آیت غار پر شیعہ اعتراضات کے جوابات
مولانا اللہ یار خانؒآیت غار پر شیعہ اعتراضات کے جوابات
حضرت مولانا اللہ یار خان رحمہ اللہ نے فرمایا کہ سفرِ ہجرت میں حضرت ابو بکر صدیقؓ کی معیت کے علاوہ قرآن کریم نے ایک اور معیت کا ذکر بھی فرمایا ہے۔ اور وہاں بھی لوگوں نے ٹھوکریں کھائی ہیں اور ٹھوکریں ماری ہیں۔
ارشادِ ربّانی ہے:
مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللہ وَالَّذِینَ مَعَہُ أَشِدَّآء ُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآء ُ بَیْنَہُمْ تَرَاہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللہ وَرِضْوَانًا سِیْمَاہُمْ فِی وُجُوہِہِمْ مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِکَ مَثَلُہُمْ فِی التَّوْرَاۃِ وَمَثَلُہُمْ فِی الاِنْجِیلِ کَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَہُ فَآَزَرَہُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَی عَلَی سُوقِہِ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیظَ بِہِمُ الْکُفَّارَ وَعَدَ االلہ الَّذِینَ آَمَنُوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْہُمْ مَغْفِرَۃً وَأَجْرًا عَظِیمً
(سورۃ الفتح: آیت، 29)
ترجمہ: محمد (ﷺ) اللہ کے پیغمبر ہیں اور جو لوگ آپ کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے مقابلہ میں سخت ہیں اور آپس میں مہربان ہیں ( اے مخاطب) ! تُو اُن کو دیکھے گا ( کبھی) رکوع کر رہے ہیں( کبھی) سجدہ کر رہے ہیں اللہ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں لگے ہیں(اور) ان کے آثار ان کے سجدوں کی وجہ سے ان کے چہروں پہ نمایاں ہیں۔ ان کے یہ اوصاف تورات میں ہیں اور انجیل میں ان کا یہ وصف ایسے ہےجیسے کھیتی کہ اس نے اپنی سوئی نکالی پھر اس نے اس کو مضبوط کیا پھر وہ موٹی ہو گئی پھر اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہو گئی کہ کسانوں کو بھلی معلوم ہونے لگی تاکہ اس سے کافروں کا جی جلائے‘‘۔
مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اسم ِمحمدﷺ کے ساتھ صرف ایک وصف بیان کیا۔۔۔۔۔رسول اللہ ۔ کیونکہ رسالت کے بعد کسی اور وصف کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا مخلوق میں سب سے اعلیٰ وصف یہی ہے۔ اور دراصل وصف بحال متعلقہٖ مقصود تھا ۔ یعنی صحابہؓ کا وصف بیان کرنا مقصود تھا۔
شیعہ اعتراض:
معہ میں مراد ہم مذہب لوگ ہیں اور شیخین وغیرہ حضور ﷺ کے ہم مذہب نہیں تھے۔
الجواب:
یہ سورۃ صلح حدیبیہ کی مرہم بن کر نازل ہوئی لہٰذا صلح حدیبیہ میں جو لوگ ساتھ تھے وہی مُراد ہیں۔ یہ وہی جماعت ہے ، جو بیعتِ رضوان میں تھے۔ جد بن قیس مُنافق خارج ہے۔ کیونکہ اس نے بیعت نہیں کی تھی۔
اَشِدَّاءُ عَلَی الکُفَّارِ رُحَمَاءُ بَیْنَہُمْ
یہ صحابہؓ کے معاملات بیان کئے۔
تَراہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا
یہ صحابہؓ کی عبادات کا بیان ہے۔ اور اسلوب ِ بیان ظاہر کرتا ہے کہ صحابہؓ کی پوری زندگی اور زندگی کا ہر عمل عبادت ہے اس لئےکوئی دیکھنے والا جب اُنہیں دیکھے گا اللہ کی اطاعت میں ہی دیکھے گا۔ اس لئے اطاعت کی انتہائی تذلل کی صورتیں رکوع اور سجود بیان کردیں۔
اس سے پہلے خلافت کا مسئلہ آرہا ہے اس لئے یہاں پر خلیفہ کے اوصاف بیان ہوئے ۔ جس خلیفے کا وصف رحماء بینہم کے تحت ہے وہ کسی پر ظلم نہیں کر سکتا۔ لہٰذا ’باغِ فدک‘ وغیرہ سب جعلی افسانے ہیں۔ عبادات کا پہلو ایسا شاندار ہے ۔ کہ اللہ کریم نے اُنکی عبادت کی فضیلت کی سند دیدی۔
انسان کا سرمایہ دو قوتیں ہیں ۔ شہوی اور غضبی ان کا اپنی حدود کے اندر رہنا معیار فضیلت ہے اور حد سے تجاوز کرنا پستی کی دلیل ہے۔
یہاں بتایا کہ حضور اکرم ﷺکی صحبت اور آپ ﷺ کی تربیت نے صحابہ کرامؓ میں وہ انقلاب پیدا کیا کہ پہلے وہ لوگ ان دو قوتوں کے غلام تھے۔ اب یہ دونوں قوتیں ان کی غلام بن گئی کہ انہیں اللہ کی مقرر کردہ حدود میں ہی محدود رکھتے ہیں۔ بال بھر بھی تجاوز نہیں کرتے۔
یَبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِنَ اللّٰہِ وَرِضْواناً
یعنی جو کچھ یہ کرتے ہیں کوئی ذاتی غرض کوئی مادی مفاد کوئی دنیوی لالچ مدّ نظر نہیں ہوتا بلکہ ان کا مقصود ہر حال میں محض رضائے الٰہی ہوتا ہے۔
ذٰلِکَ مَثَلُہُمْ فِی التَّوْرٰۃِ ج صلے ذٰلِکَ مَثَلُہُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ
حضور اکرم ﷺ کے صحابہؓ اللہ کا وہ محبوب گروہ ہے کہ کُتب ِسابقہ میں جہاں حضورِ اکرم ﷺ کے اوصاف بیان ہوئے وہاں حضور ﷺ کے صحابہ ؓ کےبھی یہی اوصاف بیان ہوئے ۔
یہاں ایک نکتہ سمجھ لیجئے
کُتب سابقہ پر جو لوگ ایمان لائے اگر وہ اپنے وقت میں صحابہؓ کی عظمت کے قائل نہ ہوتے جو اُن کی کتاب میں درج تھی تو کیا وہ لوگ مومن شمار ہوتے؟
جواب ظاہر ہے کہ جب وہ کتاب الٰہی کے ایک جُزو کے منکر ہوئے تو پوری کتاب ہی کے منکر ہوئے لہٰذا ان کے کافر ہونے میں کوئی شبہ کر سکتا ہے۔
اب اس حقیقت پر غور کیجئے کہ صحابہؓ کی پیدائش سے پہلے اُن کی عظمت کو تسلیم نہ کرنے والا جب مسلمان نہیں ہو سکتا تو صحابہؓ کی پیدائش کے بعد جو اُن کی عظمت کا قائل نہ ہو۔ اُسے کیا کہیں گے؟ لفظ یا اصطلاح خود تلاش کر لیجئے۔
’’ازالۃُ الخفا عن خلافۃ الخلفاء‘‘ میں حضرت شاہ ولیؒ اللہ محدث دہلوی نے ذکر کیا ہے کہ جب بیت المقدس پر حملہ ہوا تو ایک پادری نے کہا تم اپنے رسول(ﷺ) کا دوسرا خلیفہ پیش کرو۔
ہمارے پاس اس کے جو اوصاف لکھے ہیں اگر وہی ہوا تو ہم اطاعت قبول کرلیں گے۔
چنانچہ حضرت عمر فاروقؓ آئے ، غلام اونٹ پر سوار تھا اور آپ نے مُہار پکڑی ہوئی تھی 11 پیوند لگے ہوئے تھے۔
پادری ایک تحریر لے کر سامنے آیا۔
حضرت فاروقِ اعظمؓ نے فرمایا کہ اللہ اور مومنوں کا سال ہے وہ واپس چلا گیا ۔( آپؓ کے)ساتھیوں نے پوچھا یہ کیا بات تھی۔
