شوہر کی وفات پر سوگ واجب ہے
علی محمد الصلابیسوگ میں سے ترکِ زینت اور اس گھر کے علاوہ جس میں شوہر کی وفات کے وقت تھی رات گزارنے سے پرہیز لازم ہے۔ الا یہ کہ کوئی ضرورت و مجبوری آ جائے۔ البتہ اس کے لیے جائز ہے کہ دن کے حصہ میں اپنی ایسی ضروریات کی تکمیل کے لیے نکل سکتی ہے جس کے بغیر چارہ نہ ہو، لیکن اس گھر سے باہر رات نہیں گزار سکتی۔
(موسوعۃ فقہ عثمان بن عفان: صفحہ، 244)
سیدہ فریعہ رضی اللہ عنہا بنتِ مالک بن سنان، سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی بہن سے مروی ہے کہ وہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپﷺ کو خبر دی کہ ان کے شوہر اپنے غلاموں کی تلاش میں نکلے ان غلاموں نے انہیں قتل کر دیا تو کیا میں اپنے میکے جا سکتی ہوں کیوں کہ میرے شوہر نے اپنی ملکیت کا کوئی مکان نہیں چھوڑا اور نہ نان و نفقہ چھوڑا ہے۔ رسول اللہﷺ نے جواب دیا: ہاں جا سکتی ہو، میں لوٹ پڑی ابھی میں حجرہ ہی میں تھی کہ آپﷺ نے مجھے بلایا اور فرمایا: تم نے کیسے کہا؟ میں نے اپنے شوہر سے متعلق پورا قصہ دوبارہ بیان کیا، تو آپﷺ نے فرمایا: عدت پوری ہونے تک اپنے گھر میں ٹھہری رہو، لہٰذا میں نے وہاں چار ماہ دس دن گزارے۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں مجھے بلایا اور اس سلسلہ میں سوال کیا، میں نے آپؓ کو خبر دی تو آپؓ نے اس کی پیروی کی اور اس کے مطابق فیصلہ کیا۔
(موسوعۃ فقہ عثمان بن عفان: صفحہ، 224 الموطأ: جلد، 2 صفحہ، 591)
اسی لیے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ عدتِ وفات میں رات گزارنے کے سلسلہ میں سختی سے حکم دیتے تھے آپؓ کے دور میں واقعہ پیش آیا کہ ایک خاتون کے شوہر کا انتقال ہو گیا وہ عدت کے دوران میکے چلی گئی اور وہاں دردزہ شروع ہو گیا تو آپؓ نے حکم فرمایا کہ اس کو اسی حالت میں لاد کر اس کے گھر واپس لایا جائے۔
(موسوعۃ فقہ عثمان بن عفان: صفحہ، 225)