طنز و اشارہ میں تہمت لگانے پر حد تہمت کا نفاذ
علی محمد الصلابیسیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ایک آدمی نے دوسرے پر طنز کیا اور کہا: نہ میرا باپ زانی ہے اور نہ میری ماں بدچلن۔ آپؓ نے اس قضیہ کی شکایت سن کر لوگوں سے اس معاملہ میں مشورہ لیا، کسی نے کہا: اس نے اپنے ماں باپ کی تعریف کی ہے اور کچھ لوگوں نے کہا: وہ اپنے والدین کے بارے میں ایسا کہہ کر کچھ دوسری بات کہنا چاہتا ہے یعنی میرے والدین اس طرح نہیں لیکن تمہارے والدین بدکار ہیں ہماری رائے ہے کہ آپؓ اس پر تہمت کی حد نافذ کریں۔ چنانچہ آپؓ نے اس پر اسی 80 کوڑے تہمت کی حد نافذ کی۔
(السنن الکبرٰی: البیہقی: جلد 8 صفحہ 252) گویا سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے تہمت پر مبنی طنز و اشارہ پر حد نافذ کی، اس لیے کہ قرینہ صاف ظاہر تھا، وہ آدمی اپنے فریق مخالف پر اشاروں میں تہمت لگا رہا تھا کیونکہ یہ بات اس نے کافی گالی گلوچ اور لڑائی جھگڑے کے بعد کہی تھی۔ پس سیدنا عمرؓ کی اس سلسلہ میں کارروائی اس سیاست پر مبنی تھی کہ اس سے احمقوں کو تادیبی سزا بھی مل جائے اور پاک دامن لوگوں کی عزتیں محفوظ رہیں۔ آپؓ کی یہ حکیمانہ سیاست تھی جو کتاب و سنت کے خلاف نہ تھی بلکہ شریعت اسلامیہ کی روح و اساسی مقاصد کے بالکل موافق تھی۔
(اولیات الفاروق: صفحہ 439، 440)