Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اپنی اولاد کے قاتل اور ذمی کے مسلمان قاتل کا کیا حکم ہے

  علی محمد الصلابی

 سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی اولاد کے قاتل کے لیے یہ فیصلہ کیا کہ وہ دیت ادا کرے۔ 

(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 153۔ المغنی: جلد 11 صفحہ 405) اور جو مسلمان کسی ذمی کو قتل کر دے تو اسے قصاص میں قتل کیا جائے، آپ کے دورِ خلافت میں ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا، شام میں ایک مسلمان نے ایک ذمی کو قتل کر دیا تو آپؓ نے قصاص میں اسے قتل کروا دیا۔ 

(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 153۔ یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ اس کی سند منقطع ہے، مصنف عبدالرزاق: جلد 10 صفحہ 101، میں اس کی سند یوں ہے: ’’عن الثوری عن حماد بن ابراہیم اَنَّ رَجُلًا مُسْلِمًا قَتَلَ رَجُلًا مِنْ اَہْلِ الذِّمَّۃِ الْحِیْرَۃِ فَاَقَادَ مِنْہُ عُمَرُ۔ابراہیم اور عمر کے درمیان انقطاع ہے۔ ابراہیم نے سیدنا عمرؓ کا زمانہ نہیں پایا، اور اسی طرح مصنف ابن ابی شیبہ: جلد 6 صفحہ 363 کی روایت میں مجہول العین راوی ہے: عن ابی نضرۃ قال حُدّثنا ان)