Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

جمعہ کے دن دوسری اذان کا اضافہ

  علی محمد الصلابی

رسول اللہﷺ‏ کا ارشاد ہے:

علیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین من بعدی

(ابوداود، السنۃ: حدیث، 4607 الترمذی، العلم: حدیث، 2676)

ترجمہ: تم میری سنت اور میرے بعد خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی سنت کو لازم پکڑو۔

یہ اضافہ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی سنت میں سے ہے اور بلاشبہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ خلفائے راشدین میں سے ہیں۔ آپؓ نے اذان کے اضافہ میں مصلحت سمجھی تاکہ لوگوں کو نمازِ جمعہ کے وقت کے قریب ہونے سے آگاہ کر دیا جائے کیوں کہ مدینہ کی آبادی پھیل چکی تھی مسجد کی اذان کی آواز کا پہنچنا ممکن نہ رہا تھا اس لیے آپؓ نے اس سلسلہ میں اجتہاد کیا اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپؓ کی موافقت کی اور اس پر عمل جاری رہا کسی نے مخالفت نہیں کی یہاں تک کہ خلافتِ سیدنا علی المرتضیٰ و سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہما اور خلافتِ بنو امیہ اور بنو عباس میں اس پر عمل ہوتا رہا اور آج تک اس پر عمل جاری ہے، لہٰذا باجماع مسلمین یہ سنت ہے۔

(حقبۃ من التاریخ، عثمان الخمیس: صفحہ، 88 یہاں یہ کہنا کہ کسی نے مخالفت نہیں کی صحیح نہیں خود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جیسے جلیل القدر صحابی نے اس کی مخالفت کی تھی۔ دیکھیے: فتح الباری۔ لہٰذا اس کو اجماعی مسئلہ کہنا صحیح نہیں ہے۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ جن حالات اور ظروف میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس اذان کا حکم دیا تھا ان حالات میں اس پر عمل کیا جائے گا لیکن دورِ حاضر میں یہ حالات نہیں رہے۔ لاؤڈ اسپیکر کی ایجاد اور مساجد کی کثرت نے اس کی ضرورت کو ختم کر دیا ہے لہٰذا اب اسی پر عمل ہو گا جو نبی کریمﷺ‏ اور حضرت ابوبکر صدیق و حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی سنت رہی ہے۔ مترجم)

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اس اذان کو رسول اللہﷺ‏ کی نمازث فجر میں وقت سے قبل پہلی اذان سے لیا تھا جو آپﷺ‏ نے سوئے ہوئے کو بیدار کرنے، قیام کرنے اور روزہ رکھنے والوں کو تیار کرنے کے لیے مشروع کیا تھا، لہٰذا آپؓ نے اس سلسلہ میں رسول اللہﷺ‏ کی سنت ہی کی پیروی کی ہے اور آپﷺ‏ ہی کے طریقہ سے اخذ کیا ہے۔ البتہ اہلِ علم کا اس سلسلہ میں اختلاف ہے کہ آیا آپؓ نے اس کو جمعہ کے وقت سے قبل دلایا تھا جیسا کہ فجر میں ہوتا ہے یا اس کو دخولِ وقت کے بعد دلایا تھا؟ حافظ ابنِ حجر رحمۃ اللہ کا رجحان ہے کہ یہ اذان دخولِ وقت کی اطلاع کے لیے تھی۔ چنانچہ آپؒ فرماتے ہیں:

یہ بات ظاہر ہو گئی کہ حضرت عثمان بن عفانؓ نے دیگر نمازوں پر قیاس کرتے ہوئے دخولِ وقت کی اطلاع کے لیے اس اذان کو ایجاد کیا تھا، اس سلسلہ میں آپؓ نے جمعہ کو باقی نمازوں کے ساتھ ملا دیا اور اس کی خصوصیت کو خطیب کے منبر پر تشریف فرما ہونے کے وقت کی اذان کے ذریعہ سے باقی رکھا اور اس کے اندر اصل سے معنیٰ کا ایسا استنباط ہے جو اسے باطل قرار نہیں دیتا اور لوگوں نے جو جمعہ کے وقت سے قبل دعا، ذکر اور صلاۃ و سلام وغیرہ ایجاد کر لیا ہے تو یہ بعض علاقوں میں ہے اور بعض میں نہیں لیکن سلف صالحین کی اتباع ہی بہتر ہے۔

(فتح الباری: جلد، 4 صفحہ، 345)

جن حضرات کی یہ رائے ہے کہ آپؓ نے یہ اذان دخولِ وقت سے قبل دلائی تھی ان کا کہنا ہے کہ اس سے مقصود فجر کی اذانِ اوّل کے طرز پر جمعہ اور اس کی طرف سعی کی اطلاع دینا ہے۔ لہٰذا اگر یہ دخولِ وقت کے بعد ہو تو مقصود حاصل نہ ہو گا اور جمعہ کے وقت میں تاخیر لازم آئے گی اور یہ خلافِ سنت ہے اور اسی صورت میں ان بدعات سے نجات مل سکتی ہے جسے لوگوں نے تذکیر اور ذکر وغیرہ کی شکل میں ایجاد کر رکھا ہے جس کی طرف حافظ ابنِ حجرؒ نے اپنے کلام میں اشارہ کیا ہے اور صرف یہ کہنے پر اکتفا کیا ہے کہ سلف صالحین کی اتباع ہی بہتر ہے۔

(السنۃ والبدعۃ، عبداللہ باعلوی الحضرمی: صفحہ، 132، 133)