دیت اور قسامہ ایک ساتھ
علی محمد الصلابیقتل کے مقدمہ میں مقتول کے اولیاء یا مدعا علیہم کا اپنے ثبوت میں مکرر قسمیں کھانا ہی ’’قسامہ‘‘ کہلاتا ہے۔
(اولیات الفاروق: صفحہ 264۔ کتاب و سنت کے خلاف ہے، رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے: لَا یُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِکَافِرٍ ’’مسلم کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔‘‘ بخاری: 6915۔ مترجم)
عبدالرزاق، ابن ابی شیبہ اور بیہقی نے شعبی سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی یمن کے دو قبیلے ’’وداعہ‘‘ اور ’’شاکر‘‘( أولیات الفاروق: صفحہ 266) کے درمیان مقتول پایا گیا، تو حضرت عمرؓ نے مقتول کے اولیاء کو حکم دیا کہ مقتول کی جگہ سے دونوں قبائل کی دوری کی پیمائش کریں۔ چنانچہ اسے ’’وداعہ‘‘ سے قریب پایا گیا، آپؓ نے ان سے پچاس قسمیں لیں، ہر آدمی نے حلفیہ بیان دیا کہ نہ تو میں نے اسے قتل کیا اور نہ اس کے قاتل کو جانتا ہوں۔ پھر آپؓ نے ان پر دیت کی ادائیگی کا جرمانہ قائم کیا۔ انہوں نے کہا: امیر المؤمنین! ہماری قسموں نے نہ تو ہمارا مال بچایا، اور نہ ہمارے مال نے ہمیں قسموں سے بچایا۔ تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہی صحیح فیصلہ ہے۔
(السنن الکبرٰی: البیہقی: جلد 8 صفحہ 123، 124۔ اولیات الفاروق: صفحہ 466)