Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

بے وقوف کے تصرف پر حکم امتناعی

  علی محمد الصلابی

حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ بے وقوف کے تصرف پر حکمِ امتناعی کے حق میں تھے چنانچہ سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما نے ساٹھ ہزار دینار میں ایک زمین خریدی، اس کی اطلاع حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو پہنچی، آپؓ کے خیال میں یہ زمین اتنی قیمت کے لائق نہ تھی اور حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے اس میں صریح دھوکا کھایا ہے، بلکہ بے وقوفوں کا سا تصرف کیا ہے۔ آپؓ نے یہ ارادہ ظاہر فرمایا کہ وہ امیر المؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس جائیں گے اور حضرت عبداللہ بن جعفرؓ کے تصرف پر حکمِ امتناعی نافذ کرا دیں گے۔ جب سیدنا عبداللہ بن جعفرؓ کو اس کی خبر ملی تو وہ جلدی سے سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے پاس گئے جو ماہر تاجر تھے اور عرض کیا میں نے اتنے میں یہ زمین خریدی ہے اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا ارادہ ہے کہ وہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر مجھ پر حکمِ امتناعی نافذ کرا دیں گے۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا میں اس بیع میں تمہارا شریک ہوں۔ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا: میرے بھتیجے نے ایک بنجر زمین ساٹھ ہزار میں خرید لی ہے مجھے اگر وہ جوتے کے عوض ملے تو بھی نہ لوں لہٰذا آپؓ اس پر حکمِ امتناعی نافذ کر دیں اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا میں اس کا اس بیع میں شریک ہوں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بھلا میں ایسے شخص کی بیع پر حکم امتناعی کیسے لگاؤں جس کے شریک سیدنا زبیرؓ ہوں۔

(سنن البیہقی: جلد، 6 صفحہ، 661 موسوعۃ فقہ عثمان بن عفان: صفحہ، 119)

یعنی میں حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما پر ایسے تصرف کی وجہ سے بے وقوفی اور سفاہت کا حکم نہیں لگا سکتا جس تصرف میں حضرت زبیرؓ شریک ہوں کیوں کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ انتہائی ماہر تاجر ہیں ان سے ممکن نہیں کہ وہ بے وقوفی اور سفاہت کے تجارتی تصرف میں شریک ہوں۔

(موسوعۃ فقہ عثمان بن عفان: صفحہ، 119)