پاگل زانیہ عورت
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس ایک پاگل عورت لائی گئی جس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا۔ آپؓ نے اس کے بارے میں لوگوں سے مشورہ لیا اور اسے رجم کرنے کا حکم دے دیا، ادھر سے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا تو کہا: اسے واپس لے جاؤ اور پھر آپؓ عمرؓ کے پاس آئے اور کہا: کیا آپ کو معلوم نہیں کہ یہ ’’مرفوع القلم‘‘ میں سے ہے، اور پھر اس سلسلے کی پوری حدیث سنائی۔
حدیث اس طرح ہے: ’’رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَـلَاثَۃٍ۔
آخر میں حضرت عمرؓ نے کہا کہ ہاں، یہ ضرور ہے۔ حضرت علیؓ نے کہا: پھر یہ کیوں رجم کی جا رہی ہے؟ چنانچہ آپؓ نے اسے چھوڑ دیا
(الخلافۃ الراشدۃ: دیکھئے یحییٰ الیحییٰ: صفحہ 351، عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 148) اور اللہ اکبر کہنے لگے۔
(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 148)