آپؓ نے فرمایا: اسلام سے پہلے ہم یہاں آئے تھے اس پادری نے مجھے دیکھا تھا اور کہا تمہارے ہاں ایک نبی(ﷺ) پیدا ہو گا تم اس کےدوسرے خلیفہ ہو گے۔ تمہاری فوجیں یہاں آئیں گی اس وقت میرا گرِجا بچانا چنانچہ میں نے اُسے لکھ دیا۔ اب یہ پادری وہی تحریر لے کر میرے سامنے پیش کر رہا تھا ۔
تو میں نے وہ جواب دیا جو تم نے سُن لیا تھا۔
یہ ہے
’’ذٰلِکَ مَثَلُہُمْ فِی التَّوْرٰۃِ ج ذٰلِکَ مَثَلُہُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ‘‘
کزرع:
یہ کھیتی اسلام ہے ۔ یا صحابہ کرامؓ۔ ثابت ہوا کہ لا تعداد صحابہ کا ذکر ہے۔
أَخْرَجَ شَطْأَہُ
یہ مکی زندگی ہے۔
فَآَزَرَہُ
قریب ہجرت۔
فَاسْتَغْلَظَ
مدنی زندگی۔
فَاسْتَوَی
دَورِ صحابہؓ کیونکہ’’یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ‘‘ اور’’ لِیَغِیظَ بِہِمُ الْکُفَّارَ ‘‘ کا تعلق اسی دور سے ہے اس مثال کو سمجھنے کے لئے چند مقدمات ہیں۔
پہلا مقدمہ:
ترقی ہو گی۔ علی الاتصال ہوگی۔ درمیان میں کٹے گی نہیں اور اللہ تک پہنچے گی۔
دوسرا مقدمہ:
ترقی کے تمام مدارج عہد نبویؐ میں پورے نہیں ہوئے۔ ’’لیغیظ بھم الکفار‘‘ کا نقشہ قیصر ؔو کسریٰ کی شکست نے پیش کیا اور یہ بعد میں ہوا۔ حدیبیہ کے بعد حضور اکرم ﷺ نے سلاطین کے نام خطوط پہنچے۔ رومی اور ایرانی حکومتوں کا ردّ عمل مختلف تھا۔ ایرانیوں کی فرعونیت کا یہ عالم تھا کہ بازانؔ کے نام حکم بھیجا کہ اس نبی کو گرفتار کرکے یہاں بھیجو۔ اس نے فیروؔز دیلمی کو بھیجا۔ اُس نے حضور اکرم ﷺ پر سامنے آکر کہا۔
’’امدنی ربی ان احملک الیہ ‘‘
کہ میرے رب نے مجھے حکم دیا کہ آپ کو اس کے پیش کروں۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا صبح جواب دیا جائے گا۔صبح کو اسے بلا کر فرمایا کہ میرے رب نے مجھے خبر دی ہے کہ تیرا رب قتل ہو گیا ہے۔
فیروز نے جواب سن کر وقت نوٹ کر لیا۔ جو بعد میں صحیح ثابت ہوا۔
علامہ باذلؔ نے ’’حملہ حیدری‘‘ میں اس کا نقشہ کچھ یوں پیش کیا ہے:
بگوئید اوّل جواب سلام !
رسانید آنگہ زمن ایں پیام
کہ از قدرتِ قادر ذوالجلال
شود پاک گیتی ز کفر و ضلال
ہمہ اہل ایران و اہل یمن !
بزودی در آئیندہ در دین من
معلوم ہوا کہ ایران او ر یمن کو کفر سے پاک کرنے والی جماعت صحابہؓ کی تھی۔ لہٰذا وہی جماعت دینداروں کی تھی۔ اور ان ممالک میں دین پھیلا اور یہ عہدِ فاروقیؓ میں ہوا گویا حضور اکرم ﷺ کی پیشگوئی صحابہؓ کے ہاتھوں عہدِ فاروقیؓ میں پوری ہوئی اور یہ بھی ثابت ہوا کہ دینِ عمرؓ ہی دینِ محمدؐی تھا۔
تیسرا مقدمہ:
حضور اکرم ﷺ کے علی الاتصال 24 سال خلافتِ اصحابِ ثلاثہؓ رہی اگر شیعوں کا دعویٰ خلیفہ بلا فصل تسلیم کیا جائے تو ظاہر ہے کہ ترقی علی الاتصال نہیں ہوئی۔ بلکہ بقول ان کے درمیان میں کفار کی حکومت آگئی اور ترقی انتہاء کو بھی نہ پہنچی۔