عزت پر ڈاکا ڈالنے والے یہودی کا خون مباح ہے
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد میں دو نیک نوجوان تھے، جن میں مواخات کا رشتہ تھا۔ ان میں سے ایک غزوہ پر جانے لگا اور اپنے بھائی کو نصیحت کر دی کہ ہماری آل و اولاد کی دیکھ بھال کرے گا۔ چنانچہ ایک رات اس کا بھائی اس کے بیوی بچوں کی خیریت معلوم کرنے گیا تو دیکھا کہ گھر میں ایک چراغ جل رہا ہے اور ایک یہودی اس کے بھائی کی بیوی کے ساتھ گھر میں موجود ہے، اور شعر پڑھ رہا ہے:
واشعث غرۃ الاسلام منی
خلوت بعرسہ لیل التمام
’’میری وجہ سے اسلام کی چمک داغ دار ہو گئی، میں اس اسلامی مجاہد کی بیوی کے ساتھ طویل رات خلوت میں رہا۔‘‘
ابیت علی ترائبہا ویمسی
علی جر داء لاحقۃ الحزام
’’میں اس کی دوشیزہ کے ساتھ اس کے پستانوں سے لپٹ کر رات گزارتا ہوں اور وہ چٹیل تنگ زمین میں رات گزارتا ہے۔‘‘
کان مجامع الربلات منہا
فئام ینہضون الی فئام
’’رانیں اور شرمگاہ اس کی ایسی جماعت ہے جو استقبال کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔‘‘
یہ منظر دیکھ کر مجاہد کا بھائی اپنے گھر آیا، تلوار سونتی اور اپنے بھائی کی بیوی کے پاس پہنچا اور یہودی کو قتل کر دیا، پھر اسے ننگا کر کے راستے میں پھینک دیا۔ جب صبح ہوئی تو یہودیوں نے دیکھا کہ ان کا ایک آدمی قتل کر دیا گیا ہے اور قاتل کا پتہ نہیں ہے۔ چنانچہ وہ سب سیدنا عمرؓ کے پاس آئے اور واقعہ سے آپؓ کو آگاہ کیا۔ آپؓ نے ’’اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ‘‘ کی ندا لگوائی، لوگ اکٹھے ہوئے اور آپؓ منبر پر تشریف لے گئے، پھر اللہ کی حمد و ثناء بیان کی اور کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ اگر کسی شخص کو اس کے قاتل کا علم ہے تو وہ مجھے بتا دے۔ وہ نوجوان کھڑا ہوا اور حضرت عمرؓ کو وہی اشعار پڑھ کر سنائے اور واقعہ کی تفصیل بتائی۔ حضرت عمرؓ نے کہا: اللہ تیرے ہاتھوں کو مضبوط کرے، اور پھر یہودی کا خون مباح قرار دیا۔
(اولیات الفاروق: صفحہ 414)