Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مدہوش کی طلاق

  علی محمد الصلابی

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا مؤقف تھا کہ مدہوش شخص کی باتوں کا اعتبار نہیں اس لیے اس کے عقد و فسخ اور اقرار کا اعتبار نہیں، اس کی طلاق واقع نہ ہو گی کیوں کہ وہ جو کہتا ہے اس کو سمجھتا نہیں اور جو کہتا ہے بلا قصد و ارادہ کہتا ہے اور بلاقصد و ارادہ کوئی چیز لازم نہیں آتی۔

(موسوعۃ فقہ عثمان بن عفان: ص 53 الفتاویٰ: جلد، 14 صفحہ، 72)

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مدہوش اور مجنون کی طلاق کا اعتبار نہیں۔

(الفتاویٰ: جلد، 33 صفحہ، 62 موسوعۃ فقہ عثمان بن عفان: صفحہ، 53)