Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حج تمتع سے ممانعت

  علی محمد الصلابی

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے افضل پر عمل کی خاطر لوگوں کو تمتع و قران سے منع کر دیا تھا آپؓ اِفراد کو افضل سمجھتے تھے ورنہ آپؓ پر یہ مخفی نہیں تھا کہ انسان کو اس بات کا اختیار ہے کہ اِفراد، قران اور تمتع میں سے جس کو چاہے اختیار کرے، لیکن آپؓ افضل پر عمل کرانا چاہتے تھے۔ تمتع و قران کا ابطال مقصود نہیں تھا۔ چنانچہ سیدنا مروان بن حکم سے مروی ہے کہ میں حضرت عثمان بن عفان و حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا۔ حضرت عثمان بن عفانؓ لوگوں کو تمتع و قران سے روک رہے تھے جب سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے یہ کیفیت دیکھی تو حج و عمرہ کا ایک ساتھ تلبیہ پکارا اور فرمایا: میں نبی کریمﷺ‏ کی سنت کو کسی کے قول کی بنیاد پر نہیں چھوڑ سکتا۔ (صحیح البخاری، کتاب الحج: حدیث، 1563) سیدنا عثمان بن عفانؓ نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے اس مؤقف پر نکیر نہیں فرمائی کیوں کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کو یہ خطرہ لاحق ہو گیا تھا کہ کہیں لوگ سیدنا عثمانِ غنیؓ کی اس ممانعت سے تمتع قران کو باطل نہ سمجھنے لگیں اس لیے آپؓ نے حج و عمرہ کا احرام باندھتے ہوئے فرمایا میں کسی کے قول کی بنیاد پر نبی کریمﷺ‏ کی سنت کو نہیں چھوڑ سکتا تاکہ اس کے جواز و سنت کو واضح کر دیں بہرحال دونوں ہی مجتہد اور اجر کے مستحق ہیں۔

(شہید الدار عثمان بن عفان: صفحہ، 86)

اس حدیث کے ظاہری فوائد میں سے یہ ہیں:

٭ علماء کا علم کی اشاعت اور مسلمانوں کی نصیحت کی خاطر حکماء و امراء سے مناظرہ۔

٭ جن مسائل میں اجتہاد کی گنجائش ہے ان میں علماء کے اجتہاد کے لیے امراء کی وسعتِ قلبی۔

٭ ایک مجتہد دوسرے مجتہد کو اپنی اتباع پر مجبور نہیں کر سکتا، اسی لیے سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ خاموش رہے۔

٭ قول و عمل پر علم مقدم ہے۔

(شہید الدار عثمان بن عفان: صفحہ، 86 نیز اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ کسی کے قول کی بنیاد پر سنتِ رسول اللہﷺ‏ کو ترک نہیں کیا جا سکتا، سنتِ رسول اللہﷺ‏ امتی کے قول پر مقدم ہے۔ (مترجم)