Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

کچھ عورتیں زنا پر مجبور کی گئیں

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس ریاست کی کچھ باندیاں لائی گئیں، انہیں ریاست کے کچھ غلاموں نے زنا کرنے پر مجبور کیا تھا، تو آپؓ نے غلاموں کو کوڑے لگائے اور لونڈیوں کو چھوڑ دیا۔ 

(السنن الکبرٰی: البیہقی: جلد 8 صفحہ 35، المغنی: جلد 12 صفحہ 217)

اسی طرح آپؓ کے پاس ایک ایسی عورت لائی گئی جس سے زنا کی حرکت سرزد ہو گئی تھی، عورت نے عرض کیا: میں سو رہی تھی اور اس وقت بیدار ہوئی جب کہ آدمی مجھ پر غالب آ چکا تھا۔ چنانچہ آپؓ نے یہ سن کر اس سے درگزر کیا اور سزا نہیں دی۔ 

(السنن الکبرٰی: البیہقی: جلد 8 صفحہ 236، المغنی: جلد 12 صفحہ 218)

آپؓ نے یہ مؤقف اس لیے اختیار کیا کہ یہ واقعہ شبہ پر قائم تھا اور حدود و قصاص کو شبہ کی بنیاد پر نافذ نہیں کیا جاتا۔

بہرحال جبر و اکراہ خواہ زبردستی قابو میں کر لینے کی صورت میں ہو یا قتل وغیرہ کی دھمکی کے ذریعہ سے ہو دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ چنانچہ آپؓ کے عہد خلافت میں ایک عورت نے ایک چرواہے سے پانی مانگا، چرواہے نے پانی دینے سے انکار کر دیا اور دینے کے لیے اس سے زنا کی شرط لگا دی۔ چنانچہ اس عورت نے مجبوراً اپنے آپ کو اس کے حوالہ کر دیا، چنانچہ جب یہ قضیہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا تو آپؓ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اس معاملہ میں آپؓ کی کیا رائے ہے؟ آپؓ نے فرمایا: میرے خیال میں اس کی اضطراری حالت تھی، پھر آپؓ نے عورت کو مزید کچھ عطیہ دے کر چھوڑ دیا۔