شیعہ فقیر کو زکوٰۃ دینے کا حکم
سوال: ہمارے یہاں آسٹریلیا میں خیموں میں مسلمانوں کے ساتھ شیعہ بھی مقیم ہیں، لیکن مقامی لوگ ان کے عقائد سے نا واقف ہیں، معلوم نہیں کہ ان کے عقائد کفریہ ہیں یا نہیں، جبکہ وہ تنگدست و محتاج ہیں، تو کیا ایسے شیعہ لوگوں کو جن کے عقائد معلوم نہیں زکوٰۃ کی رقوم دے سکتے ہیں یا نہیں؟
جواب: بعض مفتی حضرات کے نزدیک شیعہ عقائدِ کفریہ کی وجہ سے کافر ہیں، لہٰذا ان کو زکوٰۃ نہیں دینی چاہیے، اگر کسی نے زکوٰۃ دے دی تو ادا نہیں ہوگی۔ البتہ مولانا حسین احمد مدنی صاحبؒ کے نزدیک ان کے علماء کافر ہیں اور عوام اور جُہال عقائد سے نا واقفیت کی بناء پر فاسق ہیں، ان کو زکوٰۃ دینا جائز ہوگا، بشرطیکہ وہ مسلمانوں کے خلاف استعمال نہ کرتے ہوں۔
حضرت مولانا مفتی رشید احمد صاحبؒ فرماتے ہیں کہ:
شیعہ اور قادیانی کافر ہیں، بلکہ دوسرے کفار سے بھی بدتر ہیں، اور کافر کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔ شیعہ اور قادیانی کو زکوٰۃ دینا سخت گناہ ہے اور زکوٰۃ ادا نہ ہوگی بلکہ ان کو کسی قسم کا بھی صدقہ دینا جائز نہیں۔
فتاویٰ شیخ الاسلام میں ہے کہ: شیعہ مسلمان ہے یہ کافر، مسئلہ قابلِ غور اور مختلف فيه ہے۔ حضرت مولانا عبد الشکور صاحبؒ اور بہت سے علماء ان کے کافر ہونے کے قائل ہیں، اور بعض متوقف ہیں، بعضوں کا قول فیصل ہے کہ ان کے علماء کافر ہیں اور جہلاء فاسق ہیں۔ یقیناً قرآنِ کریم میں تحریف کے ماننے والے اللہ تعالیٰ کے علم جزئیات کا انکار کرنے والے بداء کے قائل ہونے والے کافر ہیں۔ علیٰ ھٰذا القیاس سیدہ عائشہ صدیقہؓ پر تہمت رکھنے والے وغیرہ وغیرہ۔
(فتاویٰ دارالعلوم زکریا: جلد، 3 صفحہ، 681)