کیا عبداللہ ابن سبا کم عقل، کم علم اور جاہل شخص تھا؟ دلشاد…

کیا عبداللہ ابن سبا کم عقل، کم علم اور جاہل شخص تھا؟ دلشاد شیعہ کی غیر منطقی باتیں!

  جعفر صادق

صفحہ 1 از 4

شیعہ گروپ ادع الی سبیل ربک میں شیعہ عالم دلشاد کے تبصرے کی اصل حقیقت

محمد دلشاد شیعہ مناظر: میں نے ممتاز صاحب کو ابن سباء کی تین الگ الگ شخصیتوں پر  مناظرہ کرنے کا کہا تھااور یہ کہا تھا۔

1: ابن سباء کا ایک وجود افسانہ ہے،قتل جناب عثمان اور بعد کے فتنوں میں  اس کا کردار۔  

2: ایک غالیان کردار  ۔ اس کو تسلیم کرنے میں ہمیں پریشانی نہیں۔

3: شیعہ عقائید کا بانی ہونا ۔ یہ ایک مغالطہ ہے کسی شیعہ روایات سے یہ چیز ثابت نہیں۔

ممتاز نے مذکورہ تین کرداروں کے بارے میں مجھ سے گفتگو کرنے سے اجتناب کیا۔

 الجواب اہل سنت:

غور فرمائیں۔۔شخصیت ہے عبداللہ ابن سبا یہودی ۔۔۔ دلشاد کی طرف سے عوام کو الجھانے کی خاطر  ابن سبا کے تین کردار بیان کرنے کا مقصد یہ ہے  کہ عوام اس حقیقی شخصیت کو افسانہ ، خیالی سمجھ لے، اسے  سنجیدگی سے نہ لیا جائے بصورت دیگر  کسی نے تحقیق شروع کردی تو  شیعیت کا اس یہودی سے قریبی تعلق ظاہر نہ ہوجائے!! 

بیشک  ابن سبا حقیقت تھا ، آخر اس نے اسلام قبول ہی کیوں کیا؟ دوران مناظرہ اس نکتے پر کئی عقلی دلائل دئے گئے ہیں جو صحیح روایات سے مطابقت رکھتے ہیں۔

ابن سبا کی جماعت سبائی گروہ پر سُنی و شیعہ سمیت تمام مؤرخین کا اجماع ہے۔شیعہ کی صحیح روایت کے مطابق امام جعفر صادق نے تو نام لے کر ابن سبا اور اس کی جماعت پر لعنت بھیجی ہے، اس کے باوجود اہل تشیع سبائی گروہ کے متعلق شکوک و شبہات بیان کرتے ہیں تاکہ قاتلین عثمان میں صحابہ کرام کو ملوث کردیا جائے۔۔۔ حالانکہ مناظروں میں تسلیم بھی کرتے ہیں کہ کوئی ایک صحابی کسی ایک صحیح روایت سے قاتل عثمان ثابت نہیں ہوتا۔۔۔ یہ منافقت صرف اہل تشیع میں پائی جاتی ہے۔ 

شیعہ ابن سبا کا غلو کرنا تسلیم کرتے ہیں، لیکن یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ غلو اسی وقت ہوتا جب موجود چیز میں کوئی اضافہ کیا جائے۔ ابن سبا نے جن عقائد کا سہارہ لیکر غلو کیا وہ عقائد ابن سبا نے گھڑے تھے، آج شیعہ اثناعشریہ کے بھی وہی عقائد ہیں۔ انہی عقائد میں غلو کرتے ہوئے ابن سبا نے سیدنا علی کے سامنے  خدائی کا دعوی کردیا!  بلکہ آج تک نصیری  بھی موجود ہیں ۔

دلشاد شیعہ کو کئی بار شرائط طئے کر کے گفتگو کا چیلینج کیا گیا، موصوف نے اس سے فرار اختیار کیا، بہانہ یہ کیا کہ گفتگو بغیر شرائط کے کروں گا۔

 (دیکھیں جلد اول کے شروعاتی پیجز)

محمد دلشاد شیعہ مناظر:  شیعہ مناظر مولانا رانا صاحب نے ممتاز قریشی صاحب کو  اصلی بحث کو شروع کرنے کے لئے کہا ۔ ممتاز صاحب نے اس جواب  میں اور گفتگو کی شرائط میں اپنے مدعا کو شیعہ صحیح روایات سے اور شیعہ جید  علماء کے اعتراف سے ثابت کرنے کا وعدہ دیا۔شیعہ مناظر  بھی ممتاز صاحب کو اسی وعدے پر عمل کرنے کی طرف دعوت دیتے رہے۔تقریبا زیادہ بحث و گفتگو اسی نکتے اور وعدہ وفائی کے سلسلے میں ہی ہوتی رہی۔

