Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مرض الموت میں مطلقہ عورت کی توریث

  علی محمد الصلابی

سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے مرض الموت میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی تو حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے انقضائے عدت کے باوجود اس کو وراثت میں حصہ عطاء فرمایا۔ روایت ہے کہ قاضی شریح خزاعیؒ نے اس شخص سے متعلق حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو لکھا جس نے مرض الموت میں اپنی بیوی کو تیسری طلاق دے دی تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان کے جواب میں لکھا کہ اگر عورت وفات کے وقت عدت میں ہے تو اس کو وراثت میں حصہ دے دو اور اگر عدت ختم ہونے کے بعد شوہر کا انتقال ہوا ہے تو پھر وہ وراثت میں حصہ دار نہیں ہو سکتی۔ بعد ازیں کہ یہاں دونوں سیدنا عمر بن خطاب اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما کا ایک امر پر اتفاق ہے کہ مرض الموت میں طلاق زوجیت کو زائل نہیں کرتی جو موجبِ وراثت ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس کے انقضائے عدت کو حد مقرر فرمایا اور حضرت عثمان بن عفانؓ نے اس کے لیے کوئی حد مقرر نہیں فرمائی اور فرمایا: اس صورت میں مطلقہ عورت اپنے شوہر کی وارث ہو گی خواہ وہ شوہر کی وفات کے وقت عدت میں ہو یا عدت ختم ہو چکی ہو۔ اس مسئلہ میں کوئی نص وارد نہیں ہے اور اس فیصلہ کا اصل سبب شوہر کے ساتھ اس کے قصد کے بر خلاف معاملہ کرنا ہے کیوں کہ وہ مرض الموت میں بیوی کو طلاق دے کر اس کو وراثت میں حصہ دار بنانے سے فرار اختیار کرنا چاہتا تھا۔

(تاریخ التشریع الاسلامی للخضری: صفحہ، 118 نشأۃ الفقہ الاجتہادی، محمد السایس: صفحہ، 27 الاجتہاد فی الفقۃ الاسلامی: صفحہ، 142)