محرمات الہٰیہ کا تقدس چاک کرنے والے مقتول کی کبھی دیت نہیں دی جائے گی
علی محمد الصلابیامام عبدالرزاق نے اپنی کتاب ’’المصنف‘‘ اور امام بیہقیؒ نے ’’السنن الکبریٰ‘‘ میں روایت کیا ہے کہ ایک آدمی نے ہذیل کے کچھ لوگوں کو دعوت دی، اتفاق سے انہوں نے لکڑیاں لانے کے لیے اپنی لونڈی کو بھیج دیا، میزبان کو وہ لونڈی پسند آ گئی اور اس نے اس کا پیچھا کیا، اور اس سے منہ کالا کرنا چاہا، لیکن لونڈی نے انکار کر دیا، پھر دونوں میں کافی دیر تک لڑائی ہوتی رہی۔ بالآخر لونڈی بھاگ نکلی، دور آ کر ایک پتھر اٹھایا اور اس آدمی کو زور سے مارا، آدمی کا کلیجہ پھٹ گیا پھر وہ مر گیا، وہ لونڈی بھاگ کر اپنے گھر والوں کے پاس آئی اور انہیں واقعہ کی خبر دی، اس کے گھر والے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور واقعہ سے خبردار کیا۔ آپؓ نے اپنے تفتیشی عملہ جانچ کرنے والی ٹیم کو واقعہ کی حقیقت معلوم کرنے کے لیے بھیجا، وہ گئے تو دونوں کی لڑائی کے آثار ملے۔ پھر آپؓ نے فرمایا: اللہ کے دین کے لیے قتل کرنے والے سے کبھی دیت نہیں لی جائے گی، اور آپؓ نے اس عزت کے لٹیرے ظالم کا خون مباح قرار دیا، نہ کوئی قصاص نافذ کیا، نہ دیت اور نہ کفارہ۔