قاتل حسین شیعی مصادر و مآخذ کی روشنی میں - دفاعِ اہلِ سنت…

قاتل حسین شیعی مصادر و مآخذ کی روشنی میں

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 3 از 3

’’اے کوفیو! تمہارا برا ہو، تم لوگوں نے حسین (رضی اللہ عنہ) کو کیوں بے یار و مددگار چھوڑا اور اسے قتل کر دیا، پھر ان کا مال بھی چھین لیا اور اس کے وارث بن بیٹھے، ان کی عورتوں کو قیدی بنایا اور ان سے پرے ہٹ گئے۔ تم تباہ و برباد ہو جاؤ! تم جانتے بھی ہو کہ تم لوگوں نے کون سا خون بہایا ہے، کس نیک اور معزز انسان کو قتل کیا ہے، کس بچی کو پکڑا ہے، کس مال کو چھینا ہے؟ تم لوگوں نے نبی کریمﷺ کے بعد سب سے بہتر لوگوں کے خون سے ہاتھ رنگے ہیں، تم لوگوں نے اپنے دلوں سے رحم کو نکال کر پھینک دیا ہوا ہے۔‘‘ (مقتل الحسین للمقرم: صفحہ 316)

طبرسی، قمی، مقرم، کورانی اور احمد راسم سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کے اس خطبہ کو نقل کرتے ہیں، جس میں سیدہ رضی اللہ عنہا ان غدار، خائن اور جفا کار کوفیوں کو مخاطب کرتے ہوئے یہ فرماتی ہیں:

’’اما بعد! اے اہل کوفہ! اے مکر و فریب، دھوکہ، مکاری اور عیاری کے پیکرو! اے جفا کارو! آنسو رکتے نہیں، سسکیاں اور آہیں تھمتی نہیں۔ تمہاری مثال اس عورت کی سی ہے جو سوت کی اٹی بنا کر اسے توڑ دیتی ہے، تم لوگوں نے اپنی قسموں کو اپنے بچاؤ کا ذریعہ بنا لیا۔ تم لوگوں میں سوائے شیخی، خود پسندی، متکبرانہ بے رخی، دروغ گوئی، غلامانہ چاپلوسی اور دشمنانہ کینہ و نفرت کے سوا اور ہے ہی کیا۔ تم لوگوں کی مثال کوڑی خانہ پر چراگاہ اور قبر پر رکھی چاندی کی سی ہے، تم لوگوں نے جو اپنے آگے بھیجا ہے، وہ بے حد برا ہے، تم پر رب کی ناراضی ہے۔ تم لوگ آخرت کے عذاب میں ہمیشہ رہو گے۔ کیا تم لوگ میرے بھائی (حسین رضی اللہ عنہ کے قتل) پر روتے ہو؟ ہاں ! اللہ کی قسم! تم لوگ بہت زیادہ رؤ وگے اور بہت کم ہنسو گے۔ تم لوگ قتل حسین کے عیب و رسوائی میں ہمیشہ کے لیے گرفتار ہو چکے ہو اور تم لوگ اس عیب سے کبھی نہ چھوٹ پاؤ گے اور بھلا تم لوگ چھوٹ بھی کیسے سکتے ہو کہ تم لوگوں نے اس شخص کو قتل کیا ہے جو خاتم النّبیینﷺ کی اولاد، معدنِ رسالت، نوجوانانِ جنت کا سردار، تمہاری جنگ کی جائے پناہ، تمہاری جماعت کا ٹھکانا، تمہاری سلامتی کی جگہ، مصیبت میں سہارا، بات کی حجت اور دلیل تھا، تم لوگوں نے اپنے واسطے بے حد برے عمل کو آگے بھیجا ہے اور روزِ قیامت جو تم اپنے سامنے دیکھو گے وہ بے حد برا ہے۔ پس تم لوگوں کے لیے بے حد ہلاکت و شقاوت، بدبختی و بدنصیبی اور ذلت و رسوائی ہے۔ تمہاری کوششیں نامراد ہوئیں، تمہارے ہاتھ ہلاک ہوئے، تمہارا سودا خسارے میں رہا، تم لوگ اللہ کے غضب کو لے کر لوٹے اور ذلت و مسکنت کو تم لوگوں پر مسلط کر دیا گیا۔ تمہاری ہلاکت ہو، کیا تم لوگ جانتے ہو کہ تم نے محمدﷺ کے جگر کے کس گوشے کے ساتھ دھوکہ کیا ہے؟ تم لوگوں نے کس عہد کو توڑا ہے؟ تم لوگوں نے کس حرمت کو پامال کیا ہے؟ کون سا خون بہایا ہے؟ تم لوگ نے ایسا سنگین جرم کیا ہے، قریب ہے کہ اس کی سنگینی کی وجہ سے آسمان پھٹ پڑیں، زمین شق ہو جائے اور پہاڑ گر کر ریزہ ریزہ ہو جائیں۔ تم لوگوں نے بے حد بھونڈا اور بھدا کام کیا ہے، جس کی برائی نے روئے زمین کا چپہ چپہ اور آسمانوں کا گوشہ گوشہ بھر دیا ہے۔‘‘

 (الاحتجاج: جلد، 2 صفحہ 29 منتہی الآمال: جلد، 1 صفحہ 570)

مشہور شیعہ قلم کار اسد حیدر سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہما کا وہ خطبہ نقل کرتا ہے، جو انہوں نے کوفیوں سے ارشاد فرمایا تھا۔ چنانچہ اسد حیدر لکھتا ہے:

’’سیدہ زینب رضی اللہ عنہا جب روتے چلاتے اور نوحہ کرتے کوفیوں کے پاس سے گزریں، تو انہیں سرزنش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

’’کیا تم لوگ پھوٹ پھوٹ کر اور آہیں بھر بھر کے روتے ہو؟ ہاں! اللہ کی قسم! اب تم لوگ بے حد روؤ گے اور بہت کم ہنسو گے۔ تم لوگوں نے اپنے چہروں پر وہ عیب اور رسوائی ملی ہے، جس کو اب تم قیامت تک بھی دھو نہ سکو گے اور بھلا تم رسوائی کا یہ داغ دھو بھی کیسے سکتے ہو کہ تم لوگوں نے خاتم الانبیاء و المرسلینﷺ کے لخت جگر کو مار ڈالا ہے‘‘ (مع الحسین فی نہضتہ: صفحہ 295 و ما بعدہا)

ایک روایت میں ہے کہ سیدہ رضی اللہ عنہا نے کجاوے کی پالکی سے جھانک کر دیکھا، تو ارشاد فرمایا:

’’اے اہل کوفہ! ذرا ٹھہرو! تمہارے مرد لوگ تو ہمیں قتل کرتے ہیں، جبکہ تمہاری عورتیں ہم پر روتی ہیں، پس تمہارے اور ہمارے درمیان فیصلہ کرنے والا اللہ ہے، جو روزِ قیامت فیصلہ کر دے گا۔‘‘ (نفس المہموم لعباس القمی: صفحہ 365)


صفحہ 3 از 3