اگر اس میں صنعاء کے تمام لوگ شریک ہوتے تو میں سب کو قتل کرتا
علی محمد الصلابیسیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک بچہ بے خبری کی حالت میں قتل کر دیا گیا تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر اس میں ’’صنعاء‘‘ کے تمام لوگ شریک ہوتے تو میں سب کو قتل کر دیتا اور ایک روایت میں ہے کہ چار آدمیوں نے مل کر ایک بچے کو قتل کر دیا، تو حضرت عمرؓ نے فرمایا: اگر اس میں صنعاء کے تمام لوگ شریک ہوتے تو میں سب کو قتل کرتا۔
(صحیح البخاری: الدیات: حدیث: 6896)
اس واقعہ میں بھی حضرت عمرؓ نے جو فیصلہ کیا ہے اس کے بارے میں قرآن و سنت سے کوئی نص ثابت نہیں ہے اور نہ کوئی دور صدیقی کا واقعہ ایسا ملتا ہے جس میں ایسا فیصلہ ہوا ہو۔ بلکہ آپؓ نے فیصلہ مقاصد شریعت کو سامنے رکھ کر اپنی سمجھ سے صادر کیا، کیونکہ اسلامی شریعت کا مقصد یہ ہے کہ معاشرہ سے بدعنوانی دور رہے اور اس کے امن کی حفاظت و استحکام ہو۔ خون کا معاملہ آسان نہیں ہے، وہ بڑی دقت سے انصاف اور امت کی مصلحت چاہتا ہے۔ پس اس طرح کے واقعات میں اسلامی شریعت کا مقصد یہ ہے کہ اگر اس جرم میں متعدد لوگوں کی شرکت ثابت ہو جائے تو سب پر قصاص نافذ ہو، یہی جمہور علماء، ائمہ اربعہ، سعید بن مسیب، حسن، ابو سلمہ، عطاء، قتادہ، ثوری اور اوزاعی وغیرہم رحمہم اللہ کا مسلک ہے۔
(المغنی: ابن قدامہ: جلد 11 صفحہ 287) نیز یہی بات راجح اور سنت سے قریب تر ہے، کیونکہ حضرت عمرؓ کے عمل اور اجماع صحابہؓ سے اس کی قوی دلیل موجود ہے اور معاشرہ میں انسانی جانوں کی حفاظت اور جرائم پیشہ افراد کو مجرمانہ کارروائیوں سے باز رہنے کی ایک حکیمانہ دھمکی بھی ہے۔
(اولویات الفاروق السیاسیۃ: صفحہ 409)