(نوٹ: دلشاد شیعہ نے مناظرے میں پیش کئے گئے دلائل و استدلال کاپی پیسٹ کئے، جنہیں یکسانیت کی وجہ سے حذف کیا گیا ہے۔اصل گفتگو میں موجود ہیں)

   تقریبا اہل سنت کے مناظر قریشی صاحب کے مدعا اور اس کے دلائل کا خلاصہ یہی ہے جو اوپر ذکر ہوا۔

  مولانا رانا صاحب نے بہت ہی عمدہ طریقے سے ممتاز کے مدعا اور دلائل کا اصلی وعدے اور شرائط سے لاتعلقی اور ممتاز کے مغالطہ آمیز استدلال کی حقیقت کھول کر سب کے سامنے رکھ دی۔

جیسا کہ رانا صاحب نے بھی واضح طور پر بتایا کہ ان تینوں روایات سے مذکورہ پانچ شیعہ عقائید کا بانی ابن سبا ہونا ثابت نہیں ہے کیونکہ ان روایات کا مضمون بلکل واضح ہے۔ان کے مطابق ابن سباء ایک غالی نظریہ رکھنے والا ملعون شخص تھا۔شیعہ امیر المومنین ع کو رسول اللہ  ص کا جانشین مانتے ہیں , ان کی خدائی کا ادعا کرنے والے سارے شیعہ علماء کے نزدیک کافر ہیں۔شیعہ مذھب سے اس قسم کے عقیدے کا کوئی تعلق نہیں۔لہذا مذکورہ روایات کے الفاظ اور متن سے مذکورہ  پانچ عقائد کو ابن سباء کے عقائد کے طور پراثبات کرنا ایک ایسا غیر علمی کام ہے جس کے شیعہ مخالف ہی مجبوری کی وجہ سے مرتکب ہوسکتے ہیں۔جبکہ ممتاز قریشی صاحب شیعہ روایات سے ہی مذکورہ پانچ شیعہ عقائد کا بانی ابن سباء کو ثابت کا پابند تھا۔

الجواب اہل سنت:

  مذکورہ تین صحیح روایات کی شرح لکھتے ہوئے تین شیعہ متقدمین علماء نے اہل علم کی رائے بیان کی ہے جس کے مطابق یہی شخص غلو تک پہنچنے سے پہلے حب اہل بیت کو بنیاد بناکر پانچ عقائد کو شروع کرنے والا تھا۔ اگر وہ پانچ عقائد ابن سبا نے شروع نہیں کئے تھے تو پھر آخر کس چیز میں اس ملعون نے غلو کیا تھا؟ اس کا قبول اسلام اس وجہ سے  (سیدنا علی کی خدائی کا دعویٰ) کیسے تسلیم کیا جائے جس سے اسلام کو کوئی نقصان پہنچنا ممکن نہ تھا بلکہ سراسر نقصان کا سودا تھا۔ کوئی کم عقل بھی قبول اسلام کے بعد ایسا دعوی نہیں کرسکتا جس سے اسے زندہ آگ میں جلادیا جائے! یہ کام کوئی شاطر دماغ اس وقت کرسکتا ہے جب پیچھے کوئی ہم خیال جماعت تیار موجود ہو، 

صحیح روایات سے ابن سبا  کی جماعت  سبائی گروہ کی موجودگی بھی ثابت شدہ ہے۔ یہ مؤقف غیر علمی ہرگز نہیں ہے۔ 

مذکورہ پانچ عقائد کا خالق ابن سبا نہیں تھا تو شیعہ متقدمین علماء کو کیا ضرورت پڑی کہ اہل علم ذرائع سے اس کی حقیقت بیان کردی؟ وہ مؤقف مجہول لاعلم کذاب لوگوں کا تھا تو تینوں علماء کو ایک ہی مغالطہ کیسے ہوگیا؟ 

بعد میں آنے والوں نے تردید کرنے کے بجائے ان کے اقوال میں تحریف کیوں کی؟ یہ ایسے سوال ہیں جن کے جوابات سے اہل تشیع عاجز ہیں۔

  محمد دلشاد شیعہ مناظر: ممتاز صاحب سے ایک سوال ۔

اہل سنت کا موقف اور نظریہ کیا شیعہ روایات اور کتابوں سے لیا جاتا ہے؟

اگر کہے شیعہ کتابوں سے استدلال الزامی جواب کے طور پر کیا جاتا ہے تو دست بستہ عرض ہے کہ مذکورہ باتوں کو اہل سنت کا موقف کہنا چھوڑ دیں ورنہ آپ کو پہلے اپنی کتابوں سے معتبر سند کے ساتھ مذکورہ نظریے کو ثابت کرنا ہوگا۔

کیا آپ مذکورہ  عقائید کا بانی ابن سباء ہونے کو اپنی کتابوں سے ثابت کرسکتے ہو؟

صفحہ 1 از 4