بھٹکے ہوئے اونٹ
علی محمد الصلابیامام مالک رحمۃ اللہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ابنِ شہاب زہری رحمۃ اللہ کو فرماتے ہوئے سنا: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور میں گم شدہ اونٹ چھٹے رہتے تھے اور ان کے توالد و تناسل کا سلسلہ جاری رہتا، ان کو کوئی نہیں چھیڑتا تھا یہاں تک کہ جب حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا دور آیا تو آپؓ نے یہ حکم جاری فرمایا کہ ایسے اونٹوں کا تعارف کرایا جائے اگر مالک کا پتہ نہ چلے تو اس کو بیچ دیا جائے اور جب اس کا مالک مل جائے تو اس کو قیمت دے دی جائے۔
(موطا مالک: صفحہ، 648، 649 طبعۃ دارالآفاق الجدیدۃ)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا فعل صحیحین میں سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کی اس روایت کے مطابق تھا کہ ایک اعرابی نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور رسول اللہﷺ سے گری پڑی اشیاء سے متعلق سوال کیا تو آپﷺ نے فرمایا:
اعرف عفاصھا و وکاء ہاثم عرف سنۃ، فان جاء صاحبھا و الا فشأنک بہا
ترجمہ: اس کے برتن کی ساخت اور اس کے بندھن کو ذہن میں رکھو پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرتے رہو اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے اس کا مال واپس کر دو ورنہ اپنی ضروریات میں خرچ کر لو۔
اس شخص نے عرض کیا بھٹکی ہوئی بکری سے متعلق آپﷺ کا کیا فرمان ہے؟ آپﷺ نے فرمایا:
ھی لک او لأخیک او للذئب
ترجمہ: وہ تمہاری ہو گی یا تمہارے بھائی (مالک) کی ہو گی ورنہ پھر بھیڑیا اٹھا لے جائے گا۔
اس شخص نے بھٹکے ہوئے اونٹ سے متعلق دریافت کیا تو آپﷺ نے فرمایا:
ما لک ولھا معھا سقاء وھا و حذاء ھاترد الماء و تأکل الشجر حتی یلقاھا ربھا۔
ترجمہ: تمہیں اس سے کیا سروکار، اس کے ساتھ خود اس کا مشکیزہ ہے اس کے کھر ہیں پانی پر خود ہی پہنچ جائے گا اور خود ہی درخت کے پتے کھا لے گا اور اس طرح خود اس کا مالک اسے پا لے گا۔
(صحیح البخاری، کتاب اللقطۃ: حدیث، 2427، 2428، 2429)
استاذ حجوی کا خیال ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا یہ اجتہاد مصلحتِ مرسلہ پر مبنی تھا کیوں کہ آپؓ نے دیکھا کہ لوگ بھٹکے ہوئے اونٹوں پر ہاتھ ڈال رہے ہیں تو آپؓ نے ان کی حفاظت کی خاطر چرواہا مقرر کر دیا جو اس طرح کے بھٹکے ہوئے اونٹوں کو جمع کرے پھر مصلحتِ عامہ کے پیشِ نظر ان اونٹوں کو بیچ دیا جائے۔
(الفکر السامی: جلد، 1 صفحہ، 245)
لیکن استاد عبدالسلام سلیمانی نے اس قول کی یوں تردید فرمائی ہے: استاذ حجوی کے قول کو تسلیم کرنا مشکل ہے کیوں کہ مصالح مرسلہ ان مصالح کو کہتے ہیں جن کے اعتبار اور عدمِ اعتبار کی تنصیص شارع نے نہ کی ہو جب کہ رسول اللہﷺ نے بھٹکے ہوئے اونٹوں سے متعلق حکم صادر فرما دیا ہے جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث سے واضح ہے لہٰذا یہ معتبر مصلحت ہے جس کی تنصیص رسول اللہﷺ نے بذاتِ خود کر دی ہے، لہٰذا یہ کہنا صحیح نہیں کہ حضرت عثمان بن عفانؓ نے بھٹکے ہوئے اونٹوں سے متعلق جو کیا وہ مصالح مرسلہ میں شمار ہو گا کیوں کہ مصلحتِ مرسلہ نص کے مقابلہ میں نہیں ہو گی۔
اور جو چیز یہاں سے واضح ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت عثمان بن عفانؓ کا اجتہاد یہاں پر مصلحت عامہ پر مبنی تھا مصلحتِ مرسلہ پر نہیں اور اس قضیہ میں اجتہاد کی گنجائش ہے اور یہ ان قضایا میں سے ہے جن میں حالات و ازمان کے تغیر سے حکم متغیر ہو جاتا ہے اور بھٹکے ہوئے اونٹوں کے مالکین کی مصلحت کے پیشِ نظر اس کے حکم میں تغیر پیدا ہو سکتا ہے۔ بظاہر اس قضیہ میں حکم کی علت ان اونٹوں کی حفاظت ہے خواہ اعیان کی شکل میں ہو یا قیمت کی شکل میں اور دونوں صورتوں میں مصلحت موجود ہے اور بلاشبہ سیدنا عثمانِ غنیؓ کا ہدف مصلحتِ عامہ کو برقرار رکھنا تھا کیوں کہ آپؓ نے دیکھا کہ اونٹوں کو اسی طرح چھوڑ دینا جیسا کہ رسول اللہﷺ کے دور میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور تک تھا اونٹوں کا ضیاع تھا کیوں کہ لوگوں کے اخلاق بدل چکے تھے اور وہ اس طرح کے بھٹکے ہوئے اونٹوں پر ہاتھ صاف لگے تھے اس لیے آپؓ نے اس راستے کو بند کرنا چاہا اور بلاشبہ یہ مناسب اجتہاد اور صحیح حکم ہے۔
(الاجتہاد فی الفقۃ الاسلامی: صفحہ، 143، 144)