کافر کے جنازہ اور تدفین میں شرکت کرنے کا حکم
سوال: کافر کے جنازہ اور تدفین میں شرکت کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: کافر کے جنازے اور تدفین میں شرکت کرنا جائز نہیں ہے۔ البتہ اسکے وارثوں کی تعزیت کرنا جائز ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
وَلَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖؕ-اِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ مَاتُوْا وَهُمْ فٰسِقُوْنَ
(سورۃ التوبہ:آیت 84)
مَا كَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِیْنَ
(سورۃ التوبہ: آیت113)
تفسیر مظہری میں ہے:
ولا تصل المراد باصلوة الدعاء والاستغفار للميت فيشتمل صلاة الجنازة أيضًا لأنها مشتملة علي الدعاء والاستغفار مات ابد ولا تقم علي قبره للدفن اؤ للزيارة۔
معارف القرآن میں ہے کہ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ کسی کافر کے اعزاز و اکرام کے لیے اسکی قبر پر کھڑا ہونا یا اسکی زیارت کے لیے جانا حرام ہے۔ عبرت حاصل کرنے کے لیے ہو یا کسی مجبوری کی وجہ سے ہو تو اسکے منافی نہیں جیسا کہ ھدایہ میں ہے کہ:
اگر کسی مسلمان کا کافر رشتہ دار مرجائے اور اسکا کوئی والی وارث نہیں تو مسلمان رشتے دار اسکو اسی طرح بغیر رعایتِ طریقِ مسنون گھڑے میں دبا سکتا ہے۔
امداد المفتیین میں ہے کہ:
کافر کی عیادت جائز ہے اور جب مرجائے تو اس کے وارثوں کی تعزیت بھی، مگر تعزیت اس مضمون سے کی جائے کہ اللہ تمہیں اس سے بہتر بدلہ عطاء فرمائے۔ لیکن کافر کے جنازے کے ساتھ مرگھٹ تک جانا یہ جائز نہیں، کیونکہ اس میں کافر کی تعظیم و تکریم ہے اور وہ مستحق اہانت ہے نہ کہ مستحق تعظیم، نیز جنازے کے ساتھ جانے کا ایک مقصد شفاعت کرنا بھی ہے اور ظاہر ہے کہ کافر شفاعت کا اہل نہیں۔
احسن الفتاویٰ میں ہے کہ:
مسلم کی غیر مسلم کے جنازے میں شرکت کرنا جائز نہیں، تعزیت کرسکتا ہے۔الغرض مصلحت کی وجہ سے جاسکتا ہے، دعائے مغفرت کے لیے نہیں جاسکتا۔
(فتاویٰ دارالعلوم زکریا: جلد 2: صفحہ822)