قاتل حسین شیعی مصادر و مآخذ کی روشنی میں - دفاعِ اہلِ سنت…

قاتل حسین شیعی مصادر و مآخذ کی روشنی میں

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 2 از 3

’’امام حسین علیہ السلام سے قتال کرنے جو لشکر نکلا تھا اس کی تعداد تین لاکھ تھی اور یہ سب کے سب کوفی تھے، ان میں کوئی شامی، حجازی، ہندوستانی، پاکستانی سوڈانی، مصری یا افریقی فرد نہ تھا۔ بلکہ یہ سب کے سب کوفی تھے جو مختلف قبائل سے اکٹھے ہو گئے تھے۔‘‘ (عاشورا: صفحہ 89)

شیعہ مورخ حسین بن احمد البراقی نجفی لکھتا ہے:

’’ قزوینی کہتا ہے: کوفیوں کا بڑا جرم یہ ہے کہ انہوں نے حسن بن علی رحمہم اللہ کو کدال کا وار کر کے زخمی کیا، جبکہ حسین بن علی رحمہم اللہ کو بلانے کے بعد قتل کر ڈالا۔‘‘ (تاریخ الکوفۃ: صفحہ 113)

شیعہ علوم و تواریخ کے مرجع المعروف بہ ’’آیۃ اللہ العظمی‘‘ محسن الامین لکھتا ہے:

’’پھر بیس ہزار ان عراقیوں نے حسین (رضی اللہ عنہ) کی بیعت کی جنہوں نے بعد میں غداری کر کے یہ بیعت توڑ ڈالی اور خود حسین (رضی اللہ عنہ) کے خلاف خروج کیا، حالانکہ حسین کی بیعت ان کی گردنوں میں تھی اور آخر میں انہوں نے حسین (رضی اللہ عنہ) کو قتل کر دیا۔‘‘ (اعیان الشیعۃ: جلد، 1 صفحہ 36)

جواد محدثی لکھتا ہے:

’’یہ جملہ اسباب اس بات کا پتا دیتے ہیں کہ امام علی علیہ السلام نے ان عراقیوں سے دو دفعہ سخت تکلیف اٹھائی، امام حسن علیہ السلام نے ان سے غداری کا تجربہ کیا، انہی عراقیوں کے درمیان مسلم بن عقیلؓ مظلوم مارے گئے اور کوفہ کے قریب واقع کربلا کے میدان میں کوفی لشکر کے ہاتھوں امام حسین علیہ السلام کو پیاسا قتل کر دیا گیا۔‘‘ (موسوعۃ عاشوراء: صفحہ 59)

شیعہ مشائخ جیسے ابو منصور طبرسی، ابن طاؤس اور محسن الامین وغیرہ نے امام علی بن حسین بن علی بن ابی طالب المعروف بہ ’’امام زین العابدین‘‘ سے اور وہ اپنے آباء سے نقل کرتے ہیں کہ زین العابدین رحمۃ اللہ اپنے ان شیعہ کو، جنہوں نے ان کے والد ماجد جناب حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا تھا اور بعد میں قتل بھی کر دیا تھا، ڈانٹتے ہوئے کہتے ہیں:

’’اے لوگو! میں تم سے اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا واقعہ یہ نہیں کہ تم لوگوں نے پہلے میرے والد کو خطوط لکھے اور بعد میں انہیں دھوکہ دیا، تم لوگوں نے پہلے ان کو عہد و میثاق دیا اور ان کی بیعت کی لیکن بعد میں ان سے قتال کیا اور انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔ تمہارے لیے ہلاکت ہو، ان اعمال سے جو تم لوگوں نے اپنے واسطے آخرت میں بھیج دئیے ہیں۔ تمہاری رائے کا برا ہو۔ روزِ قیامت تم لوگ کس طرح نبی کریمﷺ سے آنکھیں ملا سکو گے، جب وہ تم سے یہ فرمائیں گے: ’’تم لوگوں نے میری عترت کو قتل کر ڈالا، میری حرمت کو توڑا، پس تم میرے امتی نہیں ہو۔‘‘ یہ سننا تھا کہ ہر طرف سے عورتوں کے رونے کی آوازیں بلند ہونے لگیں اور وہ ایک دوسرے کو ملامت کرتے ہوئے کہنے لگے: تم لوگ ہلاکت میں جا پڑے اور تمہیں اس کی خبر بھی نہیں۔‘‘ پھر امام زین العابدین رحمۃ اللہ نے فرمایا: ’’اللہ اس شخص پر رحم فرمائے، جس نے میری نصیحت کو قبول کیا اور اللہ، اس کے رسول اور اس کے اہل بیت کے بارے میں میری وصیت کو یاد رکھا۔ بے شک رسول اللہﷺ کی ذات میں ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔‘‘ اس پر وہ سب کے سب کہنے لگے: ’’ہم سب آپ کی بات سنیں گے، مانیں گے، آپ کے ذمہ کی حفاظت کریں گے، آپ سے منہ نہ موڑیں گے اور نہ آپ سے جفا ہی کریں گے، آپ حکم کیجیے ہم مانیں گے، اللہ آپ پر رحم فرمائے۔ جہاں آپ جنگ کریں گے، ہم بھی جنگ کریں گے اور جس سے آپ صلح کریں گے، اس سے ہماری بھی صلح ہے۔ ہم یزید کو پکڑیں گے اور جس نے آپ پر اور ہم پر ظلم کیا ہے، ہم اس سے بری ہیں۔‘‘

جناب زین العابدین رحمۃ اللہ نے کہا: دُور ہو جاؤ، دُور ہو جاؤ، اے غدارو، مکارو! تم لوگوں کو تمہاری شہوتوں نے گھیر رکھا ہے، کیا تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ تم لوگ میرے ساتھ بھی وہی کرو، جو اس سے پہلے تم نے میرے باپ دادا کے ساتھ کیا ہے؟ ہرگز نہیں، ناچنے والیوں کے رب کی قسم! یہ زخم بھرنے والا نہیں۔ یہ کل ہی کی تو بات ہے کہ تم لوگوں نے میرے باپ کو اس کے گھر والوں سمیت قتل کر ڈالا ہے، بھلا میں رسول اللہﷺ اور ان کی آل سے محرومی کا غم، اپنے باپ اور باپ کی اولاد کی جدائی کا صدمہ کیسے بھول سکتا ہوں، ان کا غم میرے حلق سے نیچے نہیں اتر رہا، اس کی تلخی میرے گلے میں اب تک موجود ہے اور اس کی کڑواہٹ میرے سینے میں گردش کر رہی ہے۔‘‘ (یہ خطبہ متعدد معتبر شیعہ مؤلفین، مؤرخین اور مصنّفین نے اپنی مایہ ناز اور معتبر کتب میں نقل کیاہے۔ ذیل میں اس کے صرف دو حوالوں کے ذکر پر اکتفا کیا جاتا ہے: (الاحتجاج: جلد، 2 صفحہ 32 للطبرسی۔ منتہی الآمال: جلد، 1 صفحہ 572 لعباس القمی))

امام زین العابدین رحمۃ اللہ چند کوفیوں کے پاس سے گزرے جو قتل حسین پر رو رہے اور نوحہ کر رہے تھے، تو آپ نے انہیں ڈانٹتے ہوئے فرمایا: تم لوگ ہم پر رو رہے اور نوحہ کر رہے ہو، ذرا یہ تو بتلاؤ ہمارا قاتل ہے کون؟ (مقتل الحسین: صفحہ 83 لمرتضی عیاد، ط 4، 61996)

ایک روایت میں ہے کہ حضرت زین العابدین رحمۃ اللہ جب روتے اور نوحہ کرتے کوفیوں کے پاس سے گزرے، تو کمزور آواز میں کہنے لگے (کیونکہ بیماری نے انہیں بے حد کمزور کر دیا تھا):

’’تم لوگ ہماری وجہ سے رو رہے ہو اور نوحہ کر رہے ہو، تو پھر ہمیں قتل کس نے کیا ہے؟‘‘ (منتہی الآمال: جلد، 1 صفحہ 570)

ایک اور روایت میں مذکور ہے کہ شدید کمزوری کی بنا پر جناب زین العابدین رحمۃ اللہ نے کمزور سی آواز میں یہ کہا:

’’یہ لوگ ہم پر رو رہے ہیں، تو پھر ان کے سوا ہمارے قاتل اور کون ہیں؟‘‘ (الاحتجاج: جلد، 2 صفحہ 29)

ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں:

صفحہ 2 از 3