مرتد سے تعلقات اور دوستی رکھنا
سوال : اگر کوئی شخص مرتد ہوگیا تو اسکے ساتھ تعلقات کا کیا حکم ہے؟
جواب : اگر کوئی شخص مرتد ہو جائے اور دوبارہ اسلام نہ لائے تو اسکا حکم کفر کا ہے اور اسکے ساتھ تعلق رکھنا کافر کے ساتھ تعلق رکھنے کی طرح ہے اور قرآنِ مجید میں کافر کے ساتھ دوستی رکھنے سے منع کیا گیا ہے، مرتد کے بارے میں ارشادِ ربانی ہے:
وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَیَمُتْ وَ هُوَ كَافِرٌ
(سورۃ البقرہ:آیت 217)
لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَۚ
(سورۃ آل عمران:آیت 28)
تفسیر مظہری میں ہے:
یعنی نہ بنائیں مؤمن کافر کو دوست، ایمان والوں کو چھوڑ کر مؤمنوں کو کافروں سے موالات کی ممانعت فرما دی، خواہ رشتہ دار کی صورت میں ہو یا دوستی کی شکل میں یا جہاد اور دینی امور میں طلبِ امداد کے طور پر سب کی ممانعت فرما دی۔
معارف القرآن میں ہے کہ کافروں سے موالات کی 3 صورتیں ہیں:
ایک یہ کہ انکو دینی حیثیت سے محبوب رکھا جائے، یہ تو قطعاً کفر ہے-
دوسری صورت یہ ہے کہ دل سے انکے مذہب اور دین کو بُرا سمجھے لیکن معاملاتِ دنیوی میں ان سے خوش اُسلوبی سے پیش آئے، یہ بالاجماع جائز بلکہ درجہ ایک درجہ مستحسن ہے۔ تیسری صورت ان دونوں صورتوں کے بین بین ہے، وہ یہ کہ دل سے تو ان کے مذہب کو بُرا سمجھے مگر قرابت، دوستی یا دنیوی غرض سے ان سے دوستانہ تعلق رکھے انکی اعانت و امداد کرے، یا کسی وقت مسلمانوں کی جاسوسی کرے یہ صورت کفر تو نہیں مگر شدید گناہ ہے۔
مرتد کے کفر کی وجہ سے اس سے دلی تعلق رکھنا اور اسکے ارتداد کو پسند کرنا، تو یہ قطعاً کفر ہے اسکی کوئی گنجائش نہیں ہے، ہاں اس بناء پر اس سے اس وجہ سے تعلق رکھنا تاکہ وہ دین کی طرف دوبارہ آجائے تو یہ باعثِ ثواب اور مستحسن ہے -
احسن الفتاوىٰ میں ہے کہ:
شیعہ کی جملہ اقسام قادیانی، ذکری، منکرینِ حدیث، انجمن دینداران سب زندیق ہیں۔ جن کے احکام دوسرے کفار بلکہ مرتدین سے بھی زیادہ سخت ہیں،ان کے ساتھ خرید و فروخت کرنا وغیرہ ہر قسم کا لین دین نا جائز ہے اور ان سے دوستانہ تعلق رکھنا اور محبت سے پیش آنا غیرتِ ایمانیہ کے خلاف ہے، حتیٰ الامکان ان کے ساتھ ہر قسم کے معاملات سے بچنا فرض ہے، اگر کسی نے ان کے ساتھ کوئی معاملہ بیع و اجارہ وغیرہ کر لیا تو منعقد نہیں ہوگا۔
البتہ صاحبینؒ کے نزدیک عدمِ جواز کے باوجود نافذ ہو جائے گا بوقتِ ابتلاء ضرورتِ شدیدہ اس قول پر عمل کرنے کی گنجائش ہے۔
معلوم ہوا کہ عدمِ جواز کے باوجود صاحبینؒ کے نزدیک عقد نافذ ہو جائے گا بوقتِ ضرورت شدیدہ صاحبینؒ کے قول پر عمل کرنے کی گنجائش ہےـ اور چونکہ یہاں جنوبی افریقہ میں دارالاسلام نہیں ہے اور نہ مرتد کے لیے شرعی قانون موجود ہے لہٰذا صاحبینؒ کے قول کے مطابق اس کے ساتھ کیا ہوا معاملہ منعقد ہوگا لیکن غیرتِ ایمانی کے خلاف ہونے کی وجہ سے اس سے معاملہ نہ کیا جائےـ البتہ مرتد کے خاندان والے فرد ہوں تو ان کے ساتھ معاملات کر سکتے ہیں ـ
(فتاویٰ دارالعلوم زکریا:جلد1: صفحہ161)