ساحلی علاقوں میں نماز جمعہ
علی محمد الصلابیامام لیث بن سعد رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: ہر شہر اور بستی جس میں جماعت ہو سکتی ہے وہاں جمعہ قائم کیا جائے گا کیوں کہ عہدِ فاروقی اور عثمانی میں ان کے حکم سے مصر اور اس کے ساحلی علاقہ کے لوگ جمعہ قائم کرتے تھے اور ان میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی موجود ہوتے تھے۔
(فتح الباری: جلد، 2 صفحہ، 441)
خطبہ جمعہ میں استراحت:
حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریمﷺ، سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عمر فاروق اور سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، لیکن حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کو جب کھڑا ہونا مشکل ہو گیا تو آپؓ کھڑے ہو کر خطبہ شروع فرماتے پھر بیٹھ جاتے پھر جب سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کا دور آیا تو آپؓ پہلا خطبہ بیٹھ کر اور دوسرا کھڑا ہو کر دیتے۔
(الخلافۃ الراشدۃ، یحییٰ الیحییٰ: صفحہ، 441 حضرت عثمانؓ و حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کا بیٹھ کر خطبہ دینا عذر کی وجہ سے تھا۔ (مترجم)
رکوع سے قبل دعائے قنوت
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جس نے سب سے پہلے رکوع سے قبل دعائے قنوت (ہمیشہ) پڑھنا شروع کی وہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں تاکہ لوگوں کو رکعت مل جائے۔
(الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ، 444 فتح الباری: جلد، 2 صفحہ، 560 ویسے سنت یہ ہے کہ وتر میں رکوع سے قبل اور نازلہ میں رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھی جائے۔ (مترجم)