Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

باپ کا عطیہ اولاد کے لیے

  علی محمد الصلابی

جب باپ اپنی اولاد کو کوئی عطیہ دے تو اس کو چاہیے کہ اس پر گواہ بنا لے۔ جب گواہ بنا لیا تو یہ قبضہ تصور کیا جائے گا اور اس کے بعد اگر وہ چیز باپ کے پاس رہے تو کوئی بات نہیں۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے یہ قول مروی ہے: جس نے اپنے چھوٹے بچے کو عطیہ دیا جو قبضہ نہیں کر سکتا لیکن باپ نے اس کا اعلان کر دیا اور اس پر گواہ رکھ لیا تو یہ جائز ہے اگرچہ باپ ہی کے قبضہ میں رہے۔

(سنن البیہقی: جلد، 6 صفحہ، 170 موسوعۃ فقہ عثمان بن عفان: صفحہ، 288)

لیکن اگر گواہ نہیں بنایا اور نہ بچے کے حوالہ کیا تو یہ عطیہ نافذ نہیں۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اپنی اولاد کو عطیہ دیتے ہیں پھر اگر اولاد کا انتقال ہو جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ تو میرا مال ہے اور میرے قبضہ میں ہے اور اگر خود اس کا انتقال ہوتا ہے تو کہتا ہے کہ میں نے اس کو ہبہ کر دیا ہے، ہبہ و عطیہ وہی ثابت ہو گا جو بچے کے قبضہ میں ہو۔

(الفتاویٰ: جلد، 31 صفحہ، 154)