بدری صحابہ رضی اللہ عنہم گانا بجانا سنتے تھے(سنن النسائی)
مولانا ابوالحسن ہزارویبدری صحابہؓ گانا بجانا سُنتے تھے(سنن النسائی)
الجواب اہلسنّت
گانا عرف میں ایسے عورت یا مرد کے منظوم عشقیہ اشعار کو کہتے ہیں جو ساز کی دھن پر پڑھا جائے۔ اب یہاں روایت کو بنظر انصاف ملاحظہ فرمایا جائے۔ روایت میں الفاظ ہیں "جواری" یہ جاریہ کی جمع ہے۔ جاریہ اس نابالغ اور کم سن بچی کو کہتے ہیں جو سن بلوغ کو نہ پہنچی ہو۔ یہاں مسئلہ یہ ہے کہ شادی کے موقع پر دف بجا کر چھوٹی بچیاں خوشی کے لیے تعریفی اشعار گایا کرتی تھیں، خود آپ صلی اللّٰه علیہ وآلہ نے چھوٹی بچیوں کے اشعار سُنے اور اس پر انکار نہیں فرمایا۔ خوشی کے موقع پر ایسے کام جو خوشی اور مسرت کو جلا دیں مگر گُناہوں کی طرف پھسلنے کا موقع پیدا نہ ہو تو اس کی اجازت دی گئی ہے۔ مذکورہ موقع پر بھی چھوٹی معصوم بچیوں نے کُچھ اشعار گائے جِس کو شیعہ لوگوں نے معروف گانا بنا دیا حالانکہ یہ معروف گانا نہیں۔ اس روایت میں صاف صاف یہ الفاظ موجود ہیں، واذا جواری یغنین کہ چھوٹی معصوم بچیاں گا رہی تھیں۔ اندازہ فرمائیے چھوٹی معصوم بچیاں خوشی میں جو گیت گائیں یار لوگوں کے ہاں وہ بھی گانا ہے اور اس کی بنیاد پر پروپیگنڈہ کرنا یار لوگوں کا ایمان ہے، اگرچہ اپنے مذہب میں وہ کُچھ جائز بنا ڈالیں جو ایمان تو کیا شرافتِ اِنسانی کے لیے بھی باعثِ ننگ و عار ہو۔