سجدۂ تلاوت
علی محمد الصلابیحضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا موقف سجدہ تلاوت سے متعلق یہ ہے کہ یہ قرآن کی تلاوت کرنے والے اور قرآن سننے والے دونوں پر واجب ہے لیکن جو بلا قصد و ارادہ سنتا ہے اس پر سجدہ تلاوت نہیں۔ آپؓ کا گزر ایک قصہ گو کے پاس سے ہوا اس نے آیتِ سجدہ کی تلاوت کی تاکہ اس کے ساتھ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سجدہ کریں تو حضرت عثمان بن عفانؓ نے فرمایا: سجدۂ تلاوت اس پر ہے جو کان لگا کر سنے پھر آپؓ چلے گئے اور سجدہ نہیں کیا۔
(الخلافۃ الراشدۃ والدولۃ الامویۃ، د۔ یحییٰ الیحییٰ: صفحہ، 444)
آپؓ کا قول ہے: جو کان لگا کر سنے سے مقصود جو قصداً سنے نیز آپؓ نے فرمایا: یقیناً سجدۂ تلاوت اس پر ہے جو اس کے لیے بیٹھے۔
(موسوعۃ فقہ عثمان بن عفان: صفحہ، 168)
اور حضرت عثمانِ غنیؓ سے مروی ہے کہ حائضہ عورت جب آیتِ سجدہ سنے تو اس کے لیے اشارہ کرے اور چھوڑے نہیں لیکن نماز کی طرح سجدہ نہ کرے۔
(موسوعۃ فقہ عثمان بن عفان: صفحہ، 168)