Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

عام الرمادہ قحط سالی کے سال میں چوری کی سزا کا حکم

  علی محمد الصلابی


عام الرمادۃ میں حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کے غلاموں نے ایک ’’مزنی‘‘ آدمی کی اونٹنی چوری کر لی اور اسے ذبح کر کے کھا لیا۔ جب معاملہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا تو آپؓ نے غلاموں کو طلب کیا اور انہوں نے محفوظ مقام سے اونٹنی کی چوری کا اعتراف کیا۔ چوری کرنے والے عاقل، بالغ اور مکلفِ شریعت تھے۔ انہوں نے چوری کرنے کی کسی اضطراری ضرورت کا بھی دعویٰ نہیں کیا۔ چنانچہ آپؓ نے کثیر بن الصلت کو حکم دیا کہ ان کے ہاتھ کاٹیں، لیکن چونکہ آپؓ قحط سالی اور لوگوں کی بھوک کا مشاہدہ کر رہے تھے اس لیے ان کے لیے عذر تلاش کرتے ہوئے ان کے آقا حضرت حاطبؓ سے کہا: مجھے لگتا ہے تم انہیں بھوکا رکھتے تھے؟ پھر اسی پر بس کیا اور ہاتھ کاٹنے کا حکم منسوخ کر دیا اور حضرت حاطبؓ سے کہا کہ ’’مزنی‘‘ کو اس کی اونٹنی کی دگنی قیمت یعنی 800 آٹھ سو درہم ادا کرو۔ 

(المنتقیٰ: شرح الموطأ: الباجی: جلد 6 صفحہ 63)اس طرح آپؓ نے اضطراری حالت دیکھ کر ان سے چوری کی حد ساقط کر دی۔

(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 148)