہی وہ میدان ہے جہاں سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما ان غارت گروں کے ہاتھوں شہید ہو گئے، جنہوں نے آپ سے قبل امیر المومنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا اور انہی لوگوں نے سیّدنا حسن رضی اللہ عنہ پر کدال کا وار کر کے انہیں شہید کرنے کی نامراد کوشش بھی کی تھی۔ چنانچہ مقامِ شراف کے قریب ابن زیاد کے عامل حر بن یزید نے آپ کا راستہ روک لیا۔ آپ نے حر سے مطالبہ کیا کہ وہ آپ کو واپس جانے دے لیکن حر نے یہ بات نہ مانی۔ اس پر آپ نے اہل کوفہ کے لکھے خطوط سے بھری دو خورجیاں نکالیں اور بتلایا کہ آپ کو اہل کوفہ کے سربرآوردہ لوگوں نے آنے کی دعوت دی ہے۔ لیکن حر نے صاف انکار کر دیا کہ میرا اور میرے ساتھیوں کا ان خطوط سے کوئی تعلق نہیں۔ (تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ 402)

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جہاں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما اپنی اس بات میں صادق اور امین تھے کہ انھی کوفیوں نے خطوط لکھ کر آنے کی دعوت دی ہے، وہیں حر اور اس کے ساتھی بھی اس بات میں سچے تھے کہ انہیں ان خطوط کی بابت مطلق کسی بات کا علم نہیں۔ تو پھر حقیقت کیا تھی؟!!

حقیقت یہ تھی کہ اس ساری سازش کے پس پردہ مکار سبائیت ہاتھ تھا، جنہوں نے کل یہی کھیل سیدنا عثمان بن عفان شہید رضی اللہ عنہ اور سیدنا طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ کھیلا تھا۔

غرض حر بن یزید نے نہ تو آپ کو کوفہ داخل ہونے کی اجازت دی، نہ آپ کو یزید کے پاس شام چلے جانے کی اجازت دی اور نہ آپ کو مدینہ ہی لوٹ جانے دیا۔ بلکہ یہ کہا کہ آپ ایسا راستہ اپنا لیجیے جو نہ شام جاتا ہو اور نہ مدینہ تاکہ مجھے آپ کے بارے میں یزید سے خط کتابت کرنے کا موقعہ مل سکے۔ (تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ 403)

پھر جب آپ کی ملاقات کوفی لشکر کے امیر عمر بن سعد سے ہوئی، تو آپ بے حد پریشان ہو گئے۔ اہل کوفہ آپ کا ساتھ چھوڑ چکے تھے، ان غداروں نے آپ کی نصرت و حمایت کے سب وعدے توڑ دئیے تھے۔ اب آپ کے ساتھ اہل بیت اور قرابت داروں کے سوا معدودے چند لوگ رہ گئے تھے۔ دونوں قوتوں کے درمیان عظیم فرق دیکھ کر آپ نے عمر بن سعد کے ساتھ گفتگو اور مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا اور طویل بحث مباحثہ کے بعد فریقین کا تین باتوں میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے پر اتفاق ہو گیا کہ

٭ یا تو آپ کو یزید کے پاس شام بھیج دیا جائے تاکہ آپ یزید کی بیعت کر لیں۔

٭ یا پھر آپ کو مدینہ واپس جانے دیا جائے۔

٭ یا پھر اسلامی سرحدوں میں سے کسی بھی سرحد پر جہاد کی غرض سے جانے کی اجازت دے دی جائے۔

چنانچہ عمر بن سعد نے ابن زیاد کو یہ خط لکھ بھیجا:

’’اما بعد! اللہ نے جنگ کی آگ بجھا دی، وحدتِ کلمہ پیدا کر دی اور امت کے امر کی اصلاح کر دی، یہ رہے حسین (رضی اللہ عنہما) جنہوں نے مجھے ان باتوں میں سے کسی ایک بات کے اختیار کر لینے کا عہد دے دیا ہے کہ یا تو وہ ادھر لوٹ جائیں جہاں سے آئے تھے (یعنی مدینہ لوٹ جائیں)۔ یا ہم انہیں اسلامی سرحدات میں سے جس سرحد پر چاہیں بھیج دیں۔ وہاں یہ ایک عام مسلمان بن کر جہاد میں مصروف رہیں گے اور جو حقوق و واجبات دوسروں کے ہوں گے وہی ان کے بھی ہوں گے۔ یا پھر وہ امیر المومنین یزید کے پاس چلے جاتے ہیں اور ان کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دیتے ہیں، پھر ان کے بارے میں جو آپ کی رائے ہو وہ انہیں منظور ہو گی۔ ان باتوں میں آپ کی مرضی اور امت کی اصلاح ہے۔‘‘

ابن زیاد نے جب یہ خط پڑھا تو بے اختیار کہہ اٹھا:

’’یہ ایک ایسے شخص کا خط ہے جو اپنے امیر کا خیرخواہ اور اپنی قوم پر مہربان ہے۔ مجھے یہ تینوں باتیں منظور ہیں۔‘‘ (تاریخ الطبری: جلد، 3 صفحہ 299 البدایۃ و النہایۃ: جلد، 6 صفحہ 232 تاریخ ابن عساکر: جلد، 45 صفحہ 52 تاریخ الاسلام: جلد، 1 صفحہ 603)

لیکن اے کاش کہ ایسا ہو جاتا، مگر ایسا نہ ہوا کیونکہ ابن زیاد کے اردگرد جن لوگوں کا اکٹھ تھا، وہ بے حد بدباطن، علم و حلم سے محروم، خوفِ الٰہی سے خالی، ضعیف الرائے، ضعیف العقیدہ، فتنہ کے رسیا، اصحابِ رسولﷺ کے دشمن اور ان سے شدید بغض اور کینہ رکھنے والے تھے، فتنوں کو ہوا دینا ان کا پیشہ تھا اور وہ سیادت و زعامت کی جھوٹی تمنائیں رکھتے تھے۔

تاریخ کا طالب علم جانتا ہے کہ اس وقت ابن زیاد کی عقل و فکر اور رائے پر شمر بن ذی الجوشن جیسے بدقماشوں کا غلبہ تھا، جو خود کو شیعانِ علی رضی اللہ عنہ باور کرواتا تھا۔ آئندہ پیش آنے والے تمام روح فرسا واقعات اور قلب و جگر کو جلا کر خاکستر کر دینے والے تمام فتنوں کے پس پردہ اسی قماش کے لوگوں کا ہاتھ تھا جنہوں نے امت مسلمہ کی اس وحدت کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا، جس کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے حلم و کرم، صبر و ثبات کی قوت اور حسنِ سیاست نے قائم کیا تھا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے افتراق و انتشار اور شقاق و نزاع کے سب دروازے بند کر دئیے تھے اور حلم و برداشت کا کوہِ گراں بن کر امت مسلمہ کے اتفاق و اتحاد کی حفاظت کرتے رہے تھے۔

چنانچہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے روبرو تنقیدیں سنیں، برملا طعن و تشنیع سنی، سب کو کھل کر بولنے کا موقعہ دیا، سب کا موقف سنا، معارضین کے اعتراضات پر توجہ دی، مگر یہاں سوائے صبر و برداشت کے اور کچھ نہ تھا، نہ اسلحہ نہ تلوار، بس کرم ہی کرم تھا۔ چنانچہ آپ نے سب کو راضی کیا، زیادتیوں کو برداشت کیا، جفاؤ ں کو سہا، تلخی و ترشی کو جھیلا اور سب کی لغزشوں سے درگزر کیا۔ جس کے نتیجہ میں ایک بے مثال اسلامی حکومت وجود میں آئی جس میں فتنہ پروروں کو پر مارنے کی جرأت نہ ہوتی تھی اور نہ انہیں سر چھپانے کو جگہ ہی ملتی تھی۔

کہاں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ جیسا عظیم مدبر اور حلیم و کریم انسان اور صحابی رسولﷺ اور کہاں ابن زیاد جیسا بے بہرہ انسان جس نے باطنیت اور حقد و مکر میں غرق اور کینہ و نفرت سے لتھڑی رافضی اور سبائی کوفی فضاؤ ں میں پرورش پائی تھی۔ کیا ایسے انسان میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حلم و کرم کی پاکیزہ صفات کی ادنیٰ سی جھلک بھی پائی جا سکتی تھی۔ کیا اس میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے تدبر و سیاست کی پرچھائیاں نظر آ سکتی تھیں؟ کیا اس میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عفو و درگزر کی خوئے طیبہ کے آثار مل سکتے تھے؟ کیا ابن زیاد میں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی صلح جوئی کی عظیم ترین صفت کے نشانات مل سکتے تھے؟!!

ہرگز نہیں!

یہاں صبر و برداشت، کرمِ نفس اور عفت لسان کا دُور دُور تک نشان نہ ملتا تھا۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ ابن زیاد کوفہ میں پیش آنے والے پہلے ہی امتحان میں بری طرح ناکام ہو گیا۔ چنانچہ اس نے بے سوچے سمجھے اور خانوادۂ رسول پر کمال جرأت کرتے ہوئے ابن عقیلؓ کے خون سے اپنے ہاتھ رنگ لیے اور اس نالائق اقدام میں اس قدر تیزی دکھلائی کہ ذرا دیر کو بھی یہ نہ سوچا کہ کیا اس مشکل کا حل تلوار کے استعمال کے بغیر بھی ممکن ہے؟!!

ابن زیاد نے دوسری اور بدترین ناکامی یہ دکھلائی کہ جن بدباطنوں نے اسے سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے ساتھ صلح کر لینے کے فرضی خوفناک نتائج سے ڈرایا، ابن زیاد آنکھ بند کر کے ان کینہ پروروں کے پیچھے ہو لیا اور ان کوفیوں کے اس مشورہ کو بلا تامل قبول کر لیا کہ سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی صلح کی تمام تر پیش کشوں کو پائے حقارت سے ٹھکرا دیا جائے، اور سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے جس سمع و طاعت اور صلح و جماعت کی پیش کش کی ہے اسے ہرگز بھی درخورِ اعتنا نہ سمجھا جائے۔

چنانچہ ان کوفیوں نے ابن زیاد کو یہ کہہ کر ڈرایا:

’’کیا آپ ان سے صلح قبول کرتے ہیں، حالانکہ اس وقت وہ آپ کی زیر ولایت سرزمین پر فروکش ہو چکے ہیں؟ اللہ کی قسم! اگر آج آپ نے انہیں اپنے علاقہ میں سے اس حال میں جانے دیا کہ انہوں نے اپنا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں نہیں دیا تو یاد رکھئے! یہ اس سے بھی زیادہ طاقت اور قوت کے ساتھ ابھر کر آپ سامنے آئیں گے ‘‘

چنانچہ ان ناہنجاروں نے تینوں میں سے کسی ایک بات کو بھی قبول کرنے سے انکار کر دیا اور شرط لگا دی کہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما واپس جانے یا شام جانے سے قبل ایک بار عبیداللہ بن زیاد کے پاس ضرور آئیں گے، پھر جو ابن زیاد نے مناسب سمجھا وہ کرے گا۔ وگرنہ انہیں نہ تو مدینہ جانے دیا جائے گا، نہ شام، اور نہ کہیں اور۔

سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے ابن زیاد اور اس کے حواریوں کی اس بات کو ماننے سے صاف انکار کر دیا، جس پر کوفی سبائی لشکر نے آپ سے قتال شروع کر دیا اور بالآخر آپ کو شہید کر دیا۔ (تاریخ الطبری: جلد، 3 صفحہ 313 البدایۃ و النہایۃ: جلد، 6 صفحہ 232 تاریخ ابن عساکر: جلد، 45 صفحہ 52 تاریخ الاسلام: جلد، 1 صفحہ 603)

ان بدبختوں میں سب سے پیش پیش شمر بن ذی الجوشن کوفی تھا۔ بلاشبہ یہ اعدائے صحابہ تھے اور ان کا عہد و وفا اور اصحاب و آل رسول کی حرمت سے کیا واسطہ؟!!

واقعات کا سلسلہ آگے بڑھانے سے قبل سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے میدان کربلا میں نزول اور ما بعد کے واقعات سے متعلقہ باتوں کو کتب شیعہ کے حوالے سے بھی پڑھ لیا جائے تاکہ امت کے سامنے منافقین کی تصویر کا ہر ہر رخ سامنے آتا رہے